All posts by Khabrain News

پاک افغان کشیدگی، سرحدی راستے گیارہویں روز بھی مکمل بند

پاک افغان کشیدگی کے باعث چمن میں بابِ دوستی، خیبر میں طورخم بارڈر، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کے سرحدی راستے گیارہویں روز بھی مکمل طور پر بند ہیں۔

سرحدی گزر گاہوں کی بندش سے تجارت، آمدورفت اور مقامی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں، جن میں سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل اور سبزیوں سمیت لاکھوں روپے کا سامان موجود ہے۔

بارڈر سیل ہونے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ روزانہ افغانستان جاکر مزدوری کرنے والے سینکڑوں مزدور بھی شدید متاثر ہیں۔

چمن میں کسٹم حکام کے مطابق بابِ دوستی ہر قسم کی تجارتی سرگرمی اور ویزا پاسپورٹ ٹریولنگ کے لیے تاحال بند ہے۔ جس کے باعث سرحد کے دونوں اطراف ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صرف چمن میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی شہری اپنی واپسی کے منتظر ہیں۔

امریکا کے شہریوں کی اکثریت نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی، سروے

امریکا میں خبررساں ادارے کے سروے میں شہریوں کی اکثریت نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی ہے اور یہ عوامی رائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے برعکس ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رائٹرز اور اپسوس کے سروے میں زیادہ تر امریکیوں نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی، جن میں 80 فیصد ڈیموکریٹس اور 41 فیصد ری پبلکن شامل ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکا کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت عوامی رائے سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔

مذکورہ سروے 6 دن پر مشتمل تھا اور پیر کو ختم ہوا اور مجموعی طور پر 59 فیصد نے امریکا کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور دیگر غیر یقینی کا شکار تھے یا انہوں نے سوال کا جواب نہیں دیا۔

اسی طرح ٹرمپ کے تقریباً نصف ری پبلکن 53 فیصد نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 41 فیصد ری پبلکن کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کریں گے۔

رائٹرز اور اپسوس نے 15 سے 20 اکتوبر 2025 کے دوران سروے میں امریکی شہریوں سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے بارے میں بھی سوال کیا گیا اور 4 ہزار 385 بالغ شہریوں سے سروے کیا۔

گزشتہ چند ہفتوں میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں امریکا کے اتحادی برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے اس اقدام کی مذمت کی کیونکہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور کئی دہائیوں پر محیط تنازع جنم لیا۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 فیصد سروے کے شرکا کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کا ردعمل حد سے زیادہ تھا جبکہ 32 فیصد اس سے متفق نہیں تھے۔

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے رائٹرز اور اپسوس کے سروے سے ظاہر ہوا کہ اگر ٹرمپ کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو امریکی عوام انہیں اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں، تقریباً 51 فیصد شرکا اس بیان سے متفق تھے کہ اگر امن کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ٹرمپ اس کا کریڈٹ لینے کے مستحق ہیں جبکہ 42 فیصد اس سے متفق نہیں۔
سروے کے مطابق اگرچہ ہر 20 میں سے ایک ڈیموکریٹ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو صدر کے طور پر درست سمجھتا ہے لیکن ہر چار میں سے ایک نے کہا کہ اگر امن قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کو نمایاں کریڈٹ ملنا چاہیے۔

سروے میں شہریوں نے خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں یہ شرح بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ماہ کے شروع میں جنگ بندی معاہدے سے قبل ہونے والے سروے میں 33 فیصد تھی اور یہ شرح جولائی کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت سب سے بلند سطح پر ہے۔

نور زمان کی عالمی اسکواش رینکنگ میں ترقی

عالمی اسکواش میں پاکستان کے حوالے سے اچھی خبر سامنے آگئی۔ عالمی انڈر 23 چیمپئن نور زمان نے نئی عالمی اسکواش رینکنگ میں 37 ویں پوزیشن حاصل کر لی۔

