All posts by Khabrain News

عریشہ رضی خان نے اپنا نکاح خفیہ رکھنے کی وجہ بتادی

کراچی:(ویب ڈیسک) پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکارہ عریشہ رضی خان نے اپنے نکاح کو خُفیہ رکھنے کی وجہ بتادی۔ تفصیلات کے مطابق عریشہ رضی خان نے گزشتہ دنوں نجی چینل کے ایک پروگرام میں اپنی بہن سارہ رضی خان کے ہمراہ شرکت کی۔ دوران شو میزبان نے ان سے سوال کیا کہ”آپ کے نکاح کی تصویروں کو لے کر ایک تنازع کھڑا ہوا، آخر آپ اپنے نکاح کی خبر اپنے مداحوں سے کیوں چُھپا رہی تھیں؟”میزبان کے سوال پر اداکارہ نے جواب دیا کہ “وہ وقت مناسب نہیں تھا، میں خود اپنے پرستاروں کو بتانا چاہتی تھی لیکن میری خواہش تھی کہ جب میری رخصتی ہو اس وقت میں اپنے نکاح کا اعلان کروں۔” بطور چائلڈ آرٹسٹ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی اداکارہ عریشہ رضی خان نے مزید کہا کہ “میں رخصتی کے وقت بالترتیب تمام تقریبات کی تفصیلات اپنے پرستاروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی،چونکہ مجھے معلوم تھا کہ رخصتی میں ابھی کافی وقت ہے اس لئے پہلے سے نکاح کا اعلان کرنا ٹھیک نہیں سمجھا۔” یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی کے آخر میں 22 سالہ عریشہ رضی خان کے نکاح کی تصاویر اور ویڈیوز ان کے فوٹوگرافر کی جانب سے اچانک منظر عام پر آنے کے بعد وائرل ہوگئی تھی۔

وزیراعظم کی مسلم لیگ (ن) بلوچستان کےوفدکی ملاقات ، سیاسی صورتحال پرمشاورت

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جعفر خان مندوخیل کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے 8 رکنی وفد نے ملاقات کی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جعفر خان مندوخیل کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے 8 رکنی وفد نے ملاقات کی ، اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کاکہنا تھا کہ حکومت بلوچستان میں سی پیک کے ترقیاتی منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا اصل اثاثہ باصلاحیت بلوچ نوجوان ہیں، حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور لیپ ٹاپس فراہم کرے گی۔
ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی ، وفد نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کے لیے خصوصی منصوبے شامل کرنے پر وزیراعظم سے اظہار تشکرکیا۔
لیگی وفد میں جمال شاہ کاکڑ، سردار یعقوب ناصر، آغا شاہ زیب درانی، عامر افضل مندوخیل، چوہدری نعیم، نصیر اچکزئی اور ظہیر خان کاکڑ شامل تھے۔

فوڈ فورٹیفیکیشن – ناقص غذائیت کا حل

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں ناقص غذائیت طویل عرصے سے بڑھتی جا رہی ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کا ایک طریقہ ‘فوڈ فورٹیفیکیشن’ ہے۔ فورٹیفیکیشن کے ذریعے کھانے کی مصنوعات میں اہم غذائی اجزاء کا اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ ان کی قدرتی غذائیت کومزید بہتر بنایا جا سکے۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ غذائیت کی کمی، خاص طور پر وٹامن اور معدنیات کی قلت کو کم کرنے کا ایک قابل عمل حل رہا ہے۔
فورٹیفیکیشن، خاص طور پر بچوں کے کھانے میں غذائیت کی قلت کو کم کرنے کا ایک بہترین حل ہے جس سے ان کی صحت پر مثبت اثرات واقع ہوتے ہیں۔ وٹامن اے، آئرن، آیوڈین، زنک اور فولک ایسڈ جیسے ضروری وٹامنز آور معدنیات کے مقدار میں اضافہ کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔
ناقص غذائیت کو کم کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے مفید اثرات آبادی کے ایک بڑے حصہ تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ اس میں عام طور پر استعمال ہونے والی مصنوعات میں غذائی اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ مصنوعات آسانی سے مختلف علاقوں اور کمیونٹیز میں دستیاب کی ہوتی ہیں، بشمول دیہی اور دور دراز کے علاقے جہاں متنوع خوراک تک رسائی محدود ہوتی ہے۔
فورٹیفیکیشن کا ایک حدف یہ بھی ہے کہ آبادی میں موجود مخصوص غذائی اجزاء کی قلت کو بھی دور کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، آئرن کی کمی کے عوارض کو گندم کے آٹے، دودھ اور ڈیری نیوٹریشن سلوشنز کی آئرن فورٹیفیکیشن کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، آئوڈین کی کمی کو ختم کرنے کے لیے نمک میں آیوڈین کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی ناقص غذائیت کے مضر اثرات کو دور کرنے میں مدد کرتی ہے اور متعلقہ صحت کے مسائل کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
غذائیت کی کمی پر قابو پانے کے لیے مصنوعات کو مضبوط بنانا ضروری ہے کیونکہ مائیکرو نیوٹرینٹ کی کمی مدافعتی افعال کو نقصان پحنچا سکتی ہے، انفیکشن اور بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، ذہنی نشو و نما میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اور ‘سٹنٹڈ گروتھ’ میں حصہ ڈال سکتی ہے۔ وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ کھانے کو مضبوط بنانے سے ان غذائی اجزاء کی مناسب مقدار کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے اوران کمیوں کو وسیع پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ناقص غذائیت پر قابو پانے کے لیے فورٹیفیکیشن کا ایک قابل عمل حل ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسے اکثر دیگر مداخلتوں کے مقابلے میں سستا سمجھا جاتا ہے۔ یہ موجودہ خوراک کی پیداوار اور تقسیم کے نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے، جس سے لوگوں کی غذائی عادات میں کم سے کم تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید برآں، خوراک کو مضبوط بنانے کی قیمت نسبتاً کم ہے، جس سے یہ آبادیوں کی غذائیت کی کیفیت کو بہتر بنانے کے لیے اقتصادی طور پر قابل عمل طریقہ ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں جن کے لیے بڑے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے مشکل ہیں، غذائی اجزاء جیسے آئرن اور ضروری وٹامنز کی قلت کو کم کرنے کے لیے فوڈ فورٹیفیکیشن نسبتاً آسان طریقہ ہے۔ایک جو تھوڑے وقت میں بڑا اثر دکھا سکتا ہے۔۔ شاید یہی وقت ہے کہ حکومت سرکاری اور نجی شعبے کی فوڈ کمپنیوں کو مصنوعات کو مضبوط بنانے کے لیے ترجیح دینا شروع کرے اور تو اور ان کی آگاہی میں بھی اضافہ کرے تاکہ صارفین فورٹیفائیڈ فوڈ کی قدر کریں اوران کا استعمال کریں۔

الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے: اسحاق ڈار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں اقتصادی جائزے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، اگلے مالی سال میں ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا کہ الیکشن نہ بھی ہوتا پھر بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے، ایف بی آر کا 9 ہزار 200 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف سائنسی بنیادوں پر رکھا گیا، ایف بی آر کا نئے مالی سال کا ہدف غیر حقیقی نہیں ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ مہنگائی اور شرح نمو کے حساب سے ٹیکس کا ٹارگٹ رکھا جاتا ہے، بجٹ میں 223 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات شامل کئے گئے ہیں، اس سال 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان رجسٹرڈ کئے گئے، 7 لاکھ ہدف کے بجائے 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں اقتصادی جائزے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے، اقتصادی جائزے میں تاخیر کی وجہ سے بجٹ اسٹریٹجی پیپر بھی تاخیر کا شکار ہوا، اگلے مالی سال ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن نہ بھی ہوتا تو ملک کو زیرو فیصد گروتھ سے نکالنا تھا، نوجوان طبقہ، خواتین کو بااختیار بنانا اور اسکل ڈیویلپمنٹ پروگرام حکومت کی ترجیح ہے، بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر اور ایس ایم ایز پر توجہ دی ہے۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اس سال اوسط مہنگائی 29 فیصد اور کور انفلیشن 20 فیصد ہے، سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے، پنشنرز کو بھی مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں تاجروں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بندرگاہوں پر 11 ہزار کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، جس پر وفاقی وزیر خزانہ نے کراچی پورٹ پر کھڑے کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کی رپورٹ طلب کر لی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے ہیں، سمگلنگ کم ضرور ہوئی ہے مگر ابھی ختم نہیں ہوئی، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایکشن لے رہے ہیں، 5 ارب روپے مالیت کی چینی قبضے میں لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیرمعمولی منافع پرٹیکس سے متعلق ترمیم کی گئی ہے، وفاقی حکومت نے اس پر قانون شامل کیا ہے اور وہی تناسب کا فیصلہ کرے گی، 99 ڈی کے قانون کے تحت 50 فیصد تک ٹیکس غیرمعمولی منافع پر لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چین سے ایک ارب ڈالر آج یا سوموار کو آجائیں گے جو ہم نے قرض واپس کیا وہ دوبارہ مل رہا ہے، چین کے ساتھ ایک ارب ڈالر پر گفت و شنید مکمل ہوچکی ہے، بینک آف چائنہ کے ساتھ بھی 30 کروڑ ڈالر پر بات چیت چل رہی ہے، چین کے سواپ معاہدے کے تحت بھی ڈالرز آئیں گے۔

تھانہ نذر آتش کیس: سابق وزیر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت خارج

لاہور: (ویب ڈیسک) انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے کے کیس میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 34 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، اے ٹی سی کے جج اعجاز احمد بٹر نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے سابق صوبائی وزیر یاسمین راشد سمیت 12 ملزمان کی درخواست ضمانت خارج کرنے کا حکم دیا جبکہ دیگر 22 شریک ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضمانت ملنے والے 22 ملزمان میں زیادہ تر نابالغ لڑکے شامل ہیں جبکہ چار ملزمان کے حق میں بیلف رپورٹ موجود تھی۔
9 مئی کو یاسمین راشد کے زیراستعمال موبائل فون اور گاڑی برآمد
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی گرفتاری کے خلاف پُرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
پولیس نے 9 مئی کو ڈاکٹر یاسمین راشد کے زیر استعمال موبائل فون اور گاڑی برآمد کر لی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یاسمین راشد کا موبائل فون فرانزک کیلئے بھجوا دیا ہے، تفتیشی ٹیم نے جیل میں پی ٹی آئی رہنما سے تفتیش کی، جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ اکٹھے ہو کر احتجاج کیلئے گئی تھیں۔

ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں تعطل اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: وزیراعظم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں، معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران میاں شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے کی تلقین کی۔
میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں، منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں کی معینہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی تعمیراتی کام کی خود نگرانی کر کے معیار کو یقینی بنائیں، ترقیاتی منصوبوں کی لینڈ اسکیپنگ پر خصوصی توجہ دی جائے، ترقیاتی منصوبوں کی لینڈ اسکیپنگ کرتے وقت بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جائے۔

184/3 کیخلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کرینگے: چیف جسٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ہم 184/3 کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس پر سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بنچ کا حصہ تھے۔
سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ مجھے 10 منٹ دیں، میں دلائل دینا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے، اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں۔
اٹارنی جنرل کے دلائل
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹرا کورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے، جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 کے تحت کوئی کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور متعین ہیں، قانون ساز عہدِ حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا۔
منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس 5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہو گا، جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی کہ 184/3 کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کر دیا، ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے، آرٹیکل 184/3 میں نظرِ ثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا ہے، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا کہ 5 رکنی لارجر بنچ میں مرکزی کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے، قانون آج کے تقاضوں کے مطابق بنایا جاتا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کچھ کہنے لگے تو جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو دلائل جاری رکھنے کا کہہ دیا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت آرڈر 26 تک خود کو محدود نہیں کرتی، آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کار کو محدود نہیں کرتا۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کا 2002ء کے کیوریٹیو ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے بھارتی سپریم کورٹ نے دوسری نظرِ ثانی کی اجازت دی۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جی بالکل لیکن وہ محدود اختیار کے تحت دی گئی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 188 سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو وسیع کر سکتی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز اور مسابقتی ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سنگین غداری کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ آ سکتی ہے، آرٹیکل 185 کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے دلائل آپ کی اپنی کہی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں، نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے، اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی حاصل نہیں، ان تمام قوانین میں فیصلے کے خلاف اپیل کا ذکر ہے، یہاں اس قانون میں آپ نظر ثانی کو اپیل بنانے کی بات کر رہے ہیں، اپیل اور نظر ثانی میں زیرِ غور معاملہ الگ الگ ہوتا ہے، فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا الگ چیز ہے، نظر ثانی کا دائرہ اختیار الگ ہے، سمجھنا چاہتا ہوں آپ کا پوائنٹ کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟ چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور بھارتی قانون میں بھی یہی ہے، اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے، ہم 184/3 کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے، اگر اسے احتیاط کے ساتھ کیا جائے، سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کے لیے بننے والے لارجر بنچ میں پہلے فیصلہ دینے والے جج بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگلی سماعت میں دلائل مکمل کرنے کے لیے 45 منٹ لوں گا، آئندہ سماعت پر نظر ثانی کے سکوپ پر دلائل دوں گا۔
چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جو بنیادی سوال ہے اس پر بھی ہم آگے نہیں بڑھ رہے، اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

