All posts by Daily Khabrain

وزیراعظم کا 208 ارب روپے معاف کرنے کا آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے صدراتی آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حالیہ تنازعے پر شفافیت یقینی بنانے کیلئے آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اٹارنی جنرل کو جی آئی ڈی سی معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ آرڈیننس کا مقصد عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے 50 فیصد رقم وصول کرنا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ عدالت جانے سے فیصلہ خلاف آنے کا بھی خطرہ ہے، سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کو غیرقانونی قراردیا تھا اور وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست بھی خارج کردی تھی۔ترجمان کے مطابق نئی قانون سازی کی گئی جس کو صوبائی ہائیکورٹس میں چیلنج کیا گیا، سپریم کورٹ میں بھی مختلف اپیلیں زیر التواءہیں۔ترجمان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کو جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 208 ارب روپے معاف کیے گئے تھے جس پر گزشتہ روز وفاقی کابینہ میں بھی وزراءنے اعتراض اٹھایا تھا جنہیں مشیر خزانہ نے بریفنگ دی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے معاشی ٹیم کو ہدایت کی تھی کہ وہ 208 ارب روپے معاف کرنے کی تفصیل قوم کے سامنے رکھے تاہم اب یہ آرڈیننس واپس لے لیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر تنقید، سری نگر کے میئر نظربند

سرینگر(ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر کے میئر جنید عظیم مٹو کو نئی دہلی حکومت کے 5 اگست کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانے پر نظربند کردیا گیا۔بھارتی نیوز ویب سائٹ دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر کے میئر نے نئی دہلی کے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے مختلف لوگ اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پارہے۔اس بارے میں این ڈی ٹی وی نے لکھا کہ جنید عظیم مٹو کو دہلی سے واپس آنے کے بعد نظر بند کیا گیا، وہ بھارتی دارالحکومت میں علاج کے لیے گئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد سے میئر کی نقل و حرکت کو محدود کردیا گیا تھا۔نظربند ہونے سے قبل سری نگر کے میئر نے این ڈی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘کشمیر کی گلیوں میں ہوسکتا ہے کوئی لاشیں نہ ہوں’ اور یہ سمجھنا ‘انتہائی غیر حقیقت پسندانہ’ ہوگا کہ یہ معمول پر آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘جذبات پر مشتمل ایک بنیاد پرست فیصلے کے ذریعے پابندیاں نافذ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صورتحال معمول پر ہے، ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی نظربندی پالیسی مکمل طور پر آپریشنل ہے’۔سری نگر کے میئر کا کہنا تھا کہ ‘ایسے بہت سے خاندان ہیں جو اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں’۔این ڈی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے ایک بحران پیدا ہوا ہے جس نے اس (خطے کی) شناخت کی بنیاد رکھ دی۔دوران انٹرویو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ تشدد کے انتہائی واضح خطرے کے ساتھ زندگی گزاری ہے یہ کوئی نیا منظرنامہ نہیں لیکن اس کا استعمال بنیادی حقوق کے خاتمے کے جواز کے لیے کرنا کشمیر میں بیگانگی کی اصل وجہ ہے۔خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھی جبکہ ہزاروں اضافی فوجی بھی وہاں بھیج دیے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی نظربند کردیا گیا تھا۔تاہم اس خصوصی حیثیت کے خاتمے کے چند گھنٹوں بعد ہی عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت جموں اینڈ کشمیر پیپلز کانفرس کی قیادت سجاد لون اور عمران انصاری کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں لگائے گئے اس لاک ڈاو¿ن کو 31 روز ہوچکے ہیں، جس کے باعث وہاں لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ پاکستان پہنچ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور امارتی ہم منصب عبداللہ بن زاید بن سلطان النہیان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس دوران شاہ محمود قریشی نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔بعد ازاں وزیرخارجہ کے ہمراہ سعودی وزیر عادل الجبیر اور اماراتی وزیر عبداللہ بن زاید بن سلطان دفترخارجہ گئے، جہاں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہوئی۔سعودی عرب اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 7 مارچ کو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔مارچ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کے لیے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر اہم دورے پر پاکستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پاکستانی رہنماو¿ں سے پاک بھارت کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔واضح رہے کہ اماراتی وزیر خارجہ بھی ایسے وقت میں دورہ کر رہے ہیں جب خطے کی مجموعی صورتحال بھارت کی جانب سے 5 اگست کے اقدامات کے باعث کشیدہ ہے۔تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی جاری صورتحال کے دوران ہی 24 اگست کو متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان نے نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور انہیں امارات کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’آرڈر آف زیاد‘ سے نوازا تھا جبکہ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’آپ (ایوارڈ) کے حقدار ہیں‘۔بعد ازاں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات یا کسی بھی ملک کو اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیے جانے پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان سرمایہ کاری کے حوالے سے تعلقات کی تاریخ ہے تاہم میں جلد یو اے ای کے وزیر خارجہ سے ملاقات کروں گا اور انہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات کے حوالے سے بتاو¿ں گا’۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ
خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔یہی نہیں بلکہ بھارت نے 5 اگست کے اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاﺅن اور کرفیو لگا دیا تھا جبکہ مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیے تھے جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال معطل ہیں۔

