All posts by Khabrain News

سندھ کابینہ نے نئے مالی سال کیلئے 2244 ارب کے بجٹ کی منظوری دیدی

کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 24-2023 کے لئے 2244 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ سندھ حکومت کے پانچ سالہ عرصے کا یہ آخری پری بجٹ کابینہ اجلاس ہے، باقی کابینہ کے اجلاس معمول کے مطابق ہوتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی کامیابی کا مظہر بلدیاتی انتخابات ہیں،پیپلز پارٹی نے سندھ کے ہر ضلع میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، عام انتخابات میں پورے پاکستان میں انتخابات جیتیں گے۔ کابینہ اجلاس میں سندھ میں ایک سے 16 گریڈ ملازمین کی تنخواہوں میں 35فیصد اور گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
سندھ کابینہ نے صوبے میں کم از کم اجرت 35ہزار روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے، بجٹ دستاویزات کے مطابق بجٹ میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 410 ارب مختص کئے گئے ہیں۔
سندھ میں نئی 1937 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 88 ارب سے زائد رقم رکھی گئی ہے جبکہ سندھ میں جاری 3311 اسکیموں کے لیے 291 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر بجٹ میں 5248 اسکیموں کے لیے 380 ارب رکھے گئے ہیں،شعبہ تعلیم کے لیے 34 ارب 69 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،شعبہ صحت کے لیے 19 ارب 73 کروڑ سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔
بجٹ میں زراعت کے لیے 6 ارب 97 کروڑ روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے،سندھ میں پیپلز بس سروس کے لیے ایک ارب 15 کروڑ سے زائد رقم مختص کی گئی ہے،سندھ میں 20 نئی ہائیبریڈ ڈیزل بسیں خریدی جائیں گی۔

کم از کم 51 ہزار تنخواہ سے انکم ٹیکس کٹوتی کا عمل شروع ہو گا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا ہے اور کم از کم اجرت 32 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے گزشتہ مالی سال کی انکم ٹیکس سلیبز کو برقرار رکھ کر تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق 51 ہزار تنخواہ سے انکم ٹیکس کٹنا شروع ہو گا جو کہ 25 روپے بنتا ہے، 60 ہزار تنخواہ حاصل کرنے والوں کے 250 روپے کٹیں گے، 70 ہزار تنخواہ حاصل کرنے والوں سے 500 روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
80 ہزار ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے ٹیکس کی مد میں 750 روپے دیں گے، نوے ہزار تنخواہ پر 1 ہزار اور 1 لاکھ تنخواہ پر 1250 روپے ٹیکس کی مد میں وصول کئے جائیں گے۔

معیشت مستحکم ، اب شرح نمو بڑھانےکی طرف جانا ہے: وزیرخزانہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ معاشی استحکام ہو چکا ہے اب شرح نمو بڑھانےکی طرف جانا ہے، ترقیاتی بجٹ پر درست طور پر عمل ہو تو شرح نمو کا ہدف حاصل کرلیں گے، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے۔
اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کئے جانے والے وفاقی بجٹ برائے مالی سال 24-2023 کے خدوخال بیان کئے اور اس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد تجاویز کو ڈیل کرنےکے لیے کمیٹی بنائی جارہی ہے، پرائیوٹ پبلک سیکٹرکو لےکر چلنے سے ملک کا پہیہ چلےگا، ایف بی آر کی کلیکشن 12,163 ارب روپے ہے، ایس ڈی پی میں ہیلتھ، ایجوکیشن سوشل سیکٹر اور ٹرانسپورٹ کے لیے بجٹ رکھا گیا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559ارب روپے ہے، وفاق کا 1150ارب کا ترقیاتی بجٹ ہے، پی ایس ڈی پی پر شفاف طریقے سے عمل کیا تو نظام بہتر ہوجائےگا، گزشتہ حکومت نے پبلک قرضے بڑھا دیے، قرضوں کی مد میں اس بجٹ میں بھی بڑی رقم جائےگی، بجٹ کے اہداف حاصل کریں گے، گروتھ ہوگی تو ملک کا پہیہ صحیح چلےگا، آئندہ مالی سال ترقی کی شرح کو 3.5فیصد رکھا ہے، افراط زر کا ہدف 21 فیصد ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 8.7 فیصد ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ بجٹ روایت سے ہٹ کر بنایا ہے،گروتھ ہوگی تو ملک ترقی کرےگا، زراعت پر خصوصی توجہ دی ہے، زرعی شعبہ سب سے زیادہ اور سب سے جلد فائدہ دیتا ہے، ملک کو دوبارہ ترقی پر ڈالنا ہے، آئی ایم ایف کا خیال ہےکہ شرح نمو 4 فیصد ہو سکتی ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا بوجھ ہے، 4 سال میں قرض بھی دگنا ہوگیا اور شرح سود بھی 21 فیصد ہوگئی، شرح نمو بہتر ہوگئی تو روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زرعی قرض کے لیے 2250 ارب روپے رکھے ہیں، 50 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے، بیجوں کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں، ملک میں زرعی انقلاب لائیں گے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایس ایم ایز کے لیے وزیر اعظم کی ہدایت پر سکیم تیار کی جا رہی ہے، بزنس اور زراعت کے قرضوں کے لیے رقم مختص کی گئی ہے، آئی ٹی سیکٹر کے لیے خصوصی اکنامک زونز جلد مکمل کریں گے، زراعت کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات سے فوڈ سکیورٹی بڑھےگی ، ایگرو زرعی ایس ایم ایز کو سستے قرض فراہم کریں گے ، وزیراعظم کےکسان پیکج کے بعد گندم کی پیداوار میں کافی فرق نظر آیا، زرعی ٹیوب ویلز کو سولر پر شفٹ کرنا ضروری ہے، 50 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر پرکرنےکے لیے 30 ارب روپے رکھے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کی ترقی کے لئے بجٹ میں رقم رکھی ہے، بیواؤں کے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کا قرض حکومت ادا کرےگی، اگلے سال ایک لاکھ لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے 10 ارب رکھے گئے ہیں، توانائی کے شعبے میں سولر وغیرہ کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی ہے، آٹا، گھی، تیل، دالوں پر ٹارگٹڈ سبسڈی کے لئے 35 ارب رکھے ہیں، کوشش ہے کہ یہ رقم بڑھا کر 40 ارب روپے کردی جائے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی مہنگائی سے کمر ٹوٹ گئی ہے ، اسی لئے ایک سے سولہ گریڈ کے ملازمین کو 35 فیصد، 17 سے 22 گریڈ تک 30 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 24-2023 کے لیے 14 ہزار 460 ارب کا بجٹ پیش کیا تھا۔

جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی نہ کوئی آفر قبول کی، پرویز خٹک کی تردید

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی نہ ہی کوئی آفر قبول کی۔
ایک انٹرویومیں پرویز خٹک نے استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین سے ملاقات کی تردید کردی ہے۔
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اس وقت میں سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
پرویز خٹک نے کہا کہ جہانگیرترین کی پارٹی میں نہ سیکرٹری جنرل کی آفر ہوئی ہے نہ ایسی کوئی آفر قبول کی،انہوں نے کہاکہ میں اپنی جگہ پر ہوں اور صوبے میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں ہوں۔

شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت منظور، پولیس کو گرفتاری سے روک دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے شاہ محمود قریشی کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست منظور کرتے ہوئے 27 جون تک عبوری ضمانت منظور کی اور پولیس کو شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے سے روک دیا، عدالت نے ایک ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔
واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے تھانہ ریس کورس، تھانہ گلبرگ اور تھانہ سرور روڈ کے مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
تحریک انصاف کا روشن مستقبل نظر آ رہا ہے: شاہ محمود قریشی
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کا روشن مستقبل نظر آ رہا ہے، ہر سیاسی شخصیت کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا حق ہے، آئین کے مطابق چلنا ہے تو الیکشن کرانے پڑیں گے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں بار بار ترمیم ہوتی رہے گی، 12 اگست کو موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پوری ہو رہی ہے، نگراں حکومت کو اس بجٹ پر نظرثانی کرنی پڑے گی اور آنے والی منتخب حکومت بجٹ پر دوبارہ نظرثانی کرے گی۔
وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا، تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا لیکن اس کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا، بجٹ کے نام پر قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے، اسحاق ڈار نے معیشت کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا ہے، بجٹ میں الیکشن کیلئے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 6 جون کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کی جانب سے رہائی کا تحریری حکم نامہ جاری ہونے پر انہیں رہائی ملی تھی۔