بجٹ میں سود کیخلاف حکومت کا کوئی اقدام نظر نہیں آیا: مشتاق احمد

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ مفروضوں پر مشتمل بجٹ میں سود کیخلاف حکومت کا کوئی اقدام نظر نہیں آیا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ کل وزیر مملکت فنانس نے بتایا کہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر دی گئیں، یہ دراصل آئی ایم ایف کا سودی بجٹ ہے، اس بجٹ میں سود کیخلاف کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا، پیش کردہ بجٹ مفروضوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرضے کون لے رہا ہے؟ اس پر کمیشن بنایا جائے، اس وقت ملک سری لنکا سے زیادہ ڈیفالٹ اور بے انتہا مہنگائی ہے، میں ایف بی آر کو فراڈ بی آر کہتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ معیشت پٹڑی پر چڑھے گی، بجٹ میں خیبرپختونخوا کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔
سینیٹر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ملک میں سود کا خاتمہ کیا جائے، سول سروس اور پولیس ریفارمز کی جائیں، مزدور کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔

سینیٹ: الیکشن ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سینیٹ میں الیکشن ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کے بل کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔
سینیٹ میں چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر مملکت شہادت اعوان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
بل کے مطابق الیکشن ایکٹ کی شق 57 اور 58 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت الیکشن کی تاریخ کااختیار صدر مملکت سے واپس لے لیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن نیا شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے گا جبکہ الیکشن پروگرام میں ترمیم بھی کر سکے گا۔
تاحیات نااہلی ختم،بل منظور
اجلاس میں آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی سے متعلق بل بھی منظور کرلیا گیا جس کے تحت نااہلی زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے لیےہوگی ۔
بل میں کہا گیا ہے کہ آئین میں جس جرم کی مدت سزا متعین نہیں، اس میں نااہلی پانچ برس سے زیادہ نہیں ہوگی، متعلقہ شخص پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو گا۔
الیکشن ایکٹ کی اہلی اور نااہلی سے متعلق سیکشن 232 میں ترمیم کا بل پیش گیا، جس میں کہا گیا کہ اہلیت اور نااہلی کا طریقہ کار، طریقہ اور مدت ایسی ہو جیسا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں فراہم کیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ جہاں آئین میں اس کے لیے کوئی طریقہ کار، طریقہ یا مدت فراہم نہیں کی گئی ہے، اس ایکٹ کی دفعات لاگو ہوں گی۔
بل میں تجویز کیا گیا کہ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ یا کسی بھی عدالت کے فیصلے یا حکم کے تحت سزا یافتہ شخص فیصلے کے دن سے پانچ سال کے لیے نااہل ہو سکے گا۔
سینیٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی ہے۔
دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان، اپوزیشن لیڈر اور اراکین کی مراعات کا بل بھی منظور کرلیا گیا جسے سینیٹر کہدہ بابر، منظور احمد، رضا ربانی اور دیگر نے ایوان میں پیش کیا۔

طوفان بائپر جوائے : سندھ کے مختلف ایئرپورٹس پر پروازیں منسوخ

کراچی : (ویب ڈیسک) سمندری طوفان بائپر جوائے کے پیش نظر سول ایوی ایشن حکام نے پروازوں کیلئے نیا نوٹم جاری کردیا، جس کے مطابق کراچی، سکھر، موہنجو داڑو اور نوابشاہ ایئر پورٹس پر پروازیں منسوخ کردی گئیں۔
سی اے اے کے اعلامیے کے مطابق محفوظ ہوائی سفر سے متعلق نوٹم تیز ہواؤں کے امکان کے باعث جاری کیا گیا جوآج رات 12 بجے تک نافذ العمل رہے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نوٹم کے تحت کراچی، سکھر، موہنجوداڑو اور نواب شاہ ایئرپورٹس پر پروازوں کو لینڈنگ یا ٹیک آف کی اجازت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ سمندری طوفان بائپر جوائے کے باعث سندھ کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کا راج ہے، کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے ۔
محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ 18 جون تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا ، اس دوران 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، سندھ اور مکران کے ساحلی علاقوں میں طغیانی کا بھی امکان ہے ۔