سابق عالمی چیمپین اور اپنے دور کے عظیم کھلاڑی قمر زمان کے پوتے نور زمان کی عالمی اسکواش میں یہ سب سے بہترین انفرادی رینکنگ ہے۔

گزشتہ ماہ نور زمان  نے شمالی امریکا میں چار بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شرکت کی۔ جن میں کینیڈا میں نیش کپ جیتنا شامل ہے،نور زمان نے شارلٹسویل اوپن کا سیمی فائنل، اوپن اسکواش کلاسک اور رچرڈسن ویلتھ مین اوپن  کا کوارٹر فائنل کھیلا۔

فلسطین کےعوام پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، سفیر ڈاکٹر زوہیر

پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زوہیر محمد حمداللہ زید نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کے عوام پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور وہ دن دور نہیں جب مقدس سرزمین آزاد ہوگی۔

وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر ڈاکٹڑ زوہیر محمد حمداللہ زید نے اسرائیلی مظالم اور اقوام متحدہ کی ناکامیوں کا تذکرہ کیا، پاکستان اور فلسطین کے اسلامی بھائی چارے پر مبنی تعلقات کے ذکر پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے عوام پاکستان کے بہن بھائیوں کی جانب سے کی گئی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور فلسطین بھی دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کے لیے مضبوط پوزیشن لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب مقامات مقدسہ کی سرزمین فلسطین کو آزادی ملے گی، نیتن یاہو فلسطین کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرتا رہا مگر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، اقوام متحدہ کا نظام ویٹو پاور کی وجہ سے مفلوج ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانیں بچانے میں عالمی ادارے ناکام رہے۔

ڈاکٹر زوہیر نے کہا کہ فلسطین صرف ایک سرزمین کا نام نہیں بلکہ یہاں امت مسلمہ کے مقدس مقامات پائے جاتے ہیں۔

تقریب سے سابق سفیر و صدر آزاد کشمیر مسعود خان اور سابق سفیر سید ابرار حسین نے بھی خطاب اور کہا  کہ اقوام متحدہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے، یو این او دراصل فاتحین کا ایک قبضہ گروپ ہے، یہ تنظیم صرف طاقت ور ملکوں کے مفاد کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔

شعبہ آئی آر اور ماس کمیونیکیشن کے سربراہ ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ فلسطین کے سفیر سمیت سفارتی شخصیات کی یونیورسٹی آمد طلبہ کی خوش قسمتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی علمی و سفارتی شخصیات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو سے طلبہ کا وژن وسیع ہوتا ہے اور ہمارا مشن یہی ہے کہ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنا ورلڈ ویو بھی بہتر بنائیں اور معاشرے کے فکری رہنما بن جائیں۔

تیونس؛ تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 40 افراد ہلاک ہوگئے

تیونس  میں  یورپ  جانے  والے تارکین  وطن کی کشتی ڈوبنے سے 40  افراد  ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق  تیونس کے حکام کا کہنا ہےکہ تارکین وطن کی کشتی ساحلی شہر مہدیہ میں ڈوبی۔

خبر ایجنسی کے مطابق کشتی میں 70 افراد سوار  تھے جن میں سے 30 کو بچالیا گیا جب کہ 40 لاشوں کو بھی نکال لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کشتی میں سوار تارکین وطن کا تعلق افریقا کے مختلف ممالک سے تھا۔

تیونس پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ رواں سال خطے کے مہلک ترین سمندری حادثات میں سے ایک ہے۔

‘بیٹی 2 دن سے اسپتال میں داخل ہے، اللہ کرے ہم میچ جیت جائیں’: اسپنر آصف آفریدی

راولپنڈی: اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں 92 سالہ ریکارڈ توڑنے والے پاکستانی اسپنر آصف آفریدی اپنی کارکردگی سے کافی مطمئن اور خوش ہیں۔

جنوبی افریقا کے خلاف آصف آفریدی نے اپنےپہلے میچ میں ہی منفرد اعزاز اپنے نام کیا  اور انگلینڈ کے چارلس میریٹ کا 92 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔

38 سال کے بائیں ہاتھ کے اسپنر آصف آفریدی ٹیسٹ ڈیبیو پر 5 وکٹیں لینے والے معمر ترین کرکٹر بن گئے۔ انہوں نے جنوبی افریقا کے خلاف پہلی اننگز میں مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کیں۔

اپنی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے  آصف آفریدی کا کہنا ہے کہ  اس عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنا اور اس میں بہترین بولنگ کرنا کافی خوشی کی بات ہے۔

انہوں نے پی سی بی سے  بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب کپتان نے کہا کہ آپ کل  ڈیبیو کریں گے تو  ساری رات خوشی سے نیند نہیں آئی ، گھر والے بھی کافی خوش تھے۔ کوشش یہی تھی کہ جس طرح ڈومیسٹک میں بولنگ کرتا ہوں ، ڈیبیو ٹیسٹ میں اسی طرح اچھی لائن پر بولنگ کرواؤں، شکر الحمد اللہ اچھی بولنگ ہوئی۔

 آصف آفریدی نے بتایا کہ میرے 4 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بیٹی اسپیشل چائلڈ ہے اور 2 دن سے اسپتال میں داخل ہے۔ اس کی طرف سےکافی پریشان ہوں، اللہ کرے ہم میچ جیت جائیں تو اپنی کارکردگی بیٹی کے نام کروں گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف پنڈی میں جاری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر 4 وکٹوں پر 94 رنز بنائے اور اسے دوسری اننگز میں23 رنز کی برتری حاصل ہے۔

پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ملک بن چکا ہے: وزیرخزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زيب نے کہا ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ریلیف اور ریسکیو اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت پڑتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں، ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہیے، قرض لے کر تو ہم نے آگے جاکر واپس ہی کرنا ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سرمایہ کاروں نے پیسے بنائے تو بھجوائے ہیں، ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی، ورلڈ بینک کے سامنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکنالوجی سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے، مصرکے وزیرخزانہ نے کہا کہ میں اپنی ٹیم آپ کے پاس بھیجتا ہوں یا آپ اپنی ٹیم بھیجیں۔

ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ سال ہول سیل، ریٹیلرز سے ٹیکس کلیکشن سوفیصد بڑھی ہے، شوگر،سیمنٹ ،تمباکو انڈسٹری میں اضافی ٹیکس ریکور کیا گیا، لوئر، مڈل سیلریڈ کلاس کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی گئی، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں دیگر سیلیریڈ کلاسز کو بھی ریلیف دیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ کمپنیاں بعض اوقات اپنے گلوبل فیصلوں کی وجہ سے بھی واپس چلی جاتی ہیں، کچھ کمپنیاں گئی ہیں تو کچھ کمپنیاں پاکستان میں آئی بھی ہیں، کچھ کمپنیاں اس لیے بھی گئیں کہ مقامی کمپنوں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، ابوظبی پورٹس اور یو اے ای کی دیگر کمپنیاں آرہی ہیں، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 95 ہزار نئے سرمایہ کار آئے ہيں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشی استحکام آیا ہے تو دو سال میں ہم نے 4 ارب ڈالر کا بیک ڈراپ نکالا ہے ، چینی کی قیمتوں پر کوشش ہے کہ ڈی ریگولیشن کی طرف جائیں، گندم کی قیمت سے متعلق 2026 میں ڈی ریگولیشن پالیسی کا اعلان ہوگا، ڈی ریگولیشن پالیسی کے بعد گندم کی صوبے سے باہر منتقلی پر پابندی نہیں لگ سکے گی۔

سعودی عرب میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 17 سرکاری اہلکار گرفتار

ریاض: سعودی عرب میں احتساب و انسداد بدعنوانی اتھارٹی (نزاہہ) کی کارروائی کے دوران مختلف وزارتوں اور  اداروں کے 17 سرکاری اہلکاروں کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق گرفتار اہلکاروں پر رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خرد برد جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اتھارٹی کے بیان کے مطابق وزارت صنعت و معدنی وسائل کے ایک اہلکار نے ایک غیر ملکی سرمایہ کار کی کمپنی کو غیر قانونی طور پر کرشر لائسنس جاری کرنے کے لیے مبینہ طور پر 16 لاکھ سعودی ریال رشوت لی۔

ایک اور سعودی شہری کو 85 ہزار ریال وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا جو مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار ریال کی طے شدہ رشوت کا حصہ تھا، تاکہ ایسی زرعی زمین کے خلاف ڈمولیشن آرڈر منسوخ کرایا جاسکے جس کی کوئی ملکیتی دستاویز موجود نہیں تھی۔ اسی علاقے میں دو بلدیاتی اہلکاروں کو بھی اسی نوعیت کی رشوت لینے پر حراست میں لیا گیا۔

ایک اور کیس میں ایک گورنریٹ میونسپلٹی کے ملازم کو 1 لاکھ 95 ہزار ریال رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو اس نے ایک تجارتی ادارے کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دینے کے بدلے میں وصول کیے تھے۔

اسی طرح وزارتِ دفاع کے ایک افسر کو بھی گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر خواتین سے ملازمت دلانے کے وعدے پر رقم وصول کرتا تھا۔

نزاہہ نے مزید بتایا کہ زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے ایک اہلکار کو ائیرپورٹ پر متعدد کسٹم خلاف ورزیوں کے انکشاف کے بعد حراست میں لیا گیا۔

اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ نزاہہ بدعنوانی کے خاتمے کے اپنے مشن پر قائم ہے اور جو بھی سرکاری عہدے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے گا اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، چاہے وہ عہدہ چھوڑ چکا ہو۔

اسرائیل اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو غزہ میں امداد تقسیم کرنے دے؛ عالمی عدالت انصاف

عالمی عدالت انصاف نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں مشاورتی رائے دی کہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (UNRWA) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مقبوضہ غزہ کے فلسطینیوں میں امداد کی فراہمی اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اس معاملے میں اپنا دائرہ اختیار تسلیم کیا اور کہا کہ وہ اس کیس میں مشاورتی رائے دے سکتی ہے۔

عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل کو UNRWA اور دیگر اقوام متحدہ کے اداروں کو امداد کی فراہمی میں تعاون کرنا چاہیے، اور نظامِ امداد تک رسائی کو آسان بنانا چاہیے۔

عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے ججوں نے قرار دیا کہ اسرائیل اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی UNRWA کے ملازمین کی بڑی تعداد حماس کے ارکان ہیں۔

رواں سال اپریل میں اقوامِ متحدہ کے وکلاء اور فلسطینی نمائندوں نے عالمی عدالت میں اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا کیونکہ اسرائیل نے مارچ سے مئی کے دوران غزہ میں امداد داخل ہونے سے مکمل طور پر روک دیا تھا۔

اُسس وقت اسرائیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ حماس کے جنگجو امداد لوٹ لیتے ہیں تاہم وہ یہ الزام عدالت میں ثابت نہ کرسکا۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو ناکافی خوراک فراہم کی جا رہی ہے جب کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ممنوع ہے۔

فلسطینی نمائندوں کے وکیل پال رائیکلر (Paul Reichler) نے کہا کہ یہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہا۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی UNRWA جو لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم اور امداد فراہم کرتی ہے کے 30 ہزار سے  زائد ملازمین ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے گزشتہ سال اگست 2024 میں تصدیق کی تھی کہ امدادی ایجنسی UNRWA کے 9 ملازمین ممکنہ طور پر 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حماس کے حملے میں ملوث تھے اور انہیں برطرف کر دیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2024 میں غزہ میں مارا جانے والا ایک UNRWA ملازم دراصل حماس کا کمانڈر تھا۔

