لاہور ،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے حوالے سے ”محتاط حد تک پرامید” ہے، یہ بات انہوںنے جمعہ کے روز اپنے
ایک انٹرویو میں کہی۔ یہ انٹرویو اس ہفتے تہران کے دورے پر جانے والے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے بعد ان کا پہلا انٹرویو تھا۔چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اس ماہ دو بار تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا حالیہ ترین دورہ پیر کے روز ہوا، جس میں وہ سعودی اور ترک حکام کے ہمراہ تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ دورے ایک مثبت علامت ہیں، تو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہااگر اس میں کوئی مثبت پہلو نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دو بار کیوں جاتے؟ لہٰذا، جی ہاں، بالکل۔لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے مزید کہاہم جس اصطلاح کا استعمال کریں گے وہ ہے ‘محتاط پرامیدی’ جو لفظ ہم استعمال کریں گے وہ ہمیشہ محتاط طور پر پرامید ہوتا ہے، لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے مزید کہا کہ اب بھی ”طاقتور بگاڑنے والے اور ناقدین” موجود ہیں، جن کا خیال تھا کہ تنازعہ ان کی خدمت کرتا ہے۔راولپنڈی میں بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کیا بات چیت ہوئی یا امریکہ نے اس سفر کی حمایت کی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایران اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، کہا کہ معاہدے کے الفاظ نئے اراکین کی شمولیت پر کوئی پابندی نہیں لگاتے۔انہوں نے کہاجو بھی اجتماعی دفاع (deterrence) اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ وژن رکھتا ہو، تو کیوں نہیں؟ سب کا خیرمقدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنا تینوں بڑی جماعتوں کی سیاسی قیادت کا کام ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جا رہے ہیں، تو ڈی جی آئی ایس پی آر (DG ISPR) نے کہا کہ اس کا انحصار صورتحال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا،ہم یمن کے تنازعے کا حصہ نہیں ہیں، جو کہ یمن کا اندرونی تنازعہ ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں فوج کی قیادت میں بڑے پیمانے پر مہمات چلائی جائیں گی، تو لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے کہا کہ فوج دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس انداز میں نہیں کرتی۔انہوں نے کہا، دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیاں ‘آئی بی اوز’ (IBOs) پر مبنی ہوتی ہیں، یعنی ایسی کارروائیاں جو خفیہ معلومات پر استوار ہوں” ان کارروائیوں میں عمل کی آزادی اور ان کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔دریں اثناء ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی طلبہ اور فیکلٹی ممبران کیساتھ خصوصی نشست کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی آمد پر مختلف جامعات کے طلبہ کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر شریک طلبہ کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو روایتی پختون پگڑی اور چادر بھی پہنائی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے ساتھ ملکی سکیورٹی صورتحال اورعلاقائی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ خصوصی سیشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کے سوالات کے مفصل اور مدلل جوابات دیئے۔طلبہ نے پاک فوج کے شانہ بشانہ رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے اورسکیورٹی کے حوالے سے پاک فوج کلیدی کردارادا کر رہی ہے، اس نشست میں ہمیں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور پراپیگنڈا وارفیئر کے اصل حقائق سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر

