Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • اسرائیلی انتخابات عرب جماعتوں کی کامیابی پر یہودی غصے سے پاگل سربراہوں کی گرفتاری کا مطالبہ
    • مذاکرات بحال کریں امریکہ کا ایران کو خط پاسدران انقلاب کا ابنائے ہر مز امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعوی
    • فضل الرحمن پر جوابی کاروائی مجھے شرم حیا دلاتے ہیں اپ کونسا دودھ کے دھلے ہیں خواجہ آصف اب پیسے نہیں ملتے محسن نقوی
    • اسلام آباد:محموداچکزئی’محسن نقوی’بلاول بھٹو زرداری اورخواجہ آصف قومی اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
    • کارسرکار میں مداخلت، ایمان مزاری ہادی علی کو10,10 سال قید کی سزا
    • سہ ملکی سیریز’ آخری لیگ میچ میں انگلینڈ نے سری لنکا کو شکست دیدی
    • 24 گھنٹوں میں 749 ٹارگٹڈ کاروائیاں 239 حوثی ہلاک
    • لاہور:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے عاصمہ جہانگیر گروپ کے نومنتخب صدر سید امجد علی شاہ و دیگر کا احسن بھون کے ہمراہ گروپ فوٹو۔
    • وزیراعلیٰ کے کسان دوست اقدامات سے پنجاب میں زرعی انقلاب آگیا:عظمیٰ بخاری
    • سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ‘ سید امجد علی صدرمنتخب
    • ملتان:چیئرمین سینٹ سید یوسف رضاگیلانی خبریں کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے۔
    • افغانستان میں پوست کی کاشت میں 4گنا سے زیادہ اضافہ ہوگیا، اقوام متحدہ
    • ڈیزل کی قیمت میں 85پیسے اضافہ’ پٹرول کی قیمت برقرار
    • انگور اڈہ واقعے پر افغان طالبان رجیم کا بیان جھوٹا اور من گھڑت:وزارت اطلاعات
    • گورنر راج آئینی جمہوریت کیلئے جانوں کے نذرانے دینے والے غیر جمہوری کام نہیں کرتے یوسف رضاگیلانی
    • مذاکرات بحال کریں امریکہ کا ایران کو خط پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز پر امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعوی
    • سکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائی فتنہ الہندوستان کا دہشت گرد ہلاک
    • وزیراعلیٰ مریم نواز جنرل ہسپتال’پنزکے آئی سی یو میں فالج اٹیک کے بعد روبہ صحت مریض کوفزیو تھراپی کرتا دیکھ رہی ہیں
    • جنرل ہسپتال میں سٹروک کارڈ تقسیم کسی کا علاج نہیں رکنا چاہیے مریم نواز
    • پٹنہ ہندو غنڈوں کا نمازیوں پر حملہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فضل الرحمن پر جوابی کاروائی مجھے شرم حیا دلاتے ہیں اپ کونسا دودھ کے دھلے ہیں خواجہ آصف اب پیسے نہیں ملتے محسن نقوی

    By Khabrain Newsاکتوبر 30, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر’نامہ نگار خصوصی) وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل مولانا نے کہا کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں، ان کے لیے ریاست اس دن تک ماں ہوتی ہے جب تک مال ملے، جب حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو۔محسن نقوی نے کہا کہ ہمارا دورہ ایران دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا،کل مولانا فضل الرحمان نے غلط کہا کہ ہم دفاعی معاہدے کے لیے ایران گئے تھے، موجودہ بحران سنبھالنے تہران گئے تھے، میں شوق سے نہیں جاتا، مجھے پی ایم نے ٹاسک دیا ہوا ہے جس وجہ سے جاتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے اوپر جے یو آئی کافی دن سے بحث کر رہی تھی، ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتا تھا،کل انہوں نے جب کہا کہ میں ریاست پر تھوکتا ہوں، انہوں نے احترام کی گنجائش نہیں چھوڑی،کچھ چیزیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ اب آپ کو ریاست سے نوکری اور پیسے نہیں ملنے۔ جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے احتجاج پر محسن نقوی نے کہا کامران صاحب آپ کو سننا پڑیگا، انہوں نے اسلام کو کاروبار بنا رکھا ہے، یہ ہر اس چیز کے لیے اسلام کو استعمال کرتے جس میں ان کا ذاتی فائدہ ہو، یہی لوگ آکر کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری جان چھڑائیں۔دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں صلح اور بات چیت کیلئے تہران گئے، ایران میں میری موجودگی ضروری نہ تھی، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا ،مولانا فضل الرحمان جب مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں ۔جمعرات کو قومی اسمبلی اجلا س میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکمران ہوں یا دیگر، تمام سوالات کا مکمل احترام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے مختلف طرزِ عمل پر تبصرہ کیا، مولانا فضل الرحمان نے مجھ پر بھی بھرپور تبصرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ سال فتح کے بعد بات چیت کا کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل نے خطے میں مذاکرات کیلئے کردار ادا کیا، خطے میں صلح اور بات چیت کے لیے تہران گئے، امن کے قیام کیلئے ہمیشہ بات چیت کو اہمیت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران میں کسی متعلقہ معاہدے پر کوئی بات نہیں ہو رہی تھی، تہران میں میری موجودگی ضروری نہیں تھی، مولانا فضل الرحمان کے اٹھائے گئے سوالات کا سوچا تھا کہ جواب دوں گا، تہران میں ہونے والی میٹنگ وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی۔وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے، وزیر دفاع نہیں، عالمی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا جانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس سے اختلاف اور تعاون دونوں نہ رہے ہوں، مجھ پر جو نکتہ چینی کی گئی، وہ غلط جگہ پر کی گئی، مولانا فضل الرحمان نے میرے لحاظ سے جو تحفظات کا اظہار کیا، اس کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا پاکستان کی سیاست میں اہم مقام ہے جس کا احترام کیا جاتا ہے، اعتراضات بھی سیاست کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے بہت سے اختلافات رہے ہیں، اختلافات پسِ پشت ڈال کر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں جب بول رہا ہوتا ہوں تو میرے دماغ میں اپنی کہی ہوئی باتیں رہتی ہیں، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی، جب ہائبرڈ سسٹم سے متعلق بات کرتا ہوں تو مجھے میری ماضی کی تقریر یاد کرائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، ماضی میں مولانا فضل الرحمان حکومتوں کا حصہ بھی رہے ہیں، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں کچھ شرم کرو ، حیا کرو، آپ بھی تو کچھ شرم کریں ، حیا کریں، آپ کون سا آبِ زم زم سے دھلے ہیں، یہاں کوئی بھی اس بات کا دعوی نہیں کر سکتا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی پرانی بات نہیں، دو سال پہلے ان کے پاس کئی عہدے تھے، ماضی کو بھلا کر مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو کم از کم اپنا ماضی بھی دیکھ لینا چاہئے، پی ٹی آئی والے سیاسی یتیم ہوئے ہیں، انہوں نے بھی اپنے آپ کو مولانا کی چھتر چھایا تلے کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کون کون سی مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، مولانا بتا دیں کہ انہوں نے دس سال میں کشمیر کاز کی کیا خدمت کی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے مولانا کی تقریر تحمل سے سنی ہے، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں، یہاں پی ٹی آئی نے یا کسی دوسری جماعت نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا ؟ اور وہاں جانے کی آفر کیوں کی؟کیا آپ وہ وزیر خارجہ تھے؟ اس دورہ کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا۔ خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اسمبلی میں شور شرابا شروع ہوگیا، کچھ وقفے کے بعد خواجہ آصف کو پھر بات کرنے کا موقع دیا۔انہوں نے کہا کہ عزت و آبرو کے ساتھ ان کی تقریر سنی ہے، انہوں نے پرسنل اٹیک کیے، اب مولانا کو خواتین کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے میری اوقات کا پتہ ہے اور جو پوسچرنگ کرتے ہیں ان کا بھی پتہ ہے، مجھ سے ماضی نہ کھلائیں، ملک نے جب بھی دشمن پر فتح پائی، ان کی طرف سے کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، دنیا بھر میں سراہا گیا لیکن ایوان میں بیٹھی اس جماعت نے تعریف نہیں کی، میرا منہ نہ کھلائیں کہ انہوں نے پی ڈی ایم کی حکومت میں کیا کیا وارداتیں کی ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ میں انہیں ایڈوائس کروں گا کہ محنت کریں، حسد نہ کریں، میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں، میں حصے دار ہوں، اگر کے پی میں انہیں حکومت میں حصہ دے دیتے تو کل یہ یہاں ایسی تقریر نہ کرتے، یہ جو بہروپ انہوں نے دھارے ہوئے ہیں، یہ کمائی کے بہانے ہیں، خواتین مردوں کے لیے لڑ رہی ہیں، مرد پتہ نہیں کہاں غائب ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہماری سفارتی کوششوں کو بھی ٹارگٹ کیا، تعریف کے بجائے تنقید کی، حصہ مل جائے گا تو خاموش، حصہ نہ ملے تو پھر شور شروع کر دیا جاتا ہے۔دریں اثناء چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے کا مشورہ دیدیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ارکان کو کمیٹی میں بٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں لیکن اپوزیشن کو بھی فعال کردار کی ذمے داری اٹھانا پڑے گی، آپ کے فنانس کمیٹی میں نہ بیٹھنے سے پارلیمان کمزور ہوا ، پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کہ اپوزیشن سے درخواست ہے آپ کے پاس جو طاقت ہے آپ اسے استعمال کرنا شروع کریں، الیکٹرول ریفارمز پر کمیٹی بناتے ہیں لیکن اپوزیشن شریک نہ ہو تو پھر کیا فائدہ ؟ ۔ قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنا اور انتشار پھیلانا چاہتی تھیں۔سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے تمام معاملات رکھے گئے ہیں، جیل میں دی جانے والی تمام سہولیات کا بھی سپریم کورٹ میں خود انکے وکیل نے بتایا۔انہوں نے کہا کہ جو رپورٹ سپریم کورٹ اور انہیں دی گئی تھی اس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کل نورین نیازی کی طبیعت خراب ہوئی تو انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نورین نیازی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنیں جیل میں اس لئے ہیں کیونکہ وہ انتشار پھیلانا، وہ اسلام اباد پر چھڑائی کرنا چاہتی تھیں۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ سینٹر کامران مرتضی نے کہا اگر ریاست ایسا رویہ نا رکھے تو کچھ نہیں کہیں گے، جب ریاست کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے تو ایسے الفاظ استعمال نہیں ہو سکتے، تھوڑے عرصہ پہلے ایسی ہی باتین شہیدا کے حوالے سے بھی کی گئی تھی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپنی ذاتی انا کو اجتماعی انا اور مفاد میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔قبل ازیں تحریک انصاف کی سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی غیر سیاسی بہنیں گرفتار ہیں، نورین نیازی کی طبیعت خراب ہے، انہیں رات کو ہارٹ اٹیک ہوا، نورین نیازی کی بیٹی کو والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا قصور صرف بھائی کی رہائی کے لیے مہم چلانا ہے۔
    فلک ناز چترالی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو رہا کیا جائے،اتنا ظلم تو شاید مارشل لا کے دور میں بھی نہیں ہوا، مریم نواز سے درخواست ہے کہ خواتین پر مظالم بند کیے جائیں، ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر رات چار بجے پولیس نے چھاپہ مارا، اقبال آفریدی کے گھر سے خواتین کو اٹھایا گیا، ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خواتین کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ سینٹ کے تقدس کو آج ایک وزیر نے پامال کیا ہے، کبھی یہ وزیر وزیر کھیل ہوتے ہیں کبھی یہ وزیر دفاع ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بیانیہ بنا کر لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔کامران مرتضی نے کہا کہ کچھ لوگ وہ بیاینہ واپس ہمارے ساتھ شئیر کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے وہ بات نہیں کی تھی جو بیاینہ بنایا جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان نے ریاست مخالف یا کوئی غلط بات نہیں کی۔سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ اج بلاول صاحب نے اچھی بات کی کہ ایوان کو عزت دیں، ہاؤس کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ تو مشرف کے دور میں بھی نہیں دیکھنے میں آیا، یہ ملک ہمارا ہے ہم پیار کرتے ہیں اس سے، کل کوئی دن آیا تو یہ لوگ آپ کو ملک سے باہر ملیں گے، جو لوگ ملک کے ساتھ وفا دار ہے ان کے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھیں۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ آپ سے جب بات کرتے ہیں آپ گالیاں دینا شروع ہوجاتے ہیں، حنیف عباسی کعبہ شریف گئے ہیں بتائیں کتنے پیسے دیئے ووٹ کیلئے؟ میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس حکومت میں کتنی کرپشن ہوئی ایک کمیٹی بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف، پیپلز پارٹی سمیت آپ سب سن رہے ہیں اس ایوان کو اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سر چشمہ بنائیں ، آپ کو یہ سارے ووٹ دینگے، آپ پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں، آپ کیا بنگال کے بعد اس کو بھی توڑنا ہے؟ خدا کو مانو، کیوں اس کو توڑنا چاہتے ہو؟ اس کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے آج تک پاکستانی قوم نہیں بنائی، 15 ہزار سے 20 ہزار آپ کا مزدور نہیں کما رہا ، 6 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، آپ کہتے ہیں اسلام کا قلعہ ؟ کونسا قلعہ ؟ یہاں پیسے والا 40 ہزار میں گاڑی کی پٹرول ٹینکی فل نہیں کراسکتا اور غریب کو 20 ہزار میسر نہیں، کیا ایسے یہ ملک چل سکتا ہے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔محمود اچکزئی نے کہا کہ افغانستان آپ کا اتنا اچھا دوست تھا کہ بھٹو نے اپنی کابینہ کا اجلاس وہاں کیا ، اگر مولانا نے افغانستان جانے کیلئے تیار ہوا تو ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں،طالبان کو ہم نے قومی اثاثہ قرار دیا تھا یہ فوری طور پر ختم نہیں ہوسکتے، فقط چیخ و پکار اور گالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔آپ بتائیں ایران میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اعتماد میں لیں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے، اب کوئی نیا نہیں آئے گا، ہم ہی سب ہیں اور ماضی کو بھول جائیں، آپ فرعون سے طاقت ور نہیں ہیں، وہ بھی ہار گیا تھا، نہ آپ اتنے اچھے ہیں نہ ہم اتنے برے ہیں، مل کر بیٹھیں۔
    جوابی وار

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      مذاکرات بحال کریں امریکہ کا ایران کو خط پاسدران انقلاب کا ابنائے ہر مز امریکی ڈرون تباہ کرنے کا دعوی

      اسلام آباد:محموداچکزئی’محسن نقوی’بلاول بھٹو زرداری اورخواجہ آصف قومی اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں۔

      کارسرکار میں مداخلت، ایمان مزاری ہادی علی کو10,10 سال قید کی سزا

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.