All posts by Khabrain News

فیصل آباد میں ٹائیگرفورس نے 27 مارچ جلسے کے لیے ڈنڈے تیار کرلیے

فیصل آباد: (ویب ڈیسک) فیصل آباد میں ٹائیگر فورس نے 27 مارچ جلسے کے لیے ڈنڈے تیار کر لیے، ٹائیگر فورس کی جانب سے ڈنڈوں کو پی ٹی آئی پرچم کے رنگوں میں رنگ دیا گیا۔
فیصل آباد میں ٹائیگر فورس کی جانب سے 27 مارچ کے جلسے کے لیے ڈنڈے تیار کرلیے گئے، مقامی رہنما تحریک انصاف عتیق الرزاق لکی شاہ کے ڈیرے پر ڈنڈوں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے کارکنان جلسے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ جلسے میں ٹائیگر فورس سکیورٹی معاملات سنبھالے گی۔ جلسہ خراب کرنے کی سوچ رکھنے والوں کے لیے ڈنڈے تیار کیے ہیں۔

دیپیکا کے مد مقابل چھوٹا کردار کرنے سے انکار کردیا تھا، صبا قمر کا انکشاف

اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ انہیں بالی وڈ سپر اسٹار دیپیکا پڈوکون کے ہمراہ فلم میں کام کی پیشکش کی گئی تھی۔

جیو نیوز سے گفتگو میں صبا نے بتایا کہ مجھے ابتداء میں فلم میں کام کی بہت اچھی آفرز ہوئیں، لالی وڈ سے سید نور، جاوید شیخ اور بالی وڈ میں راکیش مہرہ اور امتیاز علی نے مجھے کئی بار فلم کی آفر کی۔

اداکارہ نے کہا کہ ماضی میں مجھے گھر والوں کی جانب سے کام کی اجازت نہیں ملی، اسی لیے فلمیں نہ کرسکی لیکن اب صورت حال مختلف ہے، میں خود کو اب میچور سمجھتی ہوں اور اچھے برے کی پہچان بھی ہو گئی ہے۔

صبا قمر کا کہنا تھا کہ ماضی میں مجھے بالی وڈ مووی ’لو آج کل‘ میں گاؤں کی لڑکی کا کردار ملا تھا لیکن مجھے یہی لگا کہ یہ کردار دیپیکا کے مقابلے میں ایک چھوٹا کردار ہوگا، اس لیے میں نے یہ کردار کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں خود کو محب وطن فنکارہ سمجھتی ہوں، ہم سب نے یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے، ملک سے باہر ہمیں خود کو پاکستان کا سفیر سمجھنا چاہیے،۔

صبا قمر کاکہنا تھا کہ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ  اگر اداکار کو کاسٹ کرتے وقت دوستیاں نہ نبھائی جائیں تو نتائج اور بہتر ہوسکتے ہیں۔

‘مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے’

صبا قمر کا کہنا تھا کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے، میرے پاس بہت سی کتابیں بھی ہیں، جیسا دیس ویسا بھیس، موقع کی مناسبت سے لباس پہننا پسند کرتی ہوں، گھر پر سادگی میری اولین ترجیح ہوتی ہے،چھٹی والے دن بالوں میں تیل لگا کر بھی باہر چلی جاتی ہوں، بلا وجہ گھومنا پسند نہیں، سیلف میڈ ہوں۔

دیپیکا کے مد مقابل چھوٹا کردار کرنے سے انکار کردیا تھا، صبا قمر کا انکشاف

اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ انہیں بالی وڈ سپر اسٹار دیپیکا پڈوکون کے ہمراہ فلم میں کام کی پیشکش کی گئی تھی۔

جیو نیوز سے گفتگو میں صبا نے بتایا کہ مجھے ابتداء میں فلم میں کام کی بہت اچھی آفرز ہوئیں، لالی وڈ سے سید نور، جاوید شیخ اور بالی وڈ میں راکیش مہرہ اور امتیاز علی نے مجھے کئی بار فلم کی آفر کی۔

اداکارہ نے کہا کہ ماضی میں مجھے گھر والوں کی جانب سے کام کی اجازت نہیں ملی، اسی لیے فلمیں نہ کرسکی لیکن اب صورت حال مختلف ہے، میں خود کو اب میچور سمجھتی ہوں اور اچھے برے کی پہچان بھی ہو گئی ہے۔

صبا قمر کا کہنا تھا کہ ماضی میں مجھے بالی وڈ مووی ’لو آج کل‘ میں گاؤں کی لڑکی کا کردار ملا تھا لیکن مجھے یہی لگا کہ یہ کردار دیپیکا کے مقابلے میں ایک چھوٹا کردار ہوگا، اس لیے میں نے یہ کردار کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں خود کو محب وطن فنکارہ سمجھتی ہوں، ہم سب نے یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے، ملک سے باہر ہمیں خود کو پاکستان کا سفیر سمجھنا چاہیے،۔

صبا قمر کاکہنا تھا کہ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ  اگر اداکار کو کاسٹ کرتے وقت دوستیاں نہ نبھائی جائیں تو نتائج اور بہتر ہوسکتے ہیں۔

‘مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے’

صبا قمر کا کہنا تھا کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے، میرے پاس بہت سی کتابیں بھی ہیں، جیسا دیس ویسا بھیس، موقع کی مناسبت سے لباس پہننا پسند کرتی ہوں، گھر پر سادگی میری اولین ترجیح ہوتی ہے،چھٹی والے دن بالوں میں تیل لگا کر بھی باہر چلی جاتی ہوں، بلا وجہ گھومنا پسند نہیں، سیلف میڈ ہوں۔

پہلی بار دنیا میں اسلاموفوبیا کا ادراک کیا جارہا ہے: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں بہت خوش ہوں کہ پہلی بار عالمی سطح ہر یہ ادراک کیا جارہا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقیت ہے اور اس حوالے سےاقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ او آئی سی اجلاس پاکستان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے ہے، او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی آمد پر ان کا مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا، اس کے لیے 15مارچ کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ اس روز نیوزی لینڈ میں ایک شخص نے مسجد میں گھس کر مسلمانوں کو قتل کیا تھا، اس نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اس کے نزدیک تمام مسلمان دہشتگرد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذہب کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں اسلاموفوبیا بڑھتے ہوئے دیکھا، اسلام اور مسلمانوں کو دہشتگردی سے جوڑ دیا گیا، بہت معذرت کے ساتھ میں کہوں گا کہ اس کے ذمہ دار ہم خود تھے کیونکہ اس بیانیے کا توڑ کرنے کے لیے ہم نے اقدامات نہیں اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو اس حوالے سے آواز بلند کرنی چاہیے تھی، دنیا کو یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ دہشتگردی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ روشن خیالی کا نعرہ محض مغرب کو مطمئن کرنے کے لیے لگایا گیا، اسلام تو صرف ایک ہی ہے لیکن دنیا کی ہرکمینوٹی میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والا بھی ان کے معاشرے کا ہی ایک حصہ تھا مگر دنیا کی کسی اور کمیونٹی کو اس طرح دہشتگردی سے نہیں جوڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کی جانب سے اس بیانیے کا جواب نہ دینے کا نتیجہ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو بھگتنا پڑا، نائن الیون کے بعد غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے مشکل ترین دور شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 1989 میں ایک گستاخانہ کتاب سلمان رشدی نے لکھی، اس واقعے کے بعد بھی مسلم ممالک مغرب کو توہین رسالت سے متعلق مسلمانوں کی حساسیت سے آگاہ نہیں کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں مذہب کو اس طرح نہیں سمجھا جاتا جس طرح مسلم ممالک میں مذہب کو اہمیت حاصل ہے، اس لیے مغربی ممالک توہین اور گستاخی سے متعلق مسلمانوں کے جذبات نہیں سمجھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہر تھوڑے عرصے بعد مسلم ممالک کی جانب سے گستاخیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس کے نتیجے میں آنے والے ردعمل سے اسلاموفوبیا بڑھتا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ پہلی بار عالمی سطح ہر یہ ادراک کیا جارہا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقیت ہے اور اس حوالے سےاقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، اب ہم دنیا کو یہ باورکرانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کہ گستاخی اور توہین آمیز واقعات سے کس طرح ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، قرارداد مقاصد کے مطابق پاکستان کو مدینہ کے طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔

ویزراعظم نے کہا کہ افسوس ہے کہ مسلمان خود مدینہ کی ریاست کے ماڈل سے آگاہ نہیں ہیں، میں لوگوں سے کہتا ہوں کے ایک عظیم انقلاب کے نتیجے میں بننے والی ریاست مدینہ کے ماڈل کو سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کو قرآن میں رحمت اللعٰلمین کا لقب دیا گیا، حضرت محمد ﷺ کی دنیا میں آمد کا مقصد انسانیت کو متحد کرنا تھا، انہوں نے ایک جدید نظام تشکیل دیا، انہوں نے کہا کہ میری بیٹی بھی جرم کرے تو وہ بھی سزا کی حقدار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر کے پسماندہ ممالک پر نظرڈالیں، ان تمام ممالک میں یکساں بات یہی ہوگی کہ وہاں امیر اور غریب کے لیے علیحدہ قانون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تاریخ کے پہلے 2 خیلفہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ان میں سے ایک خلیفہ ایک یہودی سے مقدمہ ہار گئے تھے کیونکہ قاضی نے خلیفہ کے بیٹے کی گواہی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں اقلیتوں کے برابرحقوق تھے، قانون کی نظر میں سب برابر تھے، ایک عام شہری ریاست کے سربراہ کے خلاف مقدمہ جیت جاتا تھا، یہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی جہاں انسانیت کا احساس تھا، کمزوروں، غریبوں اور بزرگوں کو سہارا دیا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج میں مغربی ممالک کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں فلاحی ریاست کا جو تصور موجود ہے وہ مسلم ممالک میں کہیں نہیں نظر آتا، ہمارے یہاں انسانوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو مغربی ممالک میں جانوروں کو حاصل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست میں خواتین کو پہلی باروراثت میں حق ملا، یورپی ممالک کو خواتین کو یہ حقوق فراہم کرنے میں کئی برس لگ گئے۔

انہوں نے کہا کہ آج افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حق نہیں دیا جارہا تھا اس لیے ہمیں اس کے لیے خصوصی بل پاس کروانے پڑے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا ایک مقصد اسلامی اقدار کو محفوظ کرنا تھا جنہیں آج سب سے زیادہ خطردرپیش ہے، میں جب وزیراعظم بنا تو مجھے بتایا گیا کہ پاکستان میں جنسی جرائم سب سےزیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ہم نے اس کی وجوہات تلاش کیں تو پتا چلا کہ موبائل پر باآسانی دستیاب پورنوگرافی اس کی اہم وجہ ہے، اس لیے ہمیں اس پیلٹ فارم کے ذریعے اس چیلنج کا بھی مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اسلام خاندانی نظام کو تحفظ فراہم کرتا ہے، ہمارے یہاں والدین اور اساتذہ کا خصوصی احترام کیا جاتا ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے آنے والا کلچر ان اقدار کو متاثر کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے علما پر مشتمل رحمت اللعٰلمین اتھارٹی اسی لیے بنائی ہے تاکہ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکے۔

پتوکی: شادی ہال میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش کی ہلاکت، 12ملزمان گرفتار

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں ایک شادی ہال میں باراتیوں کے مبینہ تشدد سے محنت کش محمد اشرف کی ہلاکت کے واقعے میں مقدمہ درج کر کے 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ڈی پی او قصور کے مطابق پولیس کی ٹیموں نے رات گئے کنگن پور، پتوکی اور سرائے مغل میں کارروائی کرکے ان افراد کو حراست میں لیا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو پتوکی کے ایک شادی ہال میں ایک پاپڑ بیچنے والے کے ساتھ باراتیوں کے تنازعے پر جھگڑا ہوا تو پھر وہاں موجود باراتیوں نے انھیں تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ محنت کش محمد اشرف کا تعلق تحصیل چونیاں کے علاقے جاگوالہ سے تھا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے متوفی کے جسم پر تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جائے واردات سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے۔پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے رات کو اس واقعہ کا نوٹس لیا تھا۔ ان کے مطابق ڈی پی او قصور واقعے کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔

اس مقدمے میں ایف آئی آر محمد اشرف عرف سلطان کے بہنوئی پرویز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پرویز کے مطابق شادی ہال کے باہر محمد اشرف پاپڑ فروخت کر رہا تھا کہ تکرار ہوگئی اور وہاں موقعے پر موجود افراد نے ان پر تشدد شروع کر دیا اور پھر انھیں ہال کے اندر لے گئے۔ ان کے مطابق یہ افراد محمد اشرف کو مکوں اور ٹھڈوں سے مار رہے تھے اور ہم نے جا کر ان کی منت سماجت بھی کی۔ ان کے مطابق جب ہم نے محمد اشرف کو چھڑایا تو وہ بہت زخمی تھے اور پھر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی وفات پا گئے۔

