All posts by Khabrain News

اسلام آباد جلسے میں شرکت کے لیے حلیم عادل کی قیادت میں کراچی سے کارواں روانہ

کراچی: (ویب ڈیسک) ستائیں مارچ کو اسلام آباد میں امربالمعروف جلسے میں شرکت کے لیے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی قیادت میں کراچی سے کارواں روانہ ہو گیا۔
ستائیس مارچ کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں پاور شو کے لیے کراچی کے کارکنان کا قافلہ قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی قیادت میں سہراب گوٹھ سے روانہ ہوا۔ میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کھانے اپوزیشن کے ساتھ کھائیں گے لیکن اتحادی ساتھ وزیراعظم کا ہی دیں گے۔
جوش خطابت میں حلیم عادل شیخ کی زبان بھی لڑکھڑا گئی۔ پی ٹی آئی رہنما آفتاب صدیقی بولے اٹھارہ بوگیوں کی ایک ٹرین بھی کارکنان کو لے کل کر روانہ ہوگی۔
سہراب گوٹھ پر استقبالیہ کیمپ پر پرجوش کارکنان نے پارٹی ترانوں پر بھنگڑے ڈالے۔ کارواں میں اراکین سندھ اسمبلی خرم شیرزمان، سعید آفریدی اور شاہنواز جدون بھی شامل تھے۔ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا کارواں کل اسلام آباد پہنچے گا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے عمران نیازی کے ساتھ مل کر سازش کی: شہباز شریف

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے عمران نیازی کے ساتھ مل کر سازش کی،سپیکر کو تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد 14 دن میں اجلاس بلانا چاہیے تھا۔
قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ن لیگ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی ورکر کا کردار ادا کیا، وہ آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے۔ اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑا ہوا لیکن سپیکر نے میرا مائیک نہیں کھولا، پارلیمانی روایات اپنی جگہ، عدم اعتماد پر کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ بکرے کی ماں کب تک خیرمنائےگی، انہیں خوش ہونےدیں۔ سپیکر نے پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑائی ہیں، بلاول صاحب سلیکٹڈ پر یقین نہیں رکھتے۔
واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مرحوم اراکین اسمبلی کیلئے دعائے مغفرت کے بعد اجلاس کی کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کی دی۔

میں حکومت کا ساتھ دوں گا، احمد حسین ڈیہڑ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض رہنما رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے کہا ہے کہ میں حکومت کا ساتھ دوں گا۔
پی ٹی آئی کے ناراض رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے کہا ہے کہ میرے کچھ تحفظات تھے جن پر بات ہو رہی ہے اور میں حکومت کا ہی ساتھ دوں گا۔
اس سے قبل احمد حسین ڈیہڑ نے کہا تھا کہ عمران خان کو چھوڑنے والے کو بے غیرت سمجھتا ہوں اور میں عمران خان کے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام: شاہ محمود قریشی نے آئینی ترمیمی بل اسپیکر کو پیش کر دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کر دیا.ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی اس موقع پر موجود تھے.
وزیر خارجہ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست کی ہے کہ اس بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیر خارجہ کی درخواست پر اس جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کو سوموار کو منعقد ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔
مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے، وزیر اعظم عمران خان نے میلسی کے عوامی رابطہ جلسے میں جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر میں نے آئینی ترمیمی بل، وزارت قانون کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کر دیا ہے، آج وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کی عوام سے کیا ہوا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک 100 فیصد کامیاب ہو گی، آصف علی زرداری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک 100 فیصد کامیاب ہو گی۔
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ قومی حکومت کے تصور کا سوال نہیں ہے، جو بھی ہو گا وہ اتحادیوں کے ساتھ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک 100 فیصد کامیاب ہو گی اور اگر اسپیکر نے قراداد پیش نہ ہونے دی تو احتجاج کریں گے۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اجلاس میں تاخیر نہیں ہوئی۔ 30 سال پہلے بھی پاکستان وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا تھا اور آج کے دن کپتان نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ وکٹری اسٹینڈ پر پاکستان ہو گا تحریک انصاف ہو گی۔

عدم اعتماد پر پیشرفت نہ ہو سکی، قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی

اسلام آباد: اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس مرحوم اراکین کے لیے دعائے مغفرت کے بعد پیر 28 مارچ تک ملتوی کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مرحوم اراکین اسمبلی، سابق صدر رفیق تارڑ، سینیٹر رحمان ملک، پشاور مسجد دھماکے میں شہید ہونے والوں اور وفات پانے والے دیگر اراکین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری کی جانب سے دعائے مغفرت کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس پیر 28 مارچ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی روایات کا حصہ ہے کہ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کا انتقال ہوا ہو تو اس روز کا اجلاس ایک روز کے لیے ملتوی کر دیا جاتا ہے اور میں بھی اس روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک روز کے لیے اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر قوانین کے مطابق کارروائی کروں گا۔

خیال رہے کہ آج ہونے والے اسمبلی اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل تھی۔

قومی اسمبلی اجلاس کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کر کے حساس علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔

اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی نفری کو جگہ جگہ تعینات کیا گیا، کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم ریڈ زون جانے والے ملازمین اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جانے کی اجازت دی گئی۔

قومی اسمبلی اجلاس کے لیے ایم این ایز کو ہدایت نامے بھی جاری کر دیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایم این ایز، وزرا کے سکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ ساتھ لانے پر بھی پابندی ہو گی۔

‘یہ نیکی اور بدی نہیں، آئین کو پامال اور پاسداری کرنے والوں کے بیچ لڑائی ہے’

