تازہ تر ین

فیصل آباد :شیرنوجوانوں کی غنڈا گردی غریب خاندان پر جینے کیلئے زمین تنگ

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)فیصل آباد پولیس کے شیر جوانوں نے چک جھمرہ کے خاندان پر جینے کےلئے زمین تنگ کر دی۔ ان پر ظلم اور نا انصافیوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مخالف پارٹی سے ساز باز ہو کر مظلوم خاندان کا ذریعہ معاش بند کر دیا ہے۔ جائیداد بھی فروخت کرکے نقل مکانی نہیں کرنے دی جا رہی جبکہ متاثرہ خاندان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مخالفین نے میری والدہ اور دو نوجوان بھائیوں کو قتل کر دیا ہے۔ صدمے سے میرا والد بھی انتقال کر گیا ہے۔ پولیس نے میرے تیسرے بھائی کو قتل سمیت دیگر نوعیت کے مقدمات میں ملوث کر کے اشتہاری قرار دےدیا ہے۔ میرے والد نے اپنے بیٹے کو عاق کر رکھا ہے۔ ہم بھی اپنے بھائی سے لا تعلقی اختیار کر چکے ہیں۔ میں والدہ اور دونوں بھائیوں کے قتل کے مقدمہ کا مدعی ہوں۔ پولیس مجھے مقدمہ کی پیروی سے باز رکھنے کےلئے حراساں کر رہی ہے۔ بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے سی آئی اے مکوآنہ، تھانہ سرگودھا روڈ اور چک جھمرہ پولیس نے تقریباً دو ماہ حبس بےجا میں رکھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ مجھے رسہ لگا کر الٹا لٹکایا گیا۔ رولا پھیرا گیا اور کرسی لگائی گئی۔ عدالت نے رہائی دلائی اور اب مجھے مقدمات میں ملوث کر کے پولیس مقابلے میں مارنے کی پولیس دھمکیاں دے رہی ہے۔ یہ بات چک جھمرہ 25ج ب ستھوئی والا کے رہائشی و ائیر فورس کے سابق ملازم محمد عمران نے اپنی بیوی شبانہ کوثر کے ہمراہ ”خبریں آفس“ میں بتائی۔ اس نے بتایا کہ میرے دو بھائیوںناصر اور یاسر کو پانچ چھ سال اور میری ماں نور صفیہ کو ایک سال قبل اصغر ، اکبر اور منور وغیرہ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ میرا والد پاک آرمی کا ریٹائرڈ صوبےدارمحمد یعقوب اپنی بیوی اور دو نوجوان بیٹوں کے قتل کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انتقال کر گیا۔ جس کے بعد میں نے ائیر فورس سے ملازمت چھوڑ دی اور روز گار کےلئے دبئی چلا گیا۔ مگر پولیس نے مجھے قتل کے مقدمہ میں ملوث کر دیا۔ میں دبئی سے واپس آیا تو پولیس نے مکھے گرفتار کر کے دو ماہ تک غیر قانونی حراست میں رکھ کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مجھے جیل بھجوا دیا۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد عدالت کے حکم پر مجھے رہائی ملی۔ اس نے بتایا کہ پولیس میری بہنوں اور انکے شوہروں کو بھی بلاوجہ تنگ و پریشان کر رہی ہے۔ ان کی بھی پکڑ دھکڑ کی جا رہی ہے۔ پولیس چھاپوں کے خوف سے میری چاروں بہنوںکے شوہروں نے میرے گھر بھیج دیا ہے چاروں بہنیں میرے گھر بیٹھ گئیں ہیں۔ ان کے گھر اجڑنے کا خدشہ ہے اور ہمارے مخالفین نے پولیس سے ساز باز ہو کر ہمارا روز گار بھی بند کر دیا ہے۔ ہمیں زرعی رقبہ کاشت کرنے دیا جا رہا ہے اور نہ فروخت کرنے دیا جا رہا ہے۔ تاکہ ہم جائیداد بیچ کر نقل مکانی کر سکیں ذریعہ معاش بند ہونے سے گھر میں نوبت فاقہ کشی تک جا پہنچی ہے۔ اس نے بتایا کہ ہم نے اپنے بھائی کاشف عرف کاشی کو عاق کرتے ہوئے لاتعلقی اختیار کرر کھی ہے اورہمیں اپنے بھائی کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ مگر پولیس اس کا بہانہ بنا کر ہمیں حراساں کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں بیوی نے بتایا کہ حصول انصاف کےلئے ہم نے آر پی او اور سی پی او فیصل آباد کو درخواستیں دیں۔ مگر ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ پولیس نے ہماری مخالف پارٹی کے شعیب، نواز عرف ماشکی، غلام شبیر عرف صدری، منور اور دیگر نامعلوم کے ہمراہ ساز باز ہو کر ہماری زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ایس ایچ او چک جھمرہ، چوکی انچارج برنالہ، ہیڈ کانسٹیبل اور نصف درجن سے زائد پولیس ملازمین مجھے پولیس مقابلے میںپار کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میرے گھر پر بغیر وارنٹ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ زبردستی گھر میں داخل ہو کر خواتین کی بےحرمتی کی جا رہی ہے اور بچوں کو خوف زدہ کیا جاتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پولیس سے انصاف نہ ملنے پر ہم نے انصاف مانگنے کےلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے اس امر پر مظلوم خاندان نے وزیراعظم، چیف جسٹس صاحبان، گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے نوٹس لےکر داد رسی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain