All posts by Khabrain News

چین؛ سرکاری ٹیلی کام کمپنی کی فلک بوس عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین کے وسطی شہر چانگشا میں 42 منزلہ فلک بوس عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس میں سرکاری ٹیلی کام کمپنی کا دفتر بھی ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’’سی سی ٹی وی‘‘ کے مطابق چانگشا کی تقریباً 715 فٹ بلند عمارت میں لگی خوفناک آگ کو بجھانے کے لیے 63 فائر فائٹر گاڑیوں اور 2 ہزار رضاکاروں کو بھیجا گیا ہے جنھوں گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا۔
خوفناک آگ نے 42 منزلہ فلک بوس عمارت کو مخدوش کردیا جس میں دو زیر زمین فلورز بھی تھے اور مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ اسی مقام پر ایندھن ذخیرہ کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے آگ لگی تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کے بلند شعلوں نے 42 منزلہ عمارت کے اکثر فلورز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرکاری سطح پر آتشزدگی کے واقعے میں جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم ہلاکتوں کی کا خدشہ ہے۔ فلک بوس عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

لکھنؤ میں ایک ماہ کے برابر بارش ایک دن میں ہوگئی؛ 15 ہلاکتیں

لکھنؤ: (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں موسلا دھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنؤ میں ایک دن میں اتنی بارش ہوگئی جتنی اوسطاً ایک ماہ میں ہوا کرتی ہے۔ بارش سے مختلف واقعات میں 15 افراد ہلاک ہوگئے۔
مسلسل ہونے والی بارش سے ایک کی گھر کی دیوار گر گئی جس کے ملبے تلے دب کر 12 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
اترپردیش کے محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک دن میں 155 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جو لکھنؤ میں اوسطاً ایک ماہ میں ہونے والی بارش کے برابر ہے۔ اس لیے سڑکیں زیر آب ٓگئیں اور کئی فٹ پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔
غیر معمولی بارش کے باعث شہر میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو بلاضرورت گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسکول اور کالج بھی بند ہیں جبکہ کاروبار زندگی معطل ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں بھی ممبئی اور لکھنؤ سمیت اترپردیش کے کئی شہروں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یوکرین میں 440 افراد کی اجتماعی قبر دریافت

کیئف: (ویب ڈیسک) یوکرینی حکام کو یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے مضافاتی علاقے ازیوم سے ایسی بڑی اجتماعی قبر ملی ہے جس میں 440 افراد کو ایک ساتھ دفن کیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے حکام نے گزشتہ دنوں دعوٰی کیا تھا کہ روس کے ہزاروں فوجی ازیوم کے علاقے سے نکل گئے ہیں جس کو وہ طویل عرصے تک لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
تاہم اب خبر رساں ادارے روئٹرز نے علاقائی پولیس چیف کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس علاقے سے ایک بڑی اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس سے 440 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
یوکرین حکام کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے پسپا ہوکر جا نے والے روسی فوجی جاتے ہوئے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دوسرا سامان بھی چھوڑ گئے تھے جو قبضے میں لے لیا گیا تھا۔
یوکرینی پولیس چیف سرہیف بالوینوف نے سکائی نیوز کو بتایا ہے کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں ملنے والی سب سے بڑی اجتماعی قبر ہے، جس میں 440 لاشیں ہیں، جن میں سے کچھ زمینی فائرنگ اور کچھ ہوائی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں‘۔
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی فوجوں کی پسپائی کے بعد اچانک ازیوم کا دورہ کیا تھا اور یوکرینی فوجیوں کو سراہا تھا۔
انہوں نے اجتماعی قبر سامنے آنے کے بعد روس پر الزام لگایا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بوچا کے علاقے میں کیا ہوا، یہ دارالحکومت کیئف کا مضافاتی علاقہ ہے جہاں حملے کے آغاز کے وقت روسی فوج داخل ہوئی تھی۔
یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی نے بھی روس پر جنگی جرائم کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اپریل میں ماریوپول پر ہونے والے حملوں میں ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں کونشانہ بنایا گیا۔
صدر زیلنکسی نے جمعرات کی رات ویڈیو خطاب میں کہا کہ ’روس جاتے ہوئے پیچھے اموات چھوڑ رہا ہے جس کا اسے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘
دوسری جانب روسنے عام شہریوں کو نشانہ بنانے یا جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کی تردید کی ہے جبکہ روسی صدر پوتن کی جانب سے ابھی تک ان کی فوجوں کو نقصان اور پیچھے ہٹنے کے حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

