تہران (این این آئی)ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)کا ایک سابق رکن اور عالمِ
دین کو سزائے موت کے دو الگ سزائوں کا سامنا ہے، جن میں سے ایک "اسرائیل کے فائدے کے لیے کارروائیوں کے اجرا” اور دوسرا "ارتداد” کے الزام کے تحت ہے۔احکام کی اطلاع کے بعد قزل حصار عقوبت خانے میں ان کی منتقلی نے، تشدد اور بدسلوکی کی رپورٹس کے درمیان سزائے موت پر عمل درآمد کے امکان سے متعلق حقوقی خدشات کو جنم دیا ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعاون کا الزام مظاہرین کو "صہیونیت کے پیادے” قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان الزامات اور اوصاف میں شامل ہے جنہیں ایرانی حکام مظاہرین کے خلاف استعمال کرتے ہیں، ان حالات میں بھی جہاں اسرائیل کے ساتھ ان کے کسی تعلق یا رابطے کے شواہد موجود نہیں ہوتے۔
