Tag Archives: trump

ٹرمپ نے مودی کو گود لے لیا

واشنگٹن، اسلام آباد (نیٹ نیوز) نریندر مودی کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے امریکا نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیدیا ہے۔ محکمہ خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سید صلاح الدین کی تنظیم حزب المجاہدین نے مقبوضہ کشمیر میں کئی مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی فوج کا قبرستان بنانے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کا اصل نام محمد یوسف شاہ ہے۔ امریکا نے حزب المجاہدین کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا اعلان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر کیا ہے۔ دریں اثناءنریندر مودی کے دورہ¿ امریکا کےخلاف کشمیریوں اور سکھ کمیونٹی نے وائٹ ہاو¿س کے باہر مظاہرہ کیا اور بھارتی وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا ناانصافی ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری 7 دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں، انہیں حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران قابض بھارتی فوج نے وادی میں مظالم بڑھا دیئے ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا ناانصافی ہے۔ نفیس زکریا کا مزید کہنا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کی معترف ہے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جنہیں انسانی حقوق کے اداروں نے بھی ریکارڈ کیا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ٹرمپ سے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر بات چیت کی گئی، دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کو بڑھائیں گے، افغانستان میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت نے میری ٹائم سکیورٹی اور دفاعی صلاحیت بڑھانے پر بات چیت کی۔ بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کے اور ٹرمپ کے وژن میں کوئی فرق نہیں۔ مودی کی جانب سے ٹرمپ کو دورہ¿ بھارت کی دعوت بھی دی گئی۔ قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت دہشت گردی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک دہشت گرد تنظیموں اور انتہا پسند نظریات کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں، اسلامی انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک فوجی تعاون بڑھانے پر دن رات کام کررہے ہیں۔ آئندہ ماہ بھارت، امریکا اور جاپان کی بحری افواج بحرہند میں مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی۔ ٹرمپ نے بھارت کو امریکا کا سچا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان اس وقت بہترین تعلقات ہیں۔ امریکا اور بھارت کو دہشت گردی کے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی صدرکا افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت دُنیا کے لیے تعمیر و ترقی کی مثال بن سکتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اورپاکستان کیخلاف سازشیں کرنے پر بھی مودی کو امریکی انتظامیہ نے شاباش دی اور بھارت کو 2ارب ڈالرکے 22 ڈرون سمیت بھاری اسلحہ دینے کا بھی اعلان کردیا۔

ایف بی آئی بارے ٹرمپ کے حیران کن انکشافات

واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے مجھے اپنی تحقیقات کا ہدف نہیں بنایا تھا، جیمز کومی نے انہیں بتایا تھا کہ امریکی الیکشن میں مبینہ روسی اثر و رسوخ کے الزامات کی تحقیقات میں انہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا ۔ ایک انٹر ویو میں اس ادارے کے سربراہ کو برطرف کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیمز کومی نےمجھے بتایا تھا کہ امریکی الیکشن میں مبینہ روسی اثر و رسوخ کے الزامات کی تحقیقات میں انہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا تھا۔ سی آئی اے کے سربراہ کومی اس بارے میں تحقیقات کی سربراہی کر رہے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے جیمز کومی کی برطرفی کے اعلان کے ساتھ ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ کومی ٹرمپ کی حریف صدارتی امیدوار اور سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز سے متعلق اسکینڈل کے سلسلے میں ہونے والی چھان بین کے دوران کئی غلطیوں کے مرتکب ہوئے تھے۔ٹرمپ نے انٹرویو میں اس موقف پر زور دیا کہ انہوں نے کومی کو بر طرف کرنا تھا چاہے محکمہ انصاف کے اعلی عہدیداروں نے ایسا کرنے کی سفارش نا بھی کی ہوتی۔کومی کی قیادت میں ایف بی آئی ٹرمپ کی مہم اور روسی عہدیداروں کے درمیان رابطوں اور ماسکو کی طرف سے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں ممکنہ مداخلت کی معاملے کی تحقیقات کر رہی تھی۔دوسری طرف میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ کومی کو اس لیے برطرف کیا گیا کیونکہ وہ صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے معاملے کی تفتیش کو تیز کرنا چاہتے تھے۔اس برطرفی کے بعد ڈیموکریٹس روس کے معاملے کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ 20 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے ایک خصوصی مشیر مقرر کرنا کے مطالبہ کیا ہے۔دوسری طرف بعض ریپبلکن بھی کومی کے ہٹائے جانے کے وقت اور وجوہات سے متعلق تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔کومی کو اوباما نے 2013 میں اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹروں کو سیاسی مداخلت سے بچانے کے لیے 10 سال کی مدت کے لیے تعینات کیا جاتا ہے، تاہم صدور کو انہیں عہدے سے ہٹانے کا حق حاصل ہے۔اس سے قبل صرف ایک بار ایک ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو 1993 میں صدر بل کلنٹن نے ویلئیم سیشنز کو برطرف کر دیا تھا جنہوں نے اخلاقی وجوہات کی بنا پر رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں ایک سماعت کے دوران ایف بی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈر یو میکابے نے قانون سازوں کو صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت اور ٹرمپ کی مہم سے ممکنہ رابطوں کے معاملے کی تحقیقات کے دوران کسی بھی مداخلت کی کوشش سے قانون سازوں کو آگاہ کرنے کا وعدہ کیا۔میکابے نے کہا کہ “آپ ایف بی آئی کے مرد اور خواتین کو اپنا صیح کام کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں۔انہوں نے وائٹ ہاس کے ان دعوں کو مسترد کیا کہ کومی ایف بی آئی کے عملے کا اعتماد کھو بیٹھے تھے۔میکابے نے کہا کہ”میں آپ کو اعتماد سے بتا سکتا ہوں کہ ایف بی آئی کے عملے کی ایک اکثریت، ایک بہت بڑی اکثریت کے ڈائریکٹر کومی کے ساتھ گہرے اور مثبت تعلقات تھے۔دوسری طرف وائٹ ہاس کی نائب پریس سیکرٹری سارہ ہکابی سینڈرز نے وائٹ ہاس کی بریفنگ کے دوران میکابے کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایف بی آئی میں کام کرنے والے کئی افراد سے یہ سنا ہے جو صدر کے فیصلے پر خوش ہیں جس کے تحت کومی کو برطرف کیا گیا ہے

2بڑے ملکوں کی ٹرمپ کو دھمکی ۔۔ جنگ کیلئے تیار رہیں

لندن(ویب ڈیسک) روس اور ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دی ہے کہ وہ حقیقی جنگ کے لئے تیار رہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے شام کے فضائی اڈے پر کروز میزائلوں سے حملے کا ردعمل دیتے ہوئے لندن میں روسی سفارتخانے نے امریکا کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر بمباری کو حقیقی جنگ سے تعبیر کیا ہے جب کہ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرخ لکیر ریڈ لائن کو عبور نہ کرے، جوابی فوجی کاروائی کا حق رکھتے ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس ہے جو شامی حکومت کو باغیوں کے علاقے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہا۔

داعش کو کون تباہ وبرباد کر ے گا ….ٹرمپ کے سنسنی خیز انکشافات

واشنگٹن۔ 06 اپریل (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی قیادت میںاتحادی فوج دہشت گرد تنظیم داعش کو تباہ کرکے تہذیب و تمدن کی حفاظت کرے گی۔ ٹرمپ نے اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ وائٹ ہاو¿س میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کل کہا کہ داعش کو تباہ و بربادکردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ لڑنے اور اس کو شکست دینے والے ایک رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ٹرمپ ایک بار پھر ناکام ….سبقت کون لے گیا ؟؟