مصباح الحق کا جارحانہ کرکٹ کی حکمت عملی اپنانے کا عزم

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے عہدہ سنبھالتے ہی جارحانہ کرکٹ کی حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اظہار کردیا۔لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کے ہمراہ قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے پریس بریفنگ دی۔اس دوران مصباح الحق نے پی سی بی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے 2 اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ میں جو کچھ بھی ہوں، میں نے بطور کرکٹر جو بھی حاصل کیا وہ پاکستان کے نام کے بغیر ممکن نہیں تھا، جو بھی کرکٹ کھیلی اور عزت ملی اگر اس سے پاکستان کا نام ہٹا دیں تو کچھ نہیں ہے، لہٰذا میں اس ملک کا اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ہیڈکوچ اور چیف سیلکٹر کی ذمہ داریوں پر ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے، تاہم جب اختیار آتا ہے تو وہ آپ کا امتحان ہوتا ہے جسے ایمانداری سے پورا کرنا ہوتا ہے لیکن یہ آسان نہیں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ میں پوری ایمانداری اور طاقت سے اپنا کردار ادا کروں اور پاکستان کرکٹ کی بہتری، اس کی ترقی، پیشہ وارانہ صلاحیت اور نظام کے لیے کام کروں۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جس کا وسیم خان اور مصباح الحق نے جواب دیا۔وسیم خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو سلیکشن کمیٹی پہلے تھی وہ ختم ہوگئی لیکن جو 6 ہیڈ کوچز تھے وہ چیف سلیکٹر کے ساتھ کام کریں گے کیونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں تمام چیزیں دیکھتے ہیں۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے متعلق ایک سوال پر وسیم خان نے کہا کہ ’42 دن کی کرکٹ ہے اور سب جانتے ہیں کہ مصباح پہلے اس میں کوچنگ کرچکے ہیں، انہوں نے بین الاقوامی کرکٹرز کے ساتھ کام کیا اور اگر انہیں پی ایس ایل میں کام کا موقع ملے گا تو یہ پی ایس ایل کے لیے فائدہ مند ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ‘پی سی بی نے نظرثانی کی کہ مصباح کو ٹی ٹوئنٹی میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور ہم انہیں پی ایس ایل میں موقع دیں گے’۔وسیم خان نے کہا کہ مصباح الحق کا یہ پہلا موقع ہے تو ہمارے لیے پاکستان کی کامیابی سب سے ضروری ہے، تاہم پی سی بی کا موقف ہے کہ اگر پی ایس ایل 5 میں مصباح الحق کو کوئی فرنچائز لیتا ہے تو انہیں موقع ملنا چاہیے۔دوران کانفرنس مصباح الحق نے کہا کہ دفاعی اور جارحانہ کرکٹ سے متعلق ہمارے ہاں تھوڑی الجھن ہے، جو بھی حکمت عملی ہوتی ہے وہ وسائل پر انحصار کرتی ہے، لہٰذا میں بطور کوچ یہ کوشش کروں گا کہ ہم ایسی جارحانہ کرکٹ کھیلیں کہ آرام سے میچ جیت جائیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران آپ اپنی ٹیم اور مدمقابل ٹیم کی طاقت کو دیکھ کر حکمت عملی بناتے ہیں۔مصباح الحق نے کہا کہ ہماری ترجیح ٹیسٹ کرکٹ ہوگی، میرے خیال جو اچھا ٹیسٹ کرکٹر ہوتا ہے وہ ایک روزہ میچ اور ٹی ٹوئنٹی بھی اچھا کھیل سکتا ہے۔

