All posts by Khabrain News

حکومت کا رواں سال دوسرا پیٹرول دھماکہ، 3،روپے فی لٹر کا اضافہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے نئے سال میں مسلسل دوسری مرتبہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق عوام پر ایک اور مہنگائی بم حکومت کی طرف سے گرا دیا گیا ہے، پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر فی لٹر 3 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 15 روز قبل بھی حکومت کی طرف سے نئے سال پر مہنگائی کا تحفہ دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات 4 روپے 15 پیسے تک مہنگی کردی گئی تھی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4روپے اضافہ کردیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 144روپے 82پیسےفی لیٹر مقرر کردی گئی تھی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے اضافے کے بعد 141 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی جبکہ لائٹ ڈیزل 4 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 111 روپے 6 پیسے مقرر کردی گئی تھی ۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 95 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 113 روپے 53 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی تھی ۔
اس وقت اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا، وزیر اعظم نے صرف آئی ایم ایف سے طے شدہ 4 روپے لیوی میں اضافہ کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اوگرا کی سفارش کے مطابق نہیں کیا۔

برطانیہ میں فیس بک پر 3.20 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

لندن: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کو لندن کی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری کو استعمال کرتے ہوئے چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کی ذاتی تفصیلات کے استحصال کے الزام میں 3 ارب 20 کروڑ ڈالر ہرجانے کے مقدمے کا سامنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کو اب میٹا پلیٹ فارمز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
برطانیہ کی مالی رویوں سے نمٹنے والی اتھارٹی ،ایف سی اے، کی اعلیٰ مشیر لیزا لوودھال گورمسین نے کہا کہ یہ مقدمہ 2015 اور 2019 کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے برطانوی صارفین کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت لندن کے کمپیٹیشن اپیل ٹربیونل میں ہو گی۔
استغاثہ کے وکیل کی جانب سے فیس بک پر عائد الزام میں کہا گیا ہے کہ صارفین کو اپنے ذاتی ڈیٹا تک رسائی پر مجبور کر کے فیس بک نے اربوں ڈالر بنائے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اس کی خدمات کا استعمال اس لیے کیا کیونکہ یہ ان کے لیے قابل قدر تھیں اور یہ کہ لوگوں کے پاس اختیار ہے کہ وہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر کون سی معلومات شیئر کریں۔
خیال رہے کہ یہ تازہ ترین مقدمہ فیس بک کو فیڈرل ٹریڈ کمیشن، ایف ٹی سی، کے دائر کردہ عدم اعتماد کے مقدمے کو ختم کرنے میں ناکامی کے کچھ ہی دنوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایف ٹی سی کا فیس بک کے خلاف کیس ان کیسز میں شامل ہے جو امریکی وفاقی حکومت نے کئی عشروں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مارکیٹ میں بے پناہ قوت سے نمٹنے کے تناظر میں دائر کیے ہیں۔
لیزا گورمسین نے کہا ہے کہ قیام کے بعد 17 سالوں میں فیس بک برطانیہ میں واحد سوشل نیٹ ورک بن چکا ہے جہاں آپ دوستوں اور خاندان کے ساتھ ایک ہی جگہ پر رابطے رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی فیس بک کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔ اس نے مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری کا غلط استعمال کرتے ہوئے عام برطانوی شہریوں پر ناجائز شرائط مسلط کیں اور ان کے متعلق ڈیٹا اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔
لیزا گورمسین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم کے اندر پکسل جیسے میکانزم کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا، جس سے صارفین کی انٹرنیٹ کے استعمال کی” ایک تمام ترتصویر” کے ذریعے ان کے ذاتی نوعیت کے ڈیٹا پر مبنی وفائلز تیار کیں۔