واشنگٹن (ویب ڈیسک)وائٹ ہاﺅس کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ری پبلکن رہنماں کے تحفظات دور نہ ہو سکے جس کے بعد ٹرمپ کو شرمندگی کے ساتھ اوباما کیئر کا متبادل نیا ہیلتھ کیئر بل واپس لینا پڑا ٹرمپ نے مستقبل قریب میں نیا بل نہ لانے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاﺅس کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ری پبلکن رہنماں کے تحفظات دور نہ ہو سکے جس کے بعد ٹرمپ کو شرمندگی کے ساتھ اوباما کیئر کا متبادل نیا ہیلتھ کیئر بل واپس لینا پڑا ۔ٹرمپ اپنی ہی پارٹی کے ایوان نمائندگان کو اپنا ہمنوا نہ بناسکےٹرمپ کے ہیلتھ کیئر بل کو ووٹ دینے بیشتر نمائندگان، ایوان میں حاضر ہی نہیں ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہیلتھ کیئر بل واپس لے لیا گیا۔بیشتر ریپلکن ارکان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا ہیلتھ کیئر بل، اوباما ہیلتھ کیئر جیسا ہی ہے اور اس سے حکومت پربھاری اخراجات کا بوجھ پڑے گا۔ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن کا کہناہے کہ بل منظور کرانے کے لیے درکار ووٹوں میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وائٹ ہاﺅس میں صدر ٹرمپ سے طویل ملاقات کی اور بل واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ آج کا دن امریکا کے لیے ایک عظیم دن ہے یہ امریکی عوام کی فتح ہے۔

ٹرمپ کا عراق بارے بڑا انکشاف

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا عراق کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاﺅس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماں نے داعش کے خلاف جنگ سمیت اہم امور پر بات چیت کی۔ اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا عراق کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔ حیدرالعبادی نے سفری پابندیاں اٹھانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب موصل میں امریکی حمایت سے داعش کے خلاف فوجی آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

آٹھ مسلم ممالک پر نئی پابندیاں عائد کرنیکا فیصلہ

نیویارک(ویب ©ڈیسک)امریکہ نے 8 مسلم ممالک پر دوران پرواز الیکٹرانک آلات ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے دوران پرواز سفر کرنیوالے 8 مسلم ممالک پر الیکٹرنک آلات ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے ، اب مسافر لیپ ٹاپ ، آئی پیڈ اور کیمرہ اپنے سامان کیساتھ نہیں لے جاسکیں گے ، اس پابندی کا اطلاق 8 ممالک کے 10 ایئرپورٹ پر ہوگا جن میں مصر ، ادرن ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت شامل ہیں ، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پالیسی بیان جمعرات تک آنے کی توقع ہے جس میں پابندی سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ایئرلائنز کی جانب سے بھی مسافروں کو ٹوئیٹ کی گئی ہے جس میں مسافروں کوہدایت جاری کیں ہیں کہ دوران پرواز کوئی مسافر اپنے ساتھ الیکٹرانک مصنوعات مثلا ممنوعہ آلات ،لیپ ٹاپ ،کیمرہ ساتھ نہ لائیں ان آلات پر مکمل پابندی ہے ۔ سکیورٹی ماہر برائن جین کنس نے کہا یہ تمام اقدامات مسافروں کی بہترین سکیورٹی کے لئے اٹھائے گئے ہیں اس سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں مزید بہتری کی امید ہے۔نیویارک، شکاگو اور ڈیٹرائٹ جانے والی پروازوں پر اس پابندی کا اطلاق شروع کردیا گیا ہے ۔ہوم لینڈ سیکورٹی کے وزیر جان کیلی نے متعدد سینیٹرز سے رابطہ کرکے انہیں اس حوالے سے آگاہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پابندی کا دورانیہ کئی ہفتوں پر محیط ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کتنا ٹیکس اداکرتے ہیں،،، ٹیکس ریٹرن افشا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظرعام پر آنے والے ٹیکس ریٹرن کے مطابق انھوں نے 2005 میں 15 کروڑ ڈالر کی آمدن پر تین کروڑ 80 لاکھ ڈالر ٹیکس ادا کیا۔امریکی ٹی وی ایم ایس این بی سی نے صدر ٹرمپ کی دو صفحات پر مشتمل ٹیکس ریٹرن افشا کی ہے تاہم آمدن کے ذرائع اور عطیہ کی گئی رقم کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاو¿س نے ٹیکس ریٹرن کو جاری کرنا خلاف قانون قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے ٹیکس ریٹرن کو جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا جو کہ 1976 سے چلی آ رہی انتخابی مہم کی روایات کے خلاف تھا۔اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ چونکہ ٹیکس حکام ان کا آڈٹ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن کو جاری نہ کیا جائے۔ اس پر ان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ کچھ چھپا رہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ معلومات افشا نہیں ہوئی ہیں تاہم پھر بھی صدر ٹرمپ کے ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں جاننے کے لیے اس میں کافی کچھ ہے اور اس سے ان پر دباو¿ پڑے گا کہ وہ زیادہ معلومات کو جاری کریں۔ٹیکس ریٹرن کے دو صفحات کے مطابق صدر ٹرمپ نے 53 لاکھ ڈالر فیڈرل انکم ٹیکس کی مد میں جبکہ تین کروڑ دس لاکھ ڈالر اے ایم ٹی یعنی متبادل کم از کم ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔خیال رہے کہ ٹیکس کے حصول کے لیے اے ایم ٹی کا نفاذ 50 برس قبل کیا گیا تھا تاکہ ایسے امیر لوگوں سے ٹیکس حاصل کرنا تھا جو ٹیکس نظام میں پائی جانے والی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ٹیکس ادا نہیں کرتے تاہم صدر ٹرمپ نے اس قانون کو ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔اکتوبر میں صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 1995 کے ٹیکس ریٹرن 90 کروڑ ڈالر کا خسارہ دکھایا تھا اور یہ خسارہ اس قدر بڑا تھا کہ اس سے ٹرمپ کو ممکنہ طور پر اگلے 18 سال تک قانونی طور پر ٹیکس ادا نہ کرنے کی چھوٹ مل گئی۔

امریکہ میں مقیم غیر ملکی ہنر مندوں کیلئے ٹرمپ کا خطرناک فیصلہ

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں)چھ مسلم ممالک پر سفری پابندی لگانے والی ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اور اقدام سامنے آیا ہے۔ اس میں غیر ملکی ہنر مندوں کی شریک حیات کو امریکا میں ملازمت کی اجازت دینے والے ویزے روکنے کی تیاری اور اس کے لیے عدالت میں درخواست بھی دائر کردی ہے۔غیر ملکی ہنرمندوں کو امریکا لانے والے ویزے کو ایچ ون بی ویزا کہا جاتا ہے۔ گرین کارڈ کے منتظر ایسے ہنرمندوں کے شریک حیات کو بھی امریکا میں کام کرنے کے لیے ایچ فور ویزا جاری کر دیا جاتا ہے۔ اب امریکی محکمہ انصاف نے واشنگٹن ڈی سی کی عدالت سے رجوع کرلیا ہے کہ ایچ فور ویزا رکھنے والوں کو 2ماہ تک ملازمت کرنے سے روکا جائے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ امریکا کے سابق صدر اوباما کی جانب سے غیر ملکی ہنرمندوں کو دی جانے والی یہ سہولت بھی چھین سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکی ورکرز متاثر ہوں گے۔ دوسری جانب سیف جابز نامی ایک امریکی گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ایچ ون بی ویزا کے تیز رفتاری سے اجرا کا عمل عارضی طور پر 3اپریل سے بند کردیا جائے گا۔موجودہ نظام کے تحت کمپنیاں ایچ ون بی ویزا کے جلد اجرا کےلیے1225 ڈالر اضافی دے کر 15دن کے اندر پراسس کرا سکتی ہیں۔ اس وقت امریکی کمپنیاں اسی پراسس کے تحت جلد از جلد ویزے حاصل کر رہی ہیں۔ نارمل پراسس کے لیے تین سے6 ماہ کا وقت درکار ہو تا ہے۔ تیز رفتار ویزا پراسس پر 3اپریل سے پابندی لگائی جا رہی ہے، جو 6 ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اوبامہ پر پھرالزام لگا دیا ….

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سابق امرےکی صدر باراک اوباما کو آڑے ہاتھوں لےتے ہوئے کہا ہے کہ ا±نھوں نے گوانتانامو بے کے فوجی حراستی مرکز سے مبینہ ”خطرناک قیدیوں“ کو رہا کر دیا تھا، جنھوں نے پھر سے”میدانِ جنگ کا ر±خ کیا“ سماجی رابطوں کی اےک وےب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اےک پےغام مےں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس تنصیب کو جاری رکھیں گے، قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بند کریں گے اور ممکنہ طور پر نئے قیدی وہاں بھیجیں گے۔