بلوچستان کی 2 کوئلہ کانوں میں گیس بھرنے سے دھماکے، 6 مزدورجھلس کر زخمی

کوئٹہ: (ویب ڈیسک) بلوچستان کےمختلف علاقوں کی کوئلہ کانوں میں زہریلی گیس بھرنےسے دھماکے 2 واقعات میں 6 مزدورجھلس کرزخمی ہوگئے جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔
پولیس کےمطابق ہنہ اوڑک کےنواحی علاقے زرغون غرکی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 3 کان کن سید محمد ، محمد سلیم اور جمیل زخمی ہوئے۔ دوسری جانب چمالنگ کے علاقے کی مری لیز میں گیس بھرنے سے بھی تین مزدورنقیب اللہ ،عبدالفائق اوریارمحمد جھلس کر زخمی ہوئے جن کو فوری طور پر کوئٹہ کے بی ایم سی ایچ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دونوں واقعات میں جھلس کر زخمی ہونے والوں میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

اپوزیشن نے اپنے غیر جمہوری طرز عمل کو بے نقاب کر دیا: عثمان بزدار

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے اپنے غیر جمہوری طرز عمل کو بے نقاب کر دیا ہے، عوام بخوبی جانتے ہیں کہ انتشار کون پھیلا رہا ہے اور بے لوث خدمت کون کر رہا ہے۔
وزیراعلی پنجاب سے ایوان وزیراعلی میں صوبائی وزیر اسد کھوکھر، ارکان اسمبلی غضنفر عباس چھینہ، سردار شہاب الدین، حنیف پتافی، غزین عباسی، نذیر احمد خان اور سید افتخار گیلانی نے ملاقاتیں کیں، اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھاکہ عاقبت نااندیش عناصر صرف سیاست برائے اقتدار کیلئے ملک و قوم کی تقدیر کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں ملک کسی بھی انارکی یا افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، انتشار کی نہیں۔ کسی کو ملک کے تابناک مستقبل سے نہیں کھیلنے دیں گے۔ چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مونس الہٰی نے ایک بارپھر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری قراردیدیا

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہٰی نے ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری قراردیدیا۔
وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہٰی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ موسمی تبدیلی ، بڑھتی آبادی اور واٹر مس مینجمنٹ کے باعث ہمارے تیزی سے کم ہو تے آبی وسائل مستقبل میں ہمیں پانی کی شدید قلت سے دوچار کر سکتے ہیں، کیا کالاباغ ڈیم مخالفین کو اس خطرہ کا احساس ہے۔
مونس الہی نے مزید کہا کہ پانی کی حفاظت زندگی کی ضمانت ہے۔

مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر غور کیلئے او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) منگل کو شروع ہو رہا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

 مسلم ممالک کی 57 رکنی کونسل کا دو روزہ سالانہ اجلاس ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری کی تعمیر‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہو رہا ہے، اجلاس میں وزارتی سطح پر تقریباً 46 رکن ممالک کی نمائندگی کی جائے گی، باقی کی نمائندگی اعلیٰ حکام کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں اجلاس کے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد، انصاف اور ترقی‘ کے مرکزی موضوع کے تحت او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل میں وسیع پیمانے پر بات چیت ہوگی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل سمیت دیگر عالمی تنظیموں کے سینئر نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ وینگ یی اس اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی چینی وزیر خارجہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین کی تقریب میں شرکت اور رکن ممالک کے ساتھ بات چیت سے ان کے رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔

توقع ہے کہ چین کے علاوہ وزرائے خارجہ اقوام متحدہ، روسی فیڈریشن اور یورپی یونین کے ساتھ او آئی سی کے تعاون پر بھی غور کریں گے۔

اجلاس کا ایجنڈا 2020 میں نیامی میں منعقد ہونے والے آخری سی ایف ایم کے بعد سے مسلم دنیا کو متاثر کرنے والی پیش رفت کا جائزہ لینااور سیکریٹریٹ کی جانب سے گزشتہ اجلاسوں میں خاص طور پر فلسطین اور القدس پر منظور کی گئی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے کی گئی کوششوں کا احاطہ کرنا ہے۔

بھارت کی کانفرنس سبوتاژ کرنے کی سازش ، ہمارے کچھ لوگ جال میں آ گئے، وزیر خارجہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ بھارت کی کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔
کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےل یے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دینگے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔
وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کرینگے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دینگے، دھرنا دینگے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