محمود خان نے فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی منظوری دیدی

پشاور: (ویب ڈیسک) صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی منظوری دے دی۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق وزیراعلیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزرا سمیت اراکین صوبائی اسمبلی سے ایک ماہ کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے سرکاری ملازمین کی 5 روز کی تنخواہ فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کی جائے گی جبکہ گریڈ 3 سےگریڈ 16 تک کے ملازمین کی 2 روز کی تنخواہ فنڈ میں شامل کی جائے گی۔
محکمہ خزانہ کے مطابق ان تمام احکامات کا اطلاق صوبائی حکومت کے زیرانتظام خودمختار اور پبلک سیکٹر ادارے کے ملازمین پر بھی ہوگا جبکہ سرکاری پروجیکٹ ملازمین، کنٹریکٹ ملازمین اور کنسلٹنٹس کی تنخواہوں سے بھی کٹوتی کی جائیگی۔

سیلاب نے صوبے میں بہت نقصان کیا، کوشش ہے جلد مشکلات ختم ہوں: عبدالقدوس بزنجو

آواران: (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ سیلاب نے بلوچستان میں بہت نقصان کیا، کوشش ہے صوبے کی عوام کی مشکلات جلد ختم ہوں۔ سیلاب ہو زلزلہ یا امن امان کا مسئلہ ہر مشکل گھڑی میں پاک فوج نے بھرپور مدد کی۔
آواران کے دورے کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنے اداروں کا احترام کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آوران کا نہیں پورے بلوچستان کا خدمتگار ہوں ۔آج اپنے اس علاقے میں ہوں جہاں چند سال قبل حالات انتہائی خراب تھے۔ عبدلقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ امن وامان کی خراب صورتحال نے ہمیں کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں گرلزکیڈٹ کالج بنائیں گے یہ خواب شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کاتھا۔گرلز کیڈٹ کالج کا افتتاح شہید کی فیملی سے کرائیں گے۔ کسی کے انفرادی عمل پر پورے ادارے پر تنقید کرنا مناسب نہیں ۔ملک کی حفاظت اور سلامتی میں افواج پاکستان کا اہم کردار رہا ہےاسمبلی میں آج کوئی اپوزیشن نہیں۔ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔
عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سیلاب ہمارے لئے کڑا امتحان ہے ۔پورے صوبے میں نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں ۔سیلاب متاثرین کی بحالی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ تنقید کرنے والے کرتے رہیں اس کی پرواہ نہیں۔
وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ خود جاؤں یا نہ جاؤں اصل مقصد عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔میرے جانے سے پوری انتظامیہ پرٹوکول میں لگ جاتی ہے۔آوران میں تعلیم صحت کی سہولیات ہماری ترجیحات ہیں۔وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے آواران کے لئے صحت تعلیم اور بجلی منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا۔

روبوٹ کو بھی لطیفوں پر ہنسنے کی تربیت دی جانے لگی

ٹوکیو: (ویب ڈیسک) ایک روبوٹ کی انسان کے ساتھ مشابہت کو مزید بڑھانے کے لئے لطیفوں پر ہنسنا سِکھا دیا گیا ہے،جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے محققین مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مناسب ہنسی کے حوالے سے اور قہقہے اور تیز آواز چیخ کے درمیان فرق کرنے کے لئے روبوٹس کی تربیت کر رہے ہیں۔
فرنٹیئر اِن روبوٹکس اینڈ اے آئی نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے بتایا کہ وہ ایرِیکا نامی ایک روبوٹ کے ساتھ اس امید پر کام کر رہے ہیں کہ روبوٹ کے ساتھ گفتگو کو مزید قدرتی بنایا جاسکے۔
کیوٹو یونیورسٹی کے شعبہ انٹیلی جنس سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر کوجی اِنوو کا کہنا تھا کہ محققین کا خیال ہے کہ کسی کا ہم احساس ہونا مصنوعی ذہانت کے گفتگو کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔
ان کے مطابق گفتگو کی درست جواب دینے کے علاوہ متعدد جہتیں ہوتی ہیں، لہٰذا سائنس دانوں نے فیصلہ کیا کہ روبوٹ کے صارف کے ہم احساس ہونے کا ایک طریقہ قہقہوں کا تبادلہ ہو سکتا ہے جو آپ ایک چیٹ بوٹ کے ساتھ نہیں کر سکتے۔
’شیئرڈ لافٹر ماڈل بنانے کے لئے محققین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا تاکہ ہنسی کی نشان دہی میں مدد مل سکے اور یہ فیصلہ کیاجاسکے آیا ہنسنا ہے یا نہیں اور موقع پر کس قسم کی ہنسی مناسب ہوگی۔
آزمائش میں ایرِیکا اور حقیقی لوگوں کے درمیان دو سے تین منٹ کے چار گفتگو کے دور ہوئے، جس میں نتائج اچھے رہے، البتہ، ماہرین کے مطابق عین حقیقی ہنسی کی صورت حال بنانے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

برقی گاڑیوں کو 3 منٹ میں چارج کرنے والی بیٹریاں متعارف

والٹہم: (ویب ڈیسک) جلدی ہی برقی گاڑیوں کے لیے ایسی بیٹریاں متعارف کرائی جانے والی ہیں جن کو تین منٹ کے اندر چارج کیا جاسکے گا اور یہ 20 سال تک خراب نہیں ہوں گی۔
امریکی ریاست میساچوسیٹس کے شہر والٹہم کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ایڈن انرجی کو برقی گاڑیوں میں تنصیب کیلئے بڑے پیمانے پر بیٹریاں بنانے کے لیے لائسنس اور 51 لاکھ 50 ہزار ڈالرز کی خطیر رقم فراہم کردی گئی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے بنائی گئی یہ بیٹری لیتھیئم آئن کے بجائے لیتھیئم دھات کی ہے، بیٹری کا پیچیدہ ڈیزائن ایک سینڈوچ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جو بیٹری کی منفی الیکٹروڈکو اس پر بننے والے مائیکرواسٹرکچر سے بچاتا ہے، یہ اسٹرکچر لیتھیئم میٹل بیٹریوں میں ہوتا ہے اور ان کو جلد ناکارہ کرتا ہے۔
فی الوقت برقی گاڑیوں میں لیتھیئم آئن بیٹریاں نصب ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں اور ان کی زندگی سات سے آٹھ سال ہوتی ہے، ان کی زندگی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کو کس طرح استعمال کیا گیا ہے، یہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسے اسمارٹ فون کی بیٹری ہوتی ہے۔
لیتھیئم آئن بیٹریوں کو تبدیلی ممکن ہے لیکن یہ کافی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے یعنی اس سے بہتر ہے ڈرائیور نئی برقی گاڑی ہی خرید لیں لیکن یہ نئی ٹھوس لیتھیئم میٹل بیٹری برقی گاڑیوں کی زندگی پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی زندگی جتنی یعنی تقریباً 20 سال تک بڑھا دے گی اور اس دوران اس کو بدلنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی گی۔
تجربہ گاہ میں اس بیٹری کے نمونے کو 3 منٹ میں مکمل چارج کر لیا گیا جبکہ اس کی زندگی میں اس کو 10 ہزارسے زائد بار چارج کیا جاسکتا ہے، بیٹری کی یہ نئی ٹیکنالوجی ہارورڈ جان اے پالسن اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنس سے تعلق رکھنے والے شِن لی اور ان کے ساتھیوں نے بنائی ہے۔