’جدوجہدِ آزادی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں‘، پاک فوج کا کشمیریوں کوپیغام

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کشمیری عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پریس کے آغاز میں کہا کہ آج بریفنگ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بہادر کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری سانسیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں، 72 سال آپ نے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، آپ کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی جیسے ناپسندیدہ عمل سے تابیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپ کی ثابت قدمی کو سلام ہے، ہمیں آپ کی موجودہ مشکلات کا بھرپور احساس ہے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور انشااللہ کھڑے رہیں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمیں رب سے امید ہے کہ آپ اپنا جائز حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں، آزادی کی جدوجہد بہت لمبی ہوتی ہے، پاکستان کی آزادی کی جدوجہد 1947 میں شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا آغاز 1857 سے ہوگیا تھا، اتنی لمبی جدوجہد کرکے ہم نے پاکستان حاصل کیا اور کشمیر کے لیے بھی اس جدوجہد پر نہ کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی کمی آئے گی۔
’مسئلہ حل نہیں ہوا تو جنگ کا آپشن مجبوری ہوجائے گا‘
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں، اگر قومی طاقت کے دوسرے عناصر مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ لڑنا مجبوری میں ایک آپشن بن جاتا ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اس کے لیے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، پاکستانی عوام، حکومت اور افواج پاکستان آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک پرعزم ہیں اور رہیں گے۔
’بھارت جنگ کا بیج بورہا ہے‘
بھارت کی بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلت سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم جاری ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں ہٹلر کے پیرور کا فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، اور خطہ بھی امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت ثالثی کی پیشکش کو قبول نہیں کرتا تو پھر نریندر مودی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں جو بات کررہے ہیں اسے کیا کہتے ہیں؟میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت مانتا ہے کہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، تاہم اس نے ا?رٹیکل 370 ختم کرکے یہ معاملہ ختم کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت حکومت کی خواہش ہے کہ وہ کچھ اس طرح دباو¿ بڑھائے کہ وہاں لوگ مشتعل ہوں جسے وہ دہشتگردی کا نام دے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اب دھوکے میں نہیں آئے گا، کیونکہ پاکستان کشمیر میں اس طرح کی کارروائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
’وزیراعظم دیگر ممالک کے سربراہان سے رابطے میں ہیں‘
انہوں نے کہا کہ جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہے، تاہم اس سے قبل ملک کے دیگر عوامل جس میں سفارتکاری، معیشت، قانون، انٹیلی جنس اور معلومات کا رد عمل چلتا رہتا ہے۔اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور نہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے اور دنیا اس معاملے کو اپنے سامنے رکھ رہی ہے۔ان یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان متعدد مرتبہ کہہ چکا ہے کہ یہ معاملہ جنگ کے بجائے پر امن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
’پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کے نو-فرسٹ-یوز کی کوئی پالیسی نہیں‘
اسٹریٹجک صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل ا?صف غفور نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدگی نوعیت کا ہے جس پر عام مقامات یا پریس کانفرنس پر بات نہیں کی جاسکتی۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل ا?صف غفور نے کہا کہ یہ عوام کے کرنے کی باتیں نہیں ہیں، بس انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اثاثہ ہیں اور جب انہیں خطرہ ہوگا تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت نے اپنی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی نو-فرسٹ-یوز کی کوئی پالیسی نہیں ہے، تاہم اگر بھارت پہلے استعمال کرتا ہے تو یاد رکھے کہ پہلے کے بعد دوسرا بھی آتا ہے‘۔آزاد کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ کا محور مشرقی سرحد ہی ہے، تاہم اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہماری مغربی سرحد کو کمزور بنادے گا تو ایسا نہیں ہوسکتا اس سے بھارت کو واضح رہنا چاہیے۔
’اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں پروپیگنڈا ہیں‘اسرائیل سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نبرد آزما ہے اور اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ قوم میں اختلاف پیدا کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق گزشتہ 72 سال سے جوموقف رہا ہے وہ برقرار ہے اور اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کے تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہیں۔
’ملکی استحکام خطے کے ماحول سے جڑا ہوتا ہے‘
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جس کے خطے کے بڑے پلیئرز کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے شمال میں دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین ہے، جس کے بھارت کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے مغرب میں افغانستان ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا مرکز رہا ہے جبکہ جنوب مغرب میں ایران موجود ہے جس سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ماحول کی وجہ سے اس ملک کو مسائل درپیش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی استحکام اندرونی اور خطے کے ماحول سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
’آرمی چیف ایکسٹینش نہیں چاہتے تھے‘
آرمی چیف سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی چیف وزیراعظم کے ماتحت ہیں وہ اسی کے مطابق کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ خود بھی آرمی چیف کے عہدے پر براجمان نہیں ہونا چاہتے تھے کیونکہ 41 سال فوج میں سروس کرنے کے بعد ہس شخص آرام کرنا چاہتا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پہلی مرتبہ کسی چینی صدر نے کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کو بلایا اور ان سے ملاقات کی۔اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے زیر استحقاق رکھا گیا (آرمی چیف کو ایکسٹینشن دی گئی)، تاہم اس کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج ایک پیشہ ور فوج ہے، جس طرف آرمی چیف دیکھتے ہیں، پوری فوج اسی طرف دیکھنے لگتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ
خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ
ا?ئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔بعد ازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں ا?ئی۔بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔
عالمی میڈیا نے بھارت کے کردار پر سوالات اٹھادیے
واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اس نے اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘22 اگست کو دنیا میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے وقف عالمی ادارے جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔عالمی ادارے نے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ اور اس کے اراکین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت کو خبردار کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی نہ کرے۔
پاکستان کے جوابی اقدام
بھارتی اقدام کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوگیا، جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود کردیے تھے۔علاوہ ازیں پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی اور ثقافتی تعلقات بھی معطل کردیے تھے۔کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی اقدام کی مذمت کے خلاف قومی اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور ہوئی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ’کشمیر ا?ور‘ منانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک
بھارتی کی جانب سے ا?رٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ، دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں بلکہ اسلام ا?باد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا جبکہ یورپی یونین کے اجلاس میں بھی اس پر بات چیت ہوئی۔یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہے۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی ا?نکھ میں ا?نکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں امریکی۔ کینڈین نیوز چینل ‘وائس نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ ’ بھارت اس وقت ا?گ سے کھیل رہا ہے جو اس کے سیکولرزم کو جلا کر راکھ کردے گی‘۔