حافظ نعیم الرحمن نے میئر کراچی کیلئےکاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

کراچی : (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے ریجنل الیکشن کمیشن میں میئر کراچی کے لیے نامزدگی فارم جمع کرادیے۔
میئر اور ڈپٹی میئر کراچی کے انتخاب کے معاملے پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری دن ہے اس سلسلے میں حافظ نعیم الرحمن نے 3 الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ، ریٹرننگ افسر نے کاغذ کی جانچ پڑتا ل کے لئے حافظ نعیم الرحمن کو کل11بجے طلب کرلیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کل ہم پاکستان بھر میں احتجاج کرنے جا رہے ہیں، کراچی میں کل شاہراہ قائدین پر احتجاج ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک فاشسٹ پارٹ کے طور پر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کررہی ہے ، پیپلز پارٹی کا چہرہ دنیا کو دکھانے جا رہے ہیں، میئر کے انتخاب سے قبل قانون میں ترمیم کی گئی ہے، ہم نے ترمیم کے خلاف کیس کیا ہے، ہمیں یقین ہے کہ عدالت اس ترمیم کو مسترد کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن نہیں فراڈ کا عمل جاری ہے، کچھ بھی کرلیں یہ سب ناکام ہو جائیں گے، الیکشن کمیشن کے پاس موقع ہے کہ اپنی ساکھ بحال کرے، اس وقت پیپلز پارٹی کا کراچی پر مکمل قبضہ ہے.
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ لوگ غائب ہو رہے ہیں اس کی ذمے داری اداروں پر ہے، کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں سے انصاف حاصل کریں، ہم اپنے منتخب لوگوں سے رابطے بڑھا رہے ہیں، اس وقت پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کو یرغمال بنا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 1977ء میں بھی پیپلز پارٹی نے اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی، 1971ء میں بھی ملک کو توڑ دیا لیکن مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا، وفاق سے وسائل تو حاصل کر لیے لیکن بلدیاتی نمائندوں کو نہیں دے رہے، ڈھائی سال الیکشن نہیں ہوئے ہم نے پھر بھی مقابلہ جاری رکھا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی 9 لاکھ ووٹوں کے ساتھ کراچی میں آگے ہے جبکہ پیپلز پارٹی 3 لاکھ ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، پھر بھی کہتے ہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، کس قانون کے تحت یہ کہتے ہیں ہمارا میئر بنے گا، شو آف ہینڈز سے انتخاب ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ اپنی ساکھ بحال کرتے مینڈیٹ تسلیم کرتے، اس وقت لوگوں کی زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔

آئی ایم ایف سے معاہدہ میں تاخیر کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی ہیں: خرم دستگیر

