اسلام آباد (حبہ عباسی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کہا
ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، گزشتہ تین سالوں میں اتنی دہشت گردی نہیں ہوئی جتنی صرف ایک سال میں ہو چکی ہے، جو حکومتی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔*خبریں نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم شروع دن سے یہی کہہ رہے ہیں کہ ملک کے تمام سیاسی اور سیکیورٹی مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے کہ محاذ آرائی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ہمیشہ مذاکرات کو ہی بہترین حل بتاتے ہیں اور آج مولانا فضل الرحمان نے جس طرح ایک بار پھر اپوزیشن اور حکومت دونوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے ہم اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج قومی اسمبلی میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بہت اہم اور حقائق پر مبنی نکات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا ہے کہ کس طرح دو صوبوں کو باقاعدہ فنانسنگ کر کے مدد فراہم کی جا رہی ہے، یہ عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے، اس پر فوری طور پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔مرزا اختیار بیگ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے تین صوبے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد کر رہے ہیں، وہاں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں ہو رہی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک صوبے میں نیشنل ایکشن پلان کو عملا روک دیا گیا ہے اور وہاں اسے منع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ایک صوبہ نیشنل ایکشن پلان جیسے اہم قومی معاہدے سے پیچھے ہٹے گا تو اس کا براہ راست اثر لا اینڈ آرڈر پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گردی کی لہر دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نیشنل ایکشن پلان پر چاروں صوبوں میں یکساں اور بلا امتیاز عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
مرزا اختیار بیگ