خلع کیس؛ عدالت نے محسن عباس اور فاطمہ سہیل کو نوٹس جاری کردئیے

لاہور(ویب ڈیسک )فیملی عدالت نے اداکار محسن عباس حیدر اور ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل کو خلع کی درخواست پر نوٹس جاری کردئیے۔لاہور کی فیملی عدالت میں اداکار محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے دائر کی جانے والی خلع کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے خلع کی درخواست پر فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے 15 ستمبر کو طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز فاطمہ سہیل نے لاہور کی فیملی عدالت میں خلع کا دعویٰ دائر کیاتھا، جس میں انہوں نے موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے شوہر پر ایک بار پھر تشدد اور بے وفائی کا الزام لگایاتھا۔اداکارمحسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے دوماہ قبل جولائی میں سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا تھا کہ حاملہ ہونے کے باوجود محسن نے انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا، اور پیسوں کی ہیرپھیر کی۔ اس کے علاوہ اسی پوسٹ میں فاطمہ نے محسن اورماڈل نازش جہانگیرکے درمیان ناجائز تعلقات کا الزام بھی لگایاتھا۔محسن عباس اورفاطمہ سہیل کا کیس لاہور کی عدالت میں ہے جہاں گزشتہ پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں اداکار محسن عباس کو اہلیہ پر پستول تاننے اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیاتھا۔ دوسری جانب محسن عباس نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل کیس: خواجہ برادران پر فرد جرم عائد

لاہور: (ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق پر پیرا گون ہاوسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں کے الزام میں ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی، دونوں بھائیوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے خواجہ برادران کیخلاف ریفرنس پر سماعت کی تو دونوں بھائیوں کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز نے درخواست دی کہ ریفرنس کی مکمل نقول فراہم نہیں کی گئیں، بغیر دستاویزات ریفرنس پر کارروائی قانون کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگی۔ نیب کے وکیل نے تمام دستاویزات پیش کر دیئے جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔احتساب عدالت کے جج نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق پر پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس میں بے ضابطگیوں کے الزام میں فرد جرم عائد کی۔ خواجہ برادران کی درخواست پر عدالت نے 13 ستمبر کیلئے نیب کو نوٹس جاری کر دیئے اور جواب مانگ لیا۔ درخواست میں احتساب عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا اور اعتراض اٹھایا کہ احتساب عدالت کو خواجہ برادران کیخلاف ریفرنس پر سماعت اختیار نہیں۔خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کیا وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر صدارتی آرڈیننس جاری ہوسکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر پر ابھی تک حکومت نے او آئی سی کا اجلاس بلانا کیوں گوارا نہیں کیا اور حکمران ٹیلی فون ڈپلومیسی کے ذریعے کشمیر پر حمایت حاصل کرنے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن دوست ملکوں کے دورے نہیں کیے جا رہے۔سعد رفیق کا کہنا تھا 4 ہزار ارب قرضے بڑھے ہیں، کمپنیوں کو سوا 2 سو ارب چھوڑ دیا، کیا یہ انکا ذاتی پیسہ ہے، ہم نے آئین اور جمہوریت کی جنگ لڑی ہے، اسی بات پر ہمارے اوپر فرد جرم عائد کی گئی، حکومت عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے، محکمہ ریلوے کو دن رات لگا کر مستحکم کیا، موجودہ حکومت نے محکمہ ریلوے کا بیڑا غرق کر دیا، آئے روز ریلوے حادثات ہو رہے ہیں، کشمیر پر اے پی سی کیوں نہیں بلائی۔

چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

لاہور: (ویب ڈیسک)احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔نیب حکام نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان کی عدالت میں پیش کیا جہاں نیب نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عدالت نے نیب کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا جسے تھوڑی دیر میں سناتے ہوئے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے لیگی رہنما کا 14 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔عدالت نے مریم نواز کے ساتھ نوازشریف کے بھائی عباس شریف کے صاحبزادے یوسف عباس کا بھی جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور ملزمان کو 18 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ نیب حکام نے مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نوازشریف سے ملاقات کے دوران گرفتار کیا تھا۔

ابھی نندن کی طرح موجودہ بھارتی ائیرچیف کا طیارہ بھی پاک فضائیہ نے گرایا

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستانیوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے والے ابھی نندن کے ساتھ بڑھکیں مارنے والے بھارتی ائیرچیف کا طیارہ بھی پاکستان نے ہی گرایا تھا جس پر پیراشوٹ سے جان بچانی پڑی۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل بریندر سنگھ دھنووا جن کی ریٹائرمنٹ میں چند دن باقی رہ گئے ہیں، انہوں نے گزشتہ پیر کو مگ 21 لڑاکا طیارہ اڑا کر اپنی ا?خری پیشہ ورانہ پرواز مکمل کی۔پنجاب میں پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے سے اڑان میں ان کے ساتھ ونگ کمانڈر ابھی نندن وردامن بھی ساتھ تھے جن کا اپنا مگ۔21 طیارہ گزشتہ فروری میں پلوامہ واقعہ کے بعد ا?زاد کشمیر میں داخل ہونے پر مار گرایا گیا تھا، وہ پاکستان میں جنگی قیدی بنے۔بھارتی ائیرچیف مارشل دھنووا نے اعتراف کیا کہ ان میں اور ابھی نندن میں دو قدر مشترک ہیں، انہوں نے کارگل اور ابھی نندن نے بالاکوٹ پر فضائی حملوں کی کوشش کی اور دونوں کو مار گرائے جانے پر اپنے طیارے دوران پرواز چھوڑنے پڑے اور پیرا شوٹ کے ذریعہ جانیں بچانی پڑیں۔ابھی نندن کو اب بھارتی فضائیہ میں مگ۔21 کا انسٹرکٹر بنا دیا گیا ہے۔

صحت مند رہنے کےلیے ہر تیسرے دن فاقہ کیجیے، ماہرین

ویانا: (ویب ڈیسک)آسٹریا کے طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ا?پ اچھی صحت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ڈائٹنگ سے کہیں بہتر ہے کہ ہر تیسرے دن، یعنی ایک دن چھوڑ کر اگلے دن، مکمل فاقہ کیجیے۔طبی تحقیقی جریدے ”سیل میٹابولزم“ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ماہرین نے بتایا ہے کہ بیشتر لوگ وزن کم کرنے اور دل کی بہتر صحت کےلیے ڈائٹنگ کرتے ہیں جس سے بہت کم لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ ہر تیسرے دن مکمل فاقہ کریں تو اس سے نہ صرف صحت کے بہترین فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ان کے وزن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔واضح رہے کہ یہاں ”فاقے“ سے مراد یہ ہے کہ صرف پانی پیا جائے، جبکہ جسم کو توانائی پہنچانے والی کوئی غذا ہر گز نہ لی جائے۔سوئٹزرلینڈ کی میڈیکل یونیورسٹی ا?ف گراز میں کی گئی اس تحقیق میں پہلے مرحلے پر 60 صحت مند رضاکار بھرتی کیے گئے جن میں سے نصف کو کسی بھی وقت کھانے پینے کی مکمل ا?زادی فراہم کی گئی۔ باقی نصف افراد کو پابند بنایا گیا کہ وہ 48 گھنٹے میں سے مسلسل 36 گھنٹوں تک صرف پانی پر گزارا کریں جبکہ 12 گھنٹوں کے دوران جو دل چاہے، کھائیں پئیں۔ دورانِ تحقیق تمام رضاکاروں کا روزانہ تفصیلی معائنہ بھی کیا جاتا رہا۔چار ہفتوں تک جاری رہنے والے اس مطالعے میں معلوم ہوا کہ روزانہ ا?زادی سے کھانے پینے والے رضاکاروں کی صحت میں تو کوئی افاقہ نہیں ہوا لیکن ہر تیسرے دن فاقہ کرنے والوں میں دل اور شریانوں کی مجموعی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے وزن میں بھی اوسطاً 7.7 پاو¿نڈ (تقریباً 3.5 کلوگرام) کی کمی بھی واقع ہوئی۔یہ جاننے کےلیے کہ ہر تیسرے روز فاقہ کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں، ماہرین نے دوسرے مرحلے میں مزید 30 رضاکاروں کو 6 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک اسی معمول پر رکھتے ہوئے ان کا جائزہ لیا۔ لیکن اس معمول کے کوئی منفی اثرات مشاہدے میں نہیں ا?ئے۔اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر تیسرے روز کم از کم چوبیس گھنٹے کےلیے کچھ بھی نہ کھانے کا معمول اگرچہ مشکل ہے لیکن اسے اختیار کرنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور اسے ڈائٹنگ کے متبادل کے طور پر ا?زمانا مفید ہوسکتا ہے۔