گوجرانوالہ : (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ میں تاخیر کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی کو قرار دے دیا۔
گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قرض میں تحریک انصاف نے 90 فیصد اضافہ کیا جس سے پاکستان کے وسائل سکڑ گئے، گزشتہ حکومت نے سی پیک کو بھی روکا، منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 2019 میں آئی ایم ایف سے اس وقت کی حکومت نے بھیانک سودا کیا پھر بھیانک طریقے سے 2021 اسے میں توڑا، چیئرمین پی ٹی آئی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی بگاڑ پیدا کیا، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے کوئی پاکستان پر اعتماد کیلئے تیار نہیں ہے، آئی ایم ایف کا معاہدہ نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ عمران خان کے امریکا مخالف بیانات ہیں۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا، بجٹ میں سولر پینل اور خام مال پر بھی کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، یکم جولائی سے سولر پینل کے خام مال کی امپورٹ مفت ہو جائے گی۔
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ تھر اب خواب نہیں حقیقت ہے ہم اب وہاں سے بجلی پیدا کر رہے ہیں، نیوکلیئر سے بھی بجلی پیدا کر رہے ہیں، بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہم نے اسے روکا ہوا ہے، بجلی کی ترسیل میں بہت بڑی پیشرفت ہوئی ہے، وہ سی پیک جو گزشتہ حکومت نے مفلوج کر دیا تھا اب وہ بھی چل گیا ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس : اسدعمر کی درخواست ضمانت کی توثیق پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں درخواستِ ضمانت توثیق پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اسلام آباد کی کچہری میں جج سکندر خان نے اسد عمر کی درخواستِ ضمانت توثیق پر فیصلہ محفوظ کیا ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 19 جون کو اسد عمر کی درخواستِ عبوری ضمانت پر فیصلہ سنایا جائے گا۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے اسد عمر کی ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسد عمر نے تقریر کی نہ ان کی ویڈیو موجود ہے۔
وکیل نے کہا کہ اسد عمر کے خلاف ایف نائن پارک میں پی ٹی آئی ریلی میں موجودگی کا ثبوت نہیں، ان کے خلاف جھوٹ پر مبنی مقدمہ بنایا گیا ہے ، پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسد عمر کے خلاف ناقابلِ ضمانت دفعات مقدمے میں درج ہیں۔
بعدازاں کچہری میں اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹیوں کے فیصلے عوام کرتی ہے ، حکومت اس بجٹ کے لیے کہہ رہی تھی کہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے، حکومت یہ بجٹ نہ ہی پیش کرتی تو بہتر تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے پیدا کردہ سیاسی عدم استحکام سے معیشت کونقصان پہنچا: وزیراعظم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پیدا کردہ سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد ریلیف اور بحالی، گلوبل سپلائی چین میں رکاوٹوں اور جیواسٹریٹجک تبدیلیوں سے پیدا ہونیوالے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے نئے مالی سال کا بجٹ بنانا ایک مشکل کام تھا۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے پیدا کئے گئے سیاسی عدم استحکام نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، حالیہ بجٹ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کا آغاز ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے بجٹ بنانے کیلئے ایسے شعبوں کو ترجیح میں رکھا جن کے ذریعے اقتصادی ترقی تیز ہو، سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہو اور ملکی معیشت کو خودکفیل بنایا جا سکے، بجٹ میں کم سے کم اجرت کو بڑھا کر 32 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مہنگائی کے اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں میں بالترتیب 35 اور ساڑھے 17 فی صد تک اضافہ کر کے ریلیف فراہم کیا ہے۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کو اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، معاشی ترقی کا براہ راست تعلق سیاسی استحکام سے ہے، چارٹر آف اکانومی ہی عوامی خوشحالی کے لئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

منی لانڈرنگ کیس: سلیمان شہباز نے عدالت میں پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی

لاہور: (ویب ڈیسک) منی لانڈرنگ کیس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر حاضری مکمل کروائی۔
لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے منی لانڈرنگ مقدمے میں سلیمان شہباز سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اس کیس کا ریکارڈ کہاں پر ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا ریکارڈ پہلے چالان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔
جج بخت فخر نے کہا کہ تمام ریکارڈ نہیں ہے، اس مقدمے کی انویسٹی گیشن کس افسر نے کی تھی، تفتیشی افسر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کی تھی، مرکزی تفتیشی افسر علی مردان تھا جو آج کل کراچی تعینات ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ بیمار ہیں اس وجہ سے پراسیکیوٹر آج پیش نہیں ہوئے۔
شریک 3 ملزمان کے وکلاء اور پراسیکیوٹر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے کارروائی 24 جون تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر بریت کی درخواستوں پر دلائل کیلئے وکلاء کو طلب کر لیا۔