وزیراعظم کی صدر شی جن پنگ سے ملاقات

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 22ویں سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
اپریل 2022 میں وزراتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد چین کے صدر کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کے ماحول میں خوشگوار بات چیت ہوئی۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں چینی صدر نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو “عملیت پسندی اور کارکردگی کا حامل شخصیت” (A person of prgamatism and efficiency) قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم “چین پاکستان دوستی کے لیے دیرینہ عزم” رکھنے والے رہنما ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی آئندہ 20ویں سی پی سی قومی کانگریس (CPC National Congress) کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے اپنے مشترکہ ویژن اور باہمی اقدار کو علاقائی تعاون اور یکجہتی کے ٹھوس عملی منصوبوں میں آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین فورم فراہم کیا۔
چین پاکستان پائیدار دوطرفہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ (all-weather strategic cooperative partnership) اور آہنی بھائی چارے (iron-brotherhood) نے وقت کی کسوٹی کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے اپنے ذاتی عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی فراخدلانہ اور بروقت مدد پر صدر شی جن پنگ، چینی حکومت اور چین کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین بھر کے تمام حلقوں کی طرف سے ہمدردی اور حمایت کے اظہار پر مشکور ہے اور یہ ہماری منفرد دوستی کا حقیقی عکاس ہے۔ انہوں نے صدر شی کے ساتھ 5 ستمبر 2022 کو صوبہ سیچوان میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے المناک جانی نقصان اور تباہی پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس قدرتی آفت کے دوران چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کی پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدت اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی پر سی-پیک کے تبدیلی کے اثرات کو سراہا۔ انہوں نے CPEC کی ترقی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ML-1 ریلوے پروجیکٹ کے فریم ورک معاہدے کے پروٹوکول پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے تائیوان، تبت، سنکیانگ اور ہانگ کانگ سمیت بنیادی مفاد کے تمام مسائل پر پاکستان کی چین کے ساتھ مستقل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، ایف اے ٹی ایف، قومی ترقی، کوویڈ 19 وبائی امراض اور دیگر شعبوں میں تعاون پر چینی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیر اعظم نے بین الاقوامی صورتحال پر صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے صدر شی کے وژنری بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ( Belt and Road Initiative BRI) اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (Global Development Initiative GDI) کی تعریف کی، جس نے پائیدار اور اجتماعی ترقی کی منفرد پالیسی کو دنیا میں متعارف کروایا۔
وزیراعظم نے بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالی اور جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے حالیہ ادوار میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی، اور کہا کہ پاکستانی عوام ان کے پرتپاک استقبال کے منتظر ہیں۔ دعوت کو قبول کرتے ہوئے صدر شی نے کہا کہ وہ جلد از جلد وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے منتظر ہیں۔

وزیراعلیٰ سے چیئرمین میاں عامر محمود کی قیادت میں پی بی اے وفد کی ملاقات

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عامر محمود، وائس چیئرمین میر ابراہیم رحمن، سیکرٹری جنرل شکیل مسعود اور ممبر بورڈ طاہر خان شامل تھے۔
ملاقات میں براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے مسائل کے حل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے ایسوسی ایشن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی، اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی پی آر بھی موجود تھے۔
وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آزادی صحافت کے لئے آواز بلند کی ہے، میں سیاست میں رواداری اور احترام کے اصولوں پر کاربند رہتا ہوں، قومی ادارے ہمارا وقار ہیں، قومی اداروں کو متنازع نہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا مزید کہا کہ اداروں کا احترام سب پر لازم ہے، پاکستان جن چینلجز سے گزر رہا ہے ان کا حل اتفاق اور اتحاد میں ہے، پوری کوشش ہے کہ صوبے کے عوام کے مسائل حل کروں اور انہیں ریلیف دیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری نے تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔موجودہ حالات میں میڈیا کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

امپورٹڈ حکومت معیشت کے زوال کو روکنے میں ناکام رہی، عمران خان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت معیشت کے زوال کو روکنے میں ناکام رہی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ امپورٹڈ حکومت بغیر کسی سمت کے چل رہی ہے اور امپورٹڈ حکومت نے صرف ایک اور این آر او کے لیے اپنے مقاصد حاصل کیے۔
انہوں نے کہا کہ قوم سوال کر رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کون کر رہا ہے ؟
عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں معاشی ترقی کی شرح 6 فیصد تھی اور ہمارے دور میں زراعت، تعلیم، معیشت کی ترقی ہوئی اور روزگار کے مواقع بڑھ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو غیر معمولی افراط زر کا سامنا ہے اور پاکستان میں مہنگائی سے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان میں ڈالر روپے کے مقابلے میں مضبوط ہو رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ امپورٹڈ حکومت ایک مستحکم معیشت وراثت میں ملنے کے باوجود معیشت کے زوال کو روکنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی سروے میں ہماری اقتصادی کارکردگی کو ملک کی 70 سالہ تاریخ کی بہترین کارکردگی قرار دیا۔