All posts by Khabrain News

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 سے 10 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان

لاہور: (ویب ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے 10 روپے فی لٹر تک کمی کا امکان ہے جس کے لئے اوگرا نے سمری حکومت کو بھجوا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 5 سے 10 فی لٹر کمی کی تجویز دی گئی ہے، ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 روپے فی لٹر تک کمی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار بھی رکھی جاسکتی ہیں۔
گزشتہ 14 دنوں میں برنٹ آئل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت زیادہ سے زیادہ 76.95 ڈالر فی بیرل تک رہی ہے، گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اوگرا سفارشات پر وزیر اعظم سے مشاورت کریں گے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ آج کیا جائے گا، آئندہ 15 دن کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد ہوگا۔

حکومت کا سرکاری ملازمین کو عید سے قبل تنخواہیں دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حکومت نے سرکاری ملازمین کو 23 جون کو تنخواہیں دینے کا فیصلہ کرلیا ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی طرف سے درخواست آرہی ہے کہ عید سے پہلے تنخواہ دی جائے، لہذا اس حوالے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کردی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 23 جون کو لوگوں کو تنخواہ دے دی جائے گی ۔

میئر کراچی انتخابات ، جماعت اسلامی کراچی کا چیف الیکشن کمشنرکوخط

کراچی: (ویب ڈیسک) میئرکراچی بننے میں ناکام امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 29 ارکان کو اغوا کیا، پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا گیا۔
خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا بنیادی مقصد صاف و شفاف الیکشن کرانا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا ، الیکشن کمیشن سے استدعا ہے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے فراڈ الیکشن کو کالعدم قرار دے کر نیا شیڈول جاری کرے۔
ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہر موقع پر الیکشن کمیشن کو سندھ حکومت کے غیر آئینی اورغیر جمہوری عمل سے آگاہ کیا، حاضری مکمل کی جاتی پھر میئر کے انتخاب کا عمل شروع کیا جاتا، بے رحمی سے مینڈیٹ کا قتل کیا گیا ہے، اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا ، یہ حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکا اور جبری قبضہ ہے، جس کے نتائج شہر اور ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے۔

شازیہ مری کی مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب ہونے پر مبارکباد

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب کراچی کا بیٹا ہے اور وہ کراچی کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے گا، یقین ہے کہ مرتضیٰ وہاب کراچی کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آج ثابت ہو گیا کہ کراچی کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے ، سندھ کے دیگر شہروں کے منتخب میئرز، ڈپٹی میئرز، ڈسٹرکٹ کونسلز، ٹاؤن کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو بھی مبارکباد دیتی ہوں۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب میئر کراچی منتخب ہو گئے ہیں ، غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق مرتضیٰ وہاب 173 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمٰن کو 161 ووٹ ملے ہیں ۔
دوسری جانب ڈپٹی میئر کا الیکشن بھی پیپلز پارٹی جیت گئی، سلمان عبداللہ مراد 173 ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے ہیں۔

وزیراعظم کو باکو میں صدارتی محل میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

باکو: (ویب ڈیسک) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ذگولبا صدارتی محل میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے 2 روزہ سرکاری دورہ آذربائیجان کے دوران باکو میں ذگولبا صدارتی محل گئے جہاں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے وزیرِ اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں آذر بائیجان کے قومی رہنما حیدر علیوف کے مزار پر حاضری دی۔
وزیر اعظم نے آذربائیجان کے قومی رہنما کو ان کی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

میئر کراچی کا انتخاب: پیپلزپارٹی اور جماعتِ اسلامی کے کارکنوں میں تصادم

کراچی: (ویب ڈیسک) میئر کراچی کے انتخاب کے موقع پر آرٹس کونسل کے باہر پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔
پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان نے ایک دوسرے پر شدید پتھراؤ بھی کیا اور نعرے بازی بھی کی، حالات کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اور رینجرز نے پیش رفت کی اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
اس موقع پر آرٹس کونسل کے باہر کھڑی متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
پتھراؤ کے بعد آرٹس کونسل کے باہر دونوں جماعتوں کے متعدد کارکنان زخمی ہوگئے، جبکہ کئی نیوز چینلز سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل بھی آج صبح جماعتِ اسلامی کراچی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان نے آرٹس کونسل کراچی کے سامنے شدید نعرے بازی کی، دونوں جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی سے صورتِ حال کشیدہ ہوئی۔
اس موقع پر وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے دونوں جماعتوں کے کارکنان کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔

چڑیاں آپ کے لیے پیغام لائی ہیں: چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چڑیاں آپ کے لیے پیغام لائی ہیں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آج بھی پنجاب انتخابات اور سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے ریویو اینڈ ججمنٹ ایکٹ پر دلائل دئیے۔
سماعت کے آغاز پر چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آئیں تو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو چڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چڑیاں شاید آپ کیلئے کوئی پیغام لائی ہیں۔
جس پر اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ امید ہے پیغام اچھا ہو گا، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا وہ زمانہ بھی تھا جب کبوتروں کے ذریعے پیغام جاتے تھے۔
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 184(3) سے متعلق ایک فیصلہ منظور الہیٰ کیس میں آیا، چودھری ظہور الہیٰ کو کیس میں گرفتار کر کے قبائلی علاقے لے جایا گیا۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ ملتا جلتا معاملہ ہونے پر چیف جسٹس نے 184(3) کی درخواست پر اختیار کے استعمال سے گریز کیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تمام ججز نے کہا تھا یہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے، آپ فیصلے کا پیرا گراف 47 بھی پڑھیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں میرا زیادہ انحصار پیراگراف 45 پر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ میں فیصلہ پڑھ کربتاؤں گا کہ گزشتہ سالوں میں 184(3) کا دائرہ اختیار کیسے بڑھتا گیا؟ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ 184 (3) کے ساتھ نظرثانی کا دائرہ اختیار کیوں اور کیسے بڑھنا چاہیے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ درخواست گزار کا مؤقف بھی زرا سمجھیں، درخواست گزار کو اس پر اعتراض نہیں کہ آپ نے کیوں کیا، درخواستگزار کہتے ہیں موسٹ ویلکم لیکن آئینی ترمیم سے کریں، عدالت بھی مانتی ہے کہ دائرہ کار وسیع ہوں لیکن اس میں وجوہات بھی تو شامل کریں، ورنہ تو آپ عدالت کے معاملات کو ڈسٹرب ہی کریں گے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سمجھنے میں دشواری ہے 184 (3) میں فیصلوں کے خلاف نظرثانی کو دیگر فیصلوں سے الگ کیسے کیا گیا؟ میرے لیے تو سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کے خلاف نظرثانی کا پیمانہ ایک ہے، آپ جو قانون لے کر آئے ہیں اس میں الگ الگ پیمانہ لائے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظرثانی کا دائرہ کار بڑھانا اور اپیل کے مترادف قرار دینا الگ الگ چیزیں ہیں۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ جب نظرثانی کا معاملہ ایک ہی ہے تو سکوپ الگ کیسے ہوسکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے یہ نکات نوٹ کرلیے ہیں ان پر بھی معاونت کروں گا۔
اٹارنی جنرل نے دلائل میں وطن پارٹی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا میں فیصلوں کے حوالوں کے بعد سپریم کورٹ رولز پر بھی آؤں گا، وقت کے ساتھ 184 (3) کا ہی دائرہ کار وسیع ہوا، اب نظرثانی ہونی چاہیے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ چیزوں کو کاٹ کر الگ کیسے کرسکتے ہیں؟ آخر میں کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی کہلائے گا، نظرثانی میں عدالت کے سامنے معاملہ دو فریقین کے تنازع کا نہیں ہوتا، نظرثانی میں عدالت کے سامنے اپنا ہی سابقہ فیصلہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ادوار میں 184(3) کے دائرہ اختیار کو مختلف انداز میں سمجھا ہے، امریکی سپریم کورٹ نے بھی مختلف ادوار میں الگ طرح سے پرکھا، ہوسکتا ہے مستقبل میں 184(3) کے اختیار کو اور طرح سے سمجھے، ایسے میں آپ کے اس ایکٹ کا مستقبل کیا ہو گا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نظرثانی کو دوبارہ سماعت جیسا بنانا ہے تو آپ ضرورکریں، اس کے لیے آپ درست قانونی راستہ اختیار کریں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں یہ بھی بتا دوں گا کہ نظرثانی کا ارتقاء کیسے ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ گڈ یعنی اب ہم نظرثانی کے ارتقاء پر آپ کو سنیں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے 1859 کے ایکٹ پر بات کروں گا، اٹارنی جنرل نے 1877 کے ایکٹ کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا آپ کو دلائل میں کتنا وقت لگے گا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی وقت درکار ہوگا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

آصف زرداری، بلاول بھٹو کی مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب ہونے پر مبارکباد

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مرتضیٰ وہاب کو کراچی کا میئر منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔
سابق صدر آصف زرداری کے ترجمان کے مطابق آصف علی زرداری نے سندھ کے تمام میئرز، ڈپٹی میئرز، ڈسٹرکٹ کونسلز اور ٹاؤن کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو بھی مبارک باد دی ہے۔
اپنے بیان میں سابق صدر کا کہنا ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کی کامیابی کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔
آصف زرداری نے سندھ کے تمام میئرز، ڈپٹی میئرز، ڈسٹرکٹ کونسلز اور ٹاؤن کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ اپنے دفتروں کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھیں، آج ہی سے اپنا کام شروع کر دیں۔
مرتضیٰ وہاب کے کندھوں پر اب بھاری ذمے داریاں ہیں: بلاول بھٹو زرداری
پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی اور سلمان عبداللہ مراد کو ڈپٹی میئر منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کراچی کے جیالوں کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے، ملک کے معاشی حب میں نفرت اور تقسیم کی سیاست اپنے منطقی انجام کو پہنچی، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہرِ قائد کو حقیقی معنوں میں عروس البلاد بنائیں گے، کراچی اب ترقی، امن اور بھائے چارے کا گہوارہ بنے گا، کراچی کی ہر گلی، محلے اور علاقے کے بلدیاتی مسائل بلاامتیاز حل کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرتضیٰ وہاب اور سلمان عبداللہ مراد سمیت پیپلز پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں کے کندھوں پر اب بھاری ذمے داریاں ہیں، مجھے یقین ہے، ماضی میں کٹھن ترین حالات کا مقابلہ کرنے والے جیالے اب کی بار بھی سرخرو ہوں گے۔

طوفان سے متاثرہ 8 ٹاورز کی بحالی کا کام تین دن میں مکمل کرلیا جائےگا : خرم دستگیر خان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ سمندری طوفان سے 8 ٹاورز متاثرہوئے ، این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں متحرک ہیں اور بحالی کا کام تین دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجینئر خرم دستگیر خان نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی جانب سے 132کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کے 8 منہدم ٹاورز پر جاری بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا ۔
مذکورہ ٹرانسمیشن لائن حیدرآباد کے قریب جھمپیر ونڈ کلسٹر میں انڈس، لبرٹی-1 اور لبرٹی-2 ونڈ پاور پلانٹس سے جھمپیرIIگرڈ سٹیشن تک بجلی کی ترسیل کیلئے بنائی گئی ہے اوراسکے8ٹاورز14جون کوشدیدآندھی کے باعث گرگئے تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرتوانائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سمندری طوفان کے اثرات سے متاثر ہونے والے ٹاورز کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے جوتین دن میں مکمل کر لیا جائے گا ، این ٹی ڈی سی کی ٹیمیں بحالی کیلئے انتہائی مستعدی سے کام کر رہی ہیں۔
انجینئر خرم دستگیر خان نے کہاکہ ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے ونڈ پاور کلسٹر سے60میگاواٹ بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی جبکہ 134میگاواٹ بجلی کی سپلائی جاری ہے، جھمپیرگرڈ سٹیشن معمول کے مطابق کام کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر معمولی صورتحال پیش نہ آئی تو اگلے72گھنٹے میں ٹرانسمیشن لائن کو بحال کردیاجائے گا۔
قبل ازیں منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی، انجینئر ڈاکٹر رانا عبدالجبار خان نے وفاقی وزیر کو ٹرانسمیشن لائن کی بحالی کے کاموں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی نے مذکورہ تین ونڈ پاور پلانٹس کو دوبارہ جھمپیر گرڈ سٹیشن سے منسلک کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے کاموں کیلئے این ٹی ڈی سی کے ویئرہاوس سے سامان کا بندوبست کیا گیا، منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی نے وفاقی وزیر کو ٹرانسمیشن لائن بحالی کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہورکے بیشتر علاقوں میں رات سے اب تک موسلا دھار بارش کے 3 سپیل برس چکے ہیں جبکہ صوبائی دارالحکومت میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
سب سے زیادہ بارش قرطبہ چوک پر 153 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، پانی والا تالاب میں 108 اور لکشمی چوک میں 103 ملی میٹر بارش ہوئی۔
اسی طرح ایئرپورٹ اور تاجپورہ کے علاقوں میں 71،71 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، مغلپورہ میں 65، گلشن راوی میں 62، اپرمال پر 61 اور فرخ آباد میں 55 ملی میٹر بادل برسے۔
جوہرٹاؤن میں 45، اقبال ٹاؤن میں 44، نشتر ٹاؤن میں 44، سمن آباد میں 34 اور چوک ناخدا میں 25 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
موسلادھار بارش کے باعث شہر کے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے، رنگ روڈ، شاہدہ، کشمیر روڈ، شملہ پہاڑی، بٹ چوک، جی پی او چوک، کوئین میری کالج، ڈیوس روڈ، گلبرگ، انارکلی،موہنی روڈ، سمن آباد، غازی آباد، سولنگ روڈ، بھٹہ چوک کے علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہو گیا۔
اس کے علاوہ بیدیاں، ہڈ یارہ، ڈیفنس روڈ، رائے ونڈ روڈ، سگیاں، جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ ،کوئنز روڈ، مصری شاہ، شمالی لاہور، شاد باغ، فیکٹری ایریا کی متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں جہاں سے نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے۔