لاہور: (ویب ڈیسک) نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ عمران خان غلط بیان کر رہے ہیں، یہ نیکی اور بدی کی لڑائی نہیں، آئین کو پامال کرنے اور آئین کی پاسداری کرنے والوں کے بیچ لڑائی ہے۔
شیری رحمان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ عوام دشمن حکومت اور عوام دوست اپوزیشن کی لڑائی ہے، جمہوریت پر تنقید کرنے والے اب لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت کا ساتھ دینے کے لئے باہر نکلیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ شکست سے بچنے کے لئے تاخیری حربے استعمال کرنے والے نیکی اور جمہوریت کا پرچار کیسے کر سکتے ہیں، وزیراعظم کے پاس شکست قبول کرنے اور مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، لوگوں کو انتشار پر اکسانے سے حکومت نہیں بچ سکتی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر تک ملتوی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکراسد قیصرکی صدارت میں شروع ہوا، تلاوت قرآن پاک کے بعد اجلاس میں مرحوم ارکان قومی اسمبلی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سپیکر نے کہا کہ پارلیمانی روایت ہے رکن اسمبلی کی وفات پر اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد ملتوی کر دیا جاتا ہے، تحریک عدم اعتماد پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 28 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔
اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی میں 159 ارکان شریک تھے، اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 ہے۔ پارلیمان میں ن لیگ کےارکان کی تعداد 84 ہے، سب حاضرتھے۔ پیپلزپارٹی کے 56 میں سے 55 ارکان حاضر تھے۔ پیپلزپارٹی کے جام عبدالکریم دبئی میں ہونے کے باعث شریک نہیں ہوئے۔ ایم ایم اے کے 15 میں سے 14 ارکان اجلاس میں حاضرتھے۔ پی ٹی ایم کے علی وزیرجیل میں، جماعت اسلامی کے اکبر چترالی غیر حاضر تھے۔ اے این پی ایک، بی این پی 4 اور 2 آزاد میں سےایک رکن حاضرتھا۔
قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس سے قبل 15 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی قرارداد 152 ارکان پیش کریں گے۔ تحریک کے محرکین میں 147 ارکان شامل تھے، وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 95 اے کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی، اپوزیشن کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ایوان کی رائے ہے وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
آج کے اجلاس کیلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ایم این ایز کے نام ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان کی گاڑی میں آمد پر پابندی عائد کی گئی تھی، سرکلر کے مطابق ملازمین کو ہدایات دی گئی تھیں کہ اپنے دفاتر سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں، بلاجواز پارلیمنٹ ہاؤس میں ادھر ادھر پھرتے پائے گئے ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

آج سے سرپرائز کی سیریز شروع ہو جائے گی، بابر اعوان

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان نے کہا ہے کہ آج سے سرپرائز کی سیریز شروع ہو جائے گی اور سرپرائز وزیر اعظم براہ راست دیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اجلاس میں تاخیر نہیں ہوئی۔ 30 سال پہلے بھی پاکستان وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا تھا اور آج کے دن کپتان نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ وکٹری اسٹینڈ پر پاکستان ہو گا تحریک انصاف ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی کہتے تھے کہ عمران خان کمزور ٹیم کے ساتھ جا رہے ہیں تاہم کپتان نے پہلے بھی ورلڈ کپ جیتا تھا اور آج سے سرپرائز کی سیریز شروع ہو جائے گی اور 27 مارچ کا جلسہ سب سے بڑا سرپرائز ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ پارٹی سیٹ پر اراکین ووٹ دینے کے پابند ہیں جبکہ کسی اور پارٹی میں شمولیت کی صورت نااہلی ہے۔ آئین میں ہے جو ڈائریکشن کسی پارلیمانی پارٹی کا سربراہ دے گا خلاف ورزی کرنے والا نااہل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے میں تاحیات نااہلی کا جواب دے رکھا ہے تاہم آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت نہیں لکھی ہوئی لیکن پارٹی ڈائریکشن کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہو گا۔

اسمبلی میں آج کچھ نہیں ہونا، سب کچھ قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا، فواد چوہدری

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت متفق تھے کہ معاملہ آئین اور قانون کے مطابق چلےگا، ابھی تو سرپرائز ز آنا باقی ہیں،آگے دیکھیے ہوتا ہےکیا۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمرا ن خان کہہ چکے ہیں آخری پتا ہم نے کھیلنا ہے، جن لوگوں کو خیال تھا کہ عمران خان کو گرادیں گے انہیں ایک ہفتے میں پتہ چل جائے گا۔
ایک سرپرائز آج ملا، دوسرا 27مارچ کو ملے گا، اگلے 48 گھنٹے میں اتحادیوں کی طرف سے اعلان ہونے کا امکان ہے، لاکھوں لوگ جب نکلتے ہیں تو اس کا اثر ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
فواد چودھری نے اس سے پہلے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ بابراعظم کو جیت کے لیے جانا چاہیے، آسٹریلیا کا ڈیلیریشن کا فیصلہ دلیرانہ ہے، ہماری بیٹنگ سوا سیر ہے، سیریز جیت کےلیے جاؤ۔
فواد چوہدری نے عثمان مرزا کیس پر بھی ٹوئٹ کہ، جس میں ان کا کہنا تھا کہ عثمان مرزا کیس میں متاثرہ لڑکی اور نوجوان کے منحرف ہونے کے باوجود عمر قید کی سزا جدید ٹیکنالوجی کی بطور شہادت قبولیت کی انتہائ خوش آئند ہے۔
وہی معاشرے ترقی کا زینہ چڑھتےہیں جہاں انصاف ہو انشاللہ سیالکوٹ اور دیگر مقدموں میں بھی انصاف کے قریب ہیں۔