تازہ تر ین

کچہ آپریشن،فوجی گن شپ ہیلی کاپٹرپہنچ گئے،علاقے سیل

راجن پور، رحیم یار خان، کچہ جمال، ملتان (نمائندگان، نیوز ایجنسیاں) چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں پنجاب پولیس کو ناکامی کا سامنا، پاک فوج میدان میں آ گئی چھوٹو گینگ کیخلاف جاری آپریشن میں حصہ لینے کیلئے پاک فوج کے جوان پہنچ گئے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق پاک فوج کی ایک بٹالین اوکاڑہ سے ملتان پہنچ گئی ہے جوکہ چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں حصہ لے گی جبکہ آپریشن کیلئے گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے جائیں گے۔نجی ٹی وی کا کہناہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب نے کور کمانڈر بہاولپور سے ملاقات کی تھی جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاک فوج کوچھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں مدد کیلئے درخواست کی گئی تھی جس کے بعد پاک فوج کا 450جوانوں پر مشتمل دستہ ملتان پہنچ گیاہے۔ کچے کے علاقے میں آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پنجاب اور سندھ کی سرحد سیل کر دی گئی ہے۔ گن شپ ہیلی کاپٹرپہنچ گئے ہیں اور ڈاکوﺅں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ ڈاکوو¿ں نے پانچ اہلکاروں کی لاشیں پولیس کے حوالے کر دیں جبکہ چار زخمیوں کوچھوڑ دیا۔ تفصیلات کے مطابق راجن پور میں جاری آپریشن ضرب آہن ڈاکوﺅں کو گہری ضرب لگانے میں ناکام رہا۔ بدنام زمانہ ڈاکوﺅں نے پولیس کوجانی نقصان پہنچایا۔ دو ڈی ایس پیز سمیت پچیس اہلکاروں کو بھی یرغمال بنا لیا گیا لیکن آج ڈاکوﺅں نے چار زخمی اہلکاروں کو چھوڑ دیا۔ ڈاکووں نے ایک یرغمالی ایس ایچ اوتھانہ بنگلہ اچھا حنیف غوری کو قتل کر دیا۔ اس سے پہلے ڈاکوﺅں نے پولیس کو خبردار کیا تھاکہ فائرنگ کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ یرغمال اہلکاروں کو قتل کردیں گے۔ پولیس ذرائع کا کہناہے آپریشن میں اب تک تین ڈاکوﺅں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ پندرہ زخمی ہوئے۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے چھوٹو گینگ اور پولیس میں سونمیانی کے مقام پر مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کور کمانڈرملتان سے ملاقات بھی کی اور راجن پور میں جاری چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے راجن پور کے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے قبضے سے متعلق بھی کور کمانڈر ملتان کو آگاہ کیا۔ راجن پور آٹھ اضلاع کی پولیس چھوٹو گینگ کو قابو نہ کر سکی۔ راجن پور کے علاقے کچا جمال میں سات اہلکاروں کی شہادت اور چوبیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد چھوٹو گینگ کے خلاف جمعرات کو دوسرے روز بھی آپریشن معطل رہا۔ مذاکرات کے بعد چھوٹو گینگ نے پانچ اہلکاروں کی لاشیں پتن کے مقام پر پولیس کے حوالے کر دیں۔ ان میں ایس ایچ او حنیف غوری، شکیل، اجمل، طارق اور امان اللہ کی لاشیں شامل ہیں جبکہ چار زخمی پولیس اہلکاروں کو بھی چھوڑ دیا جنہیں شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ چوبیس یرغمالی اہلکاروں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ان میں اسد اللہ ، فیاض، ریحان، شفیق، الطاف، منیر، مظہر ، اختر، کلیم ، غلام دستگیر شامل ہیں۔ الٰہی بخش، راشد، علمدار، محمد سجاد، سراج ، نعیم، مجاہد ،رفیق، صدیق ، لیاقت، عبدالمجید، افتخار ، عاصم بھی تاحال یرغمال ہیں۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن میں تین ڈاکو مارے گئے ان میں چھوٹو کا دست راست پہلو پٹھانی ، مجید سیکھانی اور بگی بقرانی شامل ہیں۔ کچے کے علاقے میں آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان سے بھاگ کر آنیوالے دہشتگردوں نے پناہ لے رکھی ہے جس کی شہید ایس ایچ او حنیف غوری نے بھی تصدیق کی تھی۔ چھوٹو گینگ میں 80 سے 100 افراد ہیں جن کے پاس بھارتی ساختہ اینٹی ایئرکرافٹ گنیں بھی موجود ہیں۔ کچہ آپریشن کے دوران چھوٹو گینگ کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 7 اہلکاروں کو بھی شہید کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 11 ڈاکو مار دیئے گئے ہیں۔ خیرپورسادات سے نامہ نگار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ چھوٹو نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ محفوظ راستہ دیا جائے‘ میرے اور میرے قریبی ساتھیوں کےلئے ایک جہاز دیا جائے جو کہ ہمیں دبئی پہنچا دے۔ ہمارے گروہ میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد شامل نہیں۔ ذرائع کے مطابق چھوٹو وقفے‘ وقفے سے وائر لیس پر پولیس افسران سے مذاکرات کرتا رہا مگر مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے اور چھوٹو گینگ نے مزید 7 یرغمالیوں کو شہید کر دیا جن میں ایک پرائیویٹ شخص بھیشامل ہے جوکہ پولیس پارٹی نے زبردستی بغیر کسی اجرت کے کشتی چلانے پر مامور کیا تھا۔ چھوٹو گینگ نے تمام لاشیں پولیس کو اٹھانے دی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے ملتان میں صورتحال سے نمٹنے کےلئے اعلیٰ افسران کی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ رحیم یارخان سے تحصیل رپورٹر کے مطابق آئی جی پنجاب کی جانب سے وزیر داخلہ کو خط ارسال کیا گیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ کچہ کے علاقوں کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کیلئے پاک فوج آپریشن کرے۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کے اعلیٰ حکام کی زیر صدارت اہم اجلاس میں فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ آپریشن کو ہر قیمت پر کامیاب بنایا جائے گااور یرغمال بنائے گئے۔ پولیس اہلکاروں کی بازیابی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق فضائی آپریشن کیلئے حکمت عملی بھی مرتب کرلی گئی ہے جو آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ رحیم یار خان سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا‘ آر پی او ڈیرہ غازی خان رحمت اللہ نیازی‘ رینجرز اور آرمی کے افسران سمیت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملتان روانہ ہوئے۔ این این آئی کے مطابق آئی جی نے کور کمانڈر ملتان سے بھی ملاقات کی۔ صادق آباد سے نمائندہ خبریں کے مطابق کچہ کے علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آرمی کے چھ گن شپ کوبرا ہیلی کاپٹر کچہ میں پہنچ گئے۔ رحیم یار خان سے ڈسٹرکٹ رپورٹر اور خانپور سے نامہ نگار کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ کچہ کے علاقہ میں پولیس کی فائرنگ سے ڈاکوﺅں کی 3 خواتین ساتھی اور 2 بچوں سمیت 11 ڈاکو مارے گئے ہیں جن میں چھوٹو بکھرانی کے انتہائی اہم ساتھی بھی شامل ہیں۔ اطلاعا ت کے مطابق اب تک کے مقابلہ میں چھوٹو بکھرانی کے اہم ساتھی قابل عرف کوپر کٹ ولد میوہ قوم سیکھانی سکنہ چک چراغ شاہ‘ اس کا بھائی پہلوان اس کے علاوہ کالو ولد نامعلوم‘ مجید عرف مجیدا بکھرانی، بہرام اندھڑ اور ڈاکوﺅں کی 3 خواتین ساتھی اور 2 بچے بھی پولیس کی طرف سے ہونے والی فائرنگ میں مارے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجید بکھرانی چھوٹو کا بیٹا تھا۔ 10 زخمی ڈاکوﺅں میں سے 6 کی حالت تشویشناک ہے۔ شہداءکو آبائی علاقوں میں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کردیاگیا۔ 5جوانوں کی پولیس لائن راجن پور میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں ڈی سی او راجن پور چودھری ظہور حسین گجر ، ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیس افسران ، ریسکیو 1122، علماءکرام ، مذہبی و سماجی رہنما ،وکلاء، ورثاءاور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولانا محمودالحسن قاسمی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پولیس کی طرف سے سلامی پیش کی گئی۔ داجل سے تعلق رکھنے والے انسپکٹر محمد حنیف غوری اور نواحی بستی چھینہ سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ فورس کے حافظ محمد اجمل چھینہ کے جسد خاکی پولیس گاڑیوں کے بہت بڑے جلوس کے ساتھ جام پور لائے گئے۔ جلوس کی قیادت ڈی ایس پی جام پور حافظ عبدالرحمان عاصم کررہے تھے۔ نمائندہ چینل ۵ ملتان نعمان بھٹہ نے لائیو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ چھوٹو گینگ کافی عرصے سے متحرک ہے۔ 20 سے30 کلو میٹر ایریا ان کے قبضے میں ہے۔ جو لوگ ان کی بات نہیں مانتے ان پر ظلم اور فصلیں تک جلا دی جاتی ہیں۔ یہ ہتھیار خریدنے کےلئے بھی مقامی لوگوں سے بھتہ طلب کرتے ہیں۔ ان تک پہنچنا مشکل نہیں مگر پولیس اور مقامی انتظامیہ بھی ان کے آگے بے بس ہے۔ پولیس نے ہیلی کاپٹرز مانگے جو نہیں دئیے گئے۔ گن شپ ہیلی کاپٹر صرف ریسکیو کےلئے استعمال ہو ا ہے مگر آپریشن میں کوئی عمل دخل نہیں رکھتا۔ ہمارے ذرائع کے مطابق چھوٹو گینگ پولیٹیکل سرپرستی میں چل رہا ہے۔ ہمارے کچھ سیاستدانوں کی سرپرستی سے یہ گینگ بہت مضبوط ہو چکا ہے۔ 4پولیس اہلکاروں کی بازیابی میں ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی کا نام آ رہا ہے۔
کچہ آپریشن


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved