لاہور(خبرنگار) عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے زیرِ اہتمام 45ویں سالانہ دو روزہ آل پاکستان ختمِ نبوت کانفرنس 29 اور 30 اکتوبر 2026 بروز جمعرات و جمعہ مرکز ختمِ نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوگی۔ مرکزی ناظم اعلی مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد مرکز ختم نبوت چناب نگر میں تشریف لا چکے ہیں۔کانفرنس کے انعقاد کے لیے انتظامی اور حفاظتی امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ منتظمین، کانفرنس کے تفصیلی شیڈول کا اعلان آج کریں گے۔ کانفرنس کی مکمل کارروائی ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ براہِ راست نشر کرنے کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک موجود افراد بھی اس دینی و ملی اجتماع کی کارروائی سے مستفید ہو سکیں۔ کانفرنس میں ملک کے مختلف علاقوں سے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام، دینی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، مبلغینِ ختمِ نبوت، اربابِ علم و دانش، وکلا، صحافیوں، ممتاز مقررین، ثنا خوانانِ رسول ۖ، طلب? مدارس اور عوام الناس کی بڑی تعداد کی شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس کو منظم، بامقصد اور مثر بنانے کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور شرکا کی سہولت، آمدورفت اور قیام و طعام کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے مرکزی راہنماں امیر مرکزیہ مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی،مولانا سید سلیمان بنوری کراچی،مولانا اللہ وسایا،مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی،مولانا عزیز الرحمان ثانی،مولانا قاضی احسان احمد،منتظم اعلی کانفرنس مولانا توصیف احمد،،مولانا عبدالحکیم نعمانی،مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا عبدالباسط علوی نے مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ چناب نگر کی سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس ایک اہم دینی،تحریکی،ملی و علمی اجتماع ہے، جس میں عقید? ختمِ نبوت کی اہمیت، دینی شعور کی بیداری، نئی نسل کی اعتقادی و فکری تربیت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی سے متعلق امور کو اجاگر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کانفرنس کے ذریعے تحفظِ ختمِ نبوت سے وابستہ دینی و علمی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دعوت و تبلیغ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی تجدید پر بھی زور دیا جائے گا۔منتظمین کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں توحید و ختمِ نبوت، رفع و نزول حضرت عیسی علیہ السلام، عظمتِ صحابہ کرام و اہلِ بیتِ اطہار، استحکامِ پاکستان، حرمتِ حرمین شریفین، اتحادِ امتِ مسلمہ اور فتن? قادیانیت کی موجودہ صورتِ حال سمیت اہم دینی، ملی اور قومی موضوعات پر بیانات ہوں گے۔ مختلف نشستوں میں مقررین عقید? ختمِ نبوت کے قرآنی و سنت پر مبنی دلائل، سیرتِ طیبہ ۖ میں مقامِ ختمِ نبوت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خدمات، اکابرینِ امت کی تحفظ ختم نبوت پر مبنی دینی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے فکری و اعتقادی چیلنجز پر اظہارِ خیال کریں گے۔پریس بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کانفرنس کا ایک اہم مقصد نئی نسل میں دینی شعور، فکری پختگی اور اعتقادی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ مقررین موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے پھیلنے والے مختلف نظریات اور فکری مباحث کے تناظر میں دینی تعلیم، علمی راہنمائی اور مدلل گفتگو کی اہمیت کو بھی اجاگر کریں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نامور مبلغین مولانا مفتی راشد مدنی مولانا محمد قاسم رحمانی،،مولانا مفتی خالد میر،مولانا عبدالستار گورمانی،مولانا طارق معاویہ،مولانا طیب فاروقی،مولانا ساجد،مولانا عبدالنعیم،مولانا عبدالرشید سیال،مولانا وسیم اسلم مکی،مولانا محمد اقبال ساقی،مولانا محمد یونس،اور مولانا محمد حسین ناصر کے مطابق کانفرنس میں دعوتِ اسلام کے فریضے کی ادائیگی اور قادیانیوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا، جبکہ عقیدہ ختم نبوت پر مبنی دعوت و تبلیغ کے ذریعے دینی راہنمائی کو بھی موضوع بنایا جائے گا۔کانفرنس کے مختلف اجلاسوں کی صدارت امیرِ مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، سجادہ نشین خانقاہِ سراجیہ کندیاں شریف مولانا صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد اور دیگر اکابرِ امت و مشائخِ عظام فرمائیں گے۔ مقررین کی حتمی ترتیب، اجلاسوں کے اوقات اور دیگر پروگراموں کی تفصیلات آج جاری کیے جانے والے باضابطہ شیڈول میں سامنے آئیں گی۔مبلغین ختم نبوت کے مطابق کانفرنس کے انتظامی امور کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے متعدد شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں، جن میں شعب استقبالیہ، شعب مہمانانِ خصوصی، شعب علما و مشائخ، شعب دعوت و تبلیغ، شعب نظم و ضبط، شعب سکیورٹی، شعب ٹریفک، شعب رہائش، شعب طعام و پانی، شعب طبی امداد و فرسٹ ایڈ، شعب صفائی، شعب اسٹیج و پنڈال، شعب تشہیر و اشاعت، شعب میڈیا و کوریج، شعب مالیات و حسابات، شعب رضاکار، شعب بجلی و سانڈ سسٹم اور شعب شکایات و معلومات شامل ہیں۔ ان شعبہ جات کے ذریعے شرکا کی رہنمائی، مہمانوں کے استقبال، قیام و طعام، پنڈال کے انتظامات اور دیگر ضروری امور کو مربوط انداز میں انجام دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
