اسلام آباد (آئی این پی )جے یو آئی(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کے اہلخانہ اور قریبی رفقا کیخلاف مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے کی شکایت ایف بی آر میں جمع کرادی گئی۔ 5افراد کے اثاثوں اور مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیاہے۔شکایت میں جے یوآئی کے ایک سینیٹر، لطف الرحمن، ضیاالرحمن، اسعد محمود اور ابرار احمد کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی درخواست کی گئی۔ ایف بی آر سے پانچوں افراد کے اثاثوں، بینک اکائونٹس اور ذرائع آمدن کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شکایت کے مطابق جے یو آئی کے سینیٹر کے ملکی اورغیرملکی کرنسی اکائونٹس، لطف الرحمن کے بینک اکائونٹس اور کاروباری سرگرمیوں، جبکہ ضیا الرحمن کے اکائونٹس میں مبینہ غیر واضح رقوم کی تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔اسعد محمود کے بینک اکائونٹس اور ابرار احمد کے ٹریول اینڈ ٹورز کاروبار سے متعلق مالی معاملات کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ شکایت میں فلاحی، تعلیمی اور کاروباری اداروں سے منسلک لین دین کی چھان بین اور متعلقہ افراد کے اثاثوں، ٹیکس گوشواروں اور بینک ٹرانزیکشنز کا تقابلی جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔علاوہ ازیں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سائوتھ) کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی(ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم اسلام آباد کی عمارت تعمیراتی نقشوں کی منظوری حاصل کیے بغیر تعمیر کرنے پر باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔سی ڈی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی گئی ہے۔سی ڈی اے نے مدرسے کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے 15 دن کے اندر عمارت کے تعمیراتی نقشے متعلقہ اتھارٹی میں جمع کروائے جائیں، بصورتِ دیگر سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023 ) کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سی ڈی اے کے نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے۔
فضل الرحمن
