اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر انہیں سلیوٹ اور جھک کر نیچے گرنے والی قلم اٹھا کر دینے والی اسلام آباد پولیس کی خاتون آفیسر ارسلہ سلیم کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر ایسے میں اسلام آباد کے سابق دبنگ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم خان نے خاتون پولیس آفیسر کے حق میں میدان میں آتے ہوئے ارسلہ سلیم کی شخصیت اور ان کی پولیس میں نوکری بارے میں ایسے انکشاف کر دیئے ہیں کہ ناقدین کے منہ بند کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے اسلام آباد کے سابق آئی جی طاہر عالم خان نے ارسلہ سلیم پر ہونے والی تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خاتون پولیس آفیسر ایس پی ارسلہ سلیم کے ساتھ میڈیا اور سیاستدانوں کے رویہ کے بارے میں خبریں سنیں، دیکھیں اور پڑھیں اور اس رویہ پر بہت افسوس ہوا۔ اسلام آباد پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل کے طور پر میں نے ارسلہ سلیم کا کام بہت قریب سے دیکھا اور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک غیر مجاز شخصیت ( میڈم مریم نواز) کو سلام کر سکتی ہیں مگر اپنے سینئرز کے کسی غیر قانونی حکم کی تعمیل نہیں کر سکتیں، یہ وہ افسر ہیں جن کو اگر مریم نواز صاحبہ کے والد جو کہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں بھی کوئی غیر قانونی حکم دیں تو اسے رد کرنے کی بھی جرا¿ت رکھتی ہیں۔ بہت سے سینئر بیورو کریٹ جن کی گردنوں میں لوہے کے سریے ہیں کو میں نے ذاتی مفادات اور منافع بخش پوسٹوں کے لئے اپنے سیاسی سرپرستوں کے جوتے چاٹتے دیکھا ہے لیکن وہ کیمروں کی آنکھوں سے بچے ہوئے ہیں جبکہ ان کیمروں نے ایک غریب ارسلہ کو پکڑ لیا جو کہ ایک بہت ہی نرم، سادہ اور نظم و ضبط کی پابند آفیسر ہے۔ اس کو میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ جب وہ میرے دفتر میں آئی تو میرے دفتر کے ٹیبل سے کچھ کاغذ نیچے گر گیا جسے اس نے دفتر کے اردلی سے پہلے اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا۔ ایسے تمام افراد سے درخواست ہے جو ان کے سلیوٹ پر تنقید پر تنقید کر رہے ہیں وہ اپنے سیاسی مخالفین پر تو تنقید کریں لیکن ایک سیدھی اور ایماندار خاتون افسر کو سزا نہ دیں جو کسی شخصیت کو عزت دینے کے لئے سلا م تو کر سکتی ہیں لیکن میرٹ سے ہٹ کر کسی کے آگے جھک نہیں سکتی۔

