سائبر سکیورٹی اور انسانی وسائل کوترقی دینے کی ضرورت ہے: صدر علوی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی اور مثالی ہیں، بندرگاہ پورے خطے میں امن اور ترقی کو یقینی بنائے گی، سائبر سکیورٹی اور انسانی وسائل کوترقی دینے کی ضرورت ہے۔
چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہترین تعلقات ہیں جو ہر موسم کی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کی دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے اور دونوں ان تعلقات میں مسلسل بہتری آرہے تھے جو 50 کی دہائی میں شروع ہوئے تھے اور 60 کی دہائی میں زبردست ترقی کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا دنیا کے ساتھ رابطہ پاکستان کے ذریعے قائم ہوا۔ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ نیا عالمی نظام ابھر رہا ہے۔ مختلف معاملات پر پاکستان اور چین کی سوچ ایک جیسی ہے۔ کوئی بھی عالمی تبدیلی بالادستی کی بجائے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔
آئرن برادرز کے درمیان تعلقات کی طویل تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک ون بیلٹ اینڈ ون روڈ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ میں مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت تاریخی تعلقات میں مسلسل بہتری لا رہی ہے۔ یہ تعلقات عوام سے عوام کے روابط پر مبنی ہیں۔
صدر علوی نے کہا کہ دونوں ممالک کو آزمائش کی گھڑیوں کا سامنا کرنا پڑا۔دنیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان اور چین مسلسل دنیا میں امن کی بات کر رہے ہیں اور پائیدار امن پر زور دے رہے ہیں۔ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کی کوششیں اس کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی نظام کو ایک دوسرے کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستان اور چین کے درمیان گزشتہ ستر سال کے تعلقات دنیا کے لیے ایک اچھی مثال ہیں کہ کیسے ممالک دوستانہ اور اصولوں اور باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔
سی پیک کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ یہ تعاون کی منفرد شکل ہے،سی پیک کے مکمل ہونے والے منصوبے تقریباً 28 بلین ڈالر کے تھے جبکہ مزید 24 ارب ڈالر کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ میرے خیال میں سی پیک کے پاکستان کی معیشت پر زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔ سی پیک کے خلاف بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان وسیع تعاون جاری ہے۔ اس سرمایہ کاری پر بہت کم مارک اپ استحصال کی بجائے باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے جیسا کہ منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے پیش گوئی کی گئی ہے۔
عارف علوی نے کہا کہ سی پیک کے تحت ابتدائی منصوبے توانائی پر مبنی تھے کیونکہ پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا تھا، بعد ازاں دوسرے مرحلے میں خوراک، صحت زراعت اور غربت کے خاتمے میں تعاون کے بڑے شعبے ہیں۔ ان کثیر الجہتی منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں لوگوں کو روزگار کے مزید مواقع میسر آئیں گے اور وہ غربت سے باہر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جس پر پاکستان احساس پروگرام جیسے مختلف اقدامات کے ساتھ پوری توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے صفر کوویڈ پالیسی اپنائی تھی لیکن پاکستان نے اسے بالکل مختلف انداز میں سنبھالا، پاکستان میں حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن کا انتخاب کیا کیونکہ اس کی معیشت مکمل لاک ڈاؤن کا بوجھ برداشت نہیں رکھ سکی۔ جون اور جولائی کے مہینوں میں پاکستان میں سب سے زیادہ 6,800 کوویڈ کیسز تھے۔
گوادر بندرگاہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، یہ خلیجی خطے کے قریب واقع سب سے بڑی بندرگاہ اور گہرے سمندر کی ایک بڑی بندرگاہ ہے۔صدر نے کہا کہ یہ چین کے مغربی علاقوں کو آپس میں جوڑ دے گا جو اس کے لیے بڑا فائدہ ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ ماہی گیری سمیت دیگر پہلوؤں سے بھی اہم ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ چین سے گوادر اور گوادر سے چین تک سامان کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے مزید کوششیں کریں۔ گوادر افغانستان اور وسطی ایشیائی جمہوریہ کے لیے مختصر ترین راستہ ہو گا، جتنے زیادہ رابطے قائم ہوں گے اتنی ہی زیادہ ترقی خطے اور اس سے باہر کی دنیا تک ہو گی۔ گوادر بندرگاہ پورے خطے میں امن اور ترقی کو یقینی بنائے گی۔
آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے بارے میں صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر سکیورٹی اور انسانی وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والی دنیا اینٹ اور مارٹر پر مبنی نہیں ہوگی۔انہیں ہیکنگ کے خلاف اقدامات اٹھانے کی ضرورت تھی،سائبر حملے شروع کرنے کی غیر ریاستی عناصر کی صلاحیت مثال کے طور پر ان کے بینکنگ اور مالیاتی اداروں اور یوٹیلیٹیز کو متاثر کرنا کیونکہ ہر چیز انٹرنیٹ پر دستیاب تھی۔ صدر نے کہا کہ وہ چپس کی تیاری میں چین کے تعاون کے منتظر رہیں گے اور جے ایف 17 تھنڈر کی تیاری کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک اچھی مثال قرار دیا۔
صدر نے کہا کہ دنیا بھر میں آئی ٹی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس کے لیے دنیا کو تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک معاشی خوشحالی کے لیے اپنے لوگوں کو اس شعبے میں لا سکتے ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ دونوں ممالک زراعت میں مزید تعاون کر سکتے ہیں اور پاکستان چینی مہارت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نےصحت کے شعبے میں چین کی جانب سے کووِڈ وبائی امراض کے دوران مدد اور رہنمائی فراہم کرنے کے عمل کو سراہا۔صدر نے کہا کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کی کوششیں باہمی تعاون سے منسلک ہیں۔
چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے اپنی کامیابیوں پر قرارداد منظور کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے بارے میں عارف علوی نے کہا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں چینی عوام کی ایسی کامیابیوں کو سراہتے ہیں۔ ہر خطے میں جمہوری نظام کے مختلف اصول ہوتے ہیں، کچھ میں صدارتی شکل ہوتی ہے جب کہ کچھ کو وزرائے اعظم کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں جمہوریت کا مجموعہ دوسرے ملک میں نہیں پیوند کیاجاسکتا۔ چینی جمہوریت نے بہت ترقی کی ہے کیونکہ اس نے ملک کی ترقی کے لئے متفقہ نقطہ نظر رکھا ہے۔ چین نے تجارت میں بہتری اور 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوششیں کی ہیں جو کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔

برطانوی الزامات بہت زیادہ 007 ٹائپ فلمیں دیکھنے کا نتیجہ ہے، چین

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے برطانیہ کی سیکیورٹی سروسز کی جانب سے ایک مشتبہ چینی ایجنٹ کے قانون سازوں کو متاثر کرنے کی کوشش کے انتباہ کو بہت زیادہ 007 ٹائپ کی فلمیں دیکھنے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ برطانوی ارکان اسمبلی کی جاسوسی کرنے یا ان کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
چین کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی حکام نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ لندن میں مقیم ایک وکیل نے برطانیہ کی کاؤنٹر انٹیلی جنس اور خفیہ ایجنسی ایم آئی -5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر جان بوجھ کر سیاسی مداخلت کی سرگرمیوں میں ایک مشتبہ چینہ شخص کرسٹین لی ملوث ہے۔
ہاؤس آف کامنز کی اسپیکر لنڈسے ہوئل کے دفتر سے جاری بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ کہ کرسٹین لی نے مبینہ طور پر چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے عطیات کے ذریعے اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے کام کیا تھا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے پریس کانفرنس میں اس الزام کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ برطانوی حکام جیمز بانڈ کی کتاب اور فلم 007 دیکھنے کے بہت زیادہ شوقین ہیں اور شاید اسی بنیاد پر رپورٹ تیار کی ہے۔

قومی سلامتی پالیسی پر سیاست نہ کریں،معید یوسف کی اپیل

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی پر سیاست نہ کریں، اس پر مثبت تنقید کی جاسکتی ہے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی متفقہ پالیسی ہے، تمام سٹیک ہولڈر کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، پارلیمانی کمیٹی جب بھی بلائے گی ہم بریفنگ کے لئے تیار ہیں، پارلیمانی کمیٹی نے ہمیں بلایا مگر سب حاضر نہیں تھے، کوئی بھی حکومت اس پالیسی پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی کی روح کو کوئی بھی حکومت تبدیل نہیں کرسکتی، قومی سلامتی پالیسی پر سیاست نہ کریں، قومی سلامتی پالیسی پر مثبت تنقید کی جاسکتی ہے، کشمیر اہم مسئلہ ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، افغانستان کے ساتھ باڑ کا مسئلہ بات چیت سے حل کریں گے، افعانستان کے ساتھ تجارت میں بہتری آئی ہے۔
مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان اب بھی افغانستان میں موجود ہے، تحریک طالبان افغانستان میں رہ کر پہلے جیسا نقصان نہیں پہنچا سکتی، بھارت اب بھی اقلیتوں کے لئے غیر محفوظ ملک ہے، ہم چاہتے ہیں افعانستان میں بھی سی پیک جیسا پراجیکٹ ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پر کام جاری ہے اس کے اچھے نتائج آئیں گے، پاکستان کا اگر جی ایس پی پلس کا درجہ ختم ہوجائے تو ہماری ایکسپورٹ آدھی رہ جائے۔

عدت سے متعلق عدالتی فیصلے پر ازسر نو غور کی ضرورت ہے، طاہر اشرفی

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے عدت سے متعلق عدالتی فیصلے پر ازسر نو غور کرنے کا مطالبہ کردیا۔
لاہور کے پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے عدت کے حوالے سے دیئے جانے والے فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کیس کے حوالے سے غلط پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، ایک سال میں توہین کا کوئی غلط کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں ہر شہری کو بنیادی اور برابری کے حقوق دیے گئے ہیں، اسی لیے پاکستان میں اقلیتیں پُرامن طریقے سے آباد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن اورسلامتی پیغام نگرنگر،گلی گلی لیکر جائیں گے اور اقلیتوں سے متعلق جوبھی مسئلہ ہوگا اس کو مل بیٹھ کر حل کریں گے۔ حافظ طاہر اشرفی نے سوال اٹھایا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم دنیا کو کیوں نظر نہیں آتے؟
انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر پوری قوت سے عمل درآمد کرایا جائے گا جس کا صرف ایک حصہ نیشنل ایکشن پلان پر مبنی ہے جبکہ پیغام پاکستان کو قانونی شکل دینے کے لئے جلد پارلیمنٹ میں آئینی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی، جس کے بعد ہم ہر گلی اور نگر اس پیغام کو لے کر پہنچیں گے۔
حافظ طاہرمحموداشرفی نے کہا کہ ملک میں داخلی امن کے ذریعے ہی معاشی استحکام ممکن ہوگا، آئی ایم ایف سے نجات کے لئے معیشت کا مضبوط ہونا نہایت ضرری ہے۔
حافظ طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ بھارت میں ایک سال کے دوران 260 گرجا گھروں پر حملے کئےگئے، اس پردنیا کیوں خاموش ہے، یہ مظالم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کیوں نظرنہیں آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گرجا گھروں کے انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروائے گی۔

ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے کے اطلاق کا آغاز

تہران: (ویب ڈیسک) ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا جگر اور گردے کی مفت پیوند کاری کا اعلان

پشاور: (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے مریضوں کے مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کا اعلان کردیا ہے جس کے لیے خیبر پختونخوا حکومت، اسٹیٹ لائف انشورنس اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔
اب پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ لاہور میں خیبر پختونخواہ کے مریضوں کا مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کیا جائے گا۔ مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کی یہ سہولت صوبائی حکومت کے صحت کارڈ اسکیم کے تحت دستیاب ہوگی۔
لیور ٹرانسپلانٹ پر فی مریض 50 لاکھ جبکہ کڈنی ٹرانسپلانٹ پر فی مریض 14 لاکھ روپے کا خرچہ صحت کارڈ کے تحت صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ اس حوالے سے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ جیسے اہم ادارے میں مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کی سہولت صوبائی حکومت کا عوام کے لئے بڑا تحفہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے دیگر اہم اداروں میں بھی صوبے کے عوام کو مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ صحت کارڈ اسکیم کے تحت کینسر کے مفت علاج کو بھی شامل کیا جائے گا جبکہ وسیع تر عوامی مفاد میں مفت او پی ڈی سروسز کو بھی صحت کارڈ سکیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ نے مری میں داخلے کیلئے مشروط اجازت دیدی

مری: (ویب ڈیسک) مری میں 23 افراد کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ملکہ کوہسار میں داخلے کے لیے مشروط اجازت دیدی۔
کمشنر راولپنڈی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مری میں روزانہ 8 ہزار گاڑیوں کی اجازت دے دی گئی، 17 جنوری تک مری سیاحوں کے لئے بند رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق داخلی گاڑیوں پر پابندی مری اور آزادکشمیر کے رہائشیوں پر لاگو نہیں ہو گی، چیف ٹریفک آفیسر مری ٹریفک پلان ترتیب دیں گے، حد سے زائد گاڑیوں کو روکنے کی ذمہ داری بھی چیف ٹریفک آفیسر کی ہو گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شام 5 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان مری میں سیاحوں کا داخلہ نہیں ہوسکے گا، ایکسین چیف ٹریفک آفیسر محکمہ موسمیات سے مکمل رابطے میں رہیں گے، چیف ٹریفک آفیسر، سٹی پولیس آفیسر مناسب نفری تعینات کرنے کے پابند ہونگے۔

قومی سلامتی پالیسی بن رہی ہے اور پارلیمنٹ بے خبر ہے، مولانا فضل الرحمان

مانسہرہ: (ویب ڈیسک) جمعیت علمااسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ قومی سلامتی پالیسی بن رہی ہے اور پارلیمنٹ بے خبر ہے، ہماری قوم کا مستقبل اندھیرے میں دھکیلا جا رہا ہے۔
مانسہرہ میں پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی پالیسی کی بنیاد پرکشمیرکے ساتھ کھیل کھیلا گیا، عام آدمی کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے، عمران پہلے ناجائز حکمران تھے اب نالائق حکمران بھی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کےاگلےمرحلے میں بھی گو نیازی ثابت کرکے دکھاناہے، 5 وزیر خزانہ تبدیل ہوئے مگر اسٹیٹ بینک کے گورنرکو نہیں ہٹا رہے،کیونکہ اسٹیٹ بینک کا گورنر آئی ایم ایف کا ایجنٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں بُرائی روکنے کا ذمہ دار حکمران ہوتا ہے، ہمارے ہاں برائی کی جڑ ہی حکمران ہیں، برائیوں کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا پڑتا ہے۔
انہوں نےکہا کہ قوم کے اجتماعی مفادکے لیے علما کو متحد ہوکرکام کرنا ہوتا ہے، قومی معاملات میں ایک فرد کی رائے کافی نہیں، پاکستان میں جے یوآئی کو عوام کی بھرپور حمایت اور اعتماد حاصل ہے۔