اگرچہ مشاورتی رائے قانونی لحاظ سے قابلِ نفاذ نہیں ہوتی لیکن اس کی قانونی تشریح اثر ورسوخ رکھتی ہے اور بین الاقوامی برادری، اراکین ریاستوں اور دیگر عدالتوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتی ہے۔

اسرائیل کی سفارتی اور قانونی پوزیشن پر خاص طور پر اُس کی بین الاقوامی ساکھ اور عسکری کارروائیوں کے جائز ہونے پر اثر پڑ سکتا ہے۔

فلسطینیوں اور ان کے حمایتی ممالک کو ایک قانونی فتح کا ذریعہ مل سکتا ہے جو آئندہ ثالثی، مذاکرات یا بین الاقوامی فیصلہ سازی میں موزوں ہو سکتی ہے۔

اسرائیل سماعت میں برا ہِ راست شریک نہیں تھا البتہ اُس نے عدالت کے دائرۂ اختیار اور قانونی کارروائی کو سیاسی اور جانب دار قرار دیا۔

تاہم عدالت کی معاون صدر جج جولیا سیبوتنڈے نے اس مشاورتی رائے کے خلاف اختلافی رائے درج کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عدالتی رائے “متوازن اور غیرجانبدار” نہیں ہے، کیونکہ اسرائیل کے دلائل کو مناسب انداز سے نہیں سنا گیا۔

انھوں نے نشاندہی کی کہ عدالت نے یہ نہیں دیکھا کہ فلسطینی تنازع کی تاریخی، علاقائی اور سفارتی جہتیں کیا ہیں مثلاً صہیونی ریاست کے قیام، برطانوی مینڈیٹ کے دور کی سرحدیں، اسرائیل کی سیکیورٹی خدشات، مذاکراتی فریم ورک جیسے اسلو معاہدہ وغیرہ۔

سیبوتنڈے نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی رائے نے ریاستی رضامندی  کے بنیادی اصول کو نظرانداز کیا ہے یعنی ایک ریاست کو اپنی جانبداری کے بغیر عدالتی فیصلہ تسلیم کرنا مشکل ہے۔

ان کے مطابق، اس فیصلے سے مذاکراتی راستے کی افادیت کم ہوسکتی ہے اور تنازع کو عدالت کے دائرے میں لانے سے وہ راستہ مزید مشکل بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 2024 کی ایک مشاورتی رائے میں عالمی عدالت نے قرار دیا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے اور اسے فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ اسرائیل ایک قابض طاقت ہے اس لیے اس پر فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ویمنز ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 6 وکٹ سے ہرا دیا

آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 6 وکٹ سے ہرا دیا۔

انگلینڈ نے 9 وکٹ پر 244 رنز بنائے، آسٹریلیا نے 245 رنز کا ہدف 41 ویں اوور میں پورا کر دیا، ایشلے گارڈنر 104 اور انابیل سدرلینڈ 98 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں۔

اندور میں انگلش ٹیم نے شروعات اچھی کیں، اوپنر ٹیمی بیومونٹ نے 78 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، دوسرے اینڈ سے وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں، مڈل میں ایلس کیپسے نے 38 رنز بنائے، یوں انگلینڈ کا اسکور 9 وکٹ پر 244 رنز رہا۔

انابیل سدرلینڈ نے 3، سوفی مولینیوکس اور ایشلے گارڈنر نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔

245 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا کی 3 وکٹیں 24 رنز پر گر گئیں، بیتھ مونی بھی 20 رن بنا کر 68 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئیں۔

اس موقع پر انابیل سدرلینڈ اور ایشلے گارڈنر نے ٹیم کو سنبھالا، ایشلے گارڈنر نے شاندار سنچری مکمل کی، دونوں نے 41ویں اوور میں ہدف 4 وکٹ پر پورا کر دیا۔ ایشلے گارڈنر 104 اور انابیل 98 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں۔

ورلڈ کپ میں کل بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ ہو گا، ’جیوسوپر‘ ورلڈ کپ کے دلچسپ میچز براہِ راست نشر کر رہا ہے۔