4مطالبات مان لیں ورنہ۔۔۔

لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماﺅں کو متحدہ کے معاملے پر زبان بند رکھنے کی ہدایت کی۔بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف صرف پنجاب صوبے کے وزیر اعظم نہ بنیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیر اعظم بنیں ، میں انہیں پانامہ بل منظور کرنے کے لئے 27دسمبر تک مہلت دیتا ہوں کہ وہ میرے چار مطالبات تسلیم کر لیں بصورت دیگر پورے ملک میں دمادم مست قلندر کرتے ہوئے گو نواز گو کا نعرہ جو میری والدہ شہید بے نظیربھٹو نے لگایا تھا وہ میرا بھی نعرہ بن جائے گا، نو دیرو ہاﺅس میں صحافیوں سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اٹھاوریں ترمیم کے خلاف کام کر کے جمہوریت کے ساتھ ملکی عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ نہ ہو کہ ہر آدمی گو نواز گو کا نعرہ لگانے پر مجبور ہو جائے کیونکہ ان کے ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یو ٹرن نہیں لیا آج بھی اس مو¿قف پر قائم ہوں کہ پانامہ پیپر س کا معاملہ حل ہونا چاہئے ، کشمیر الیکشن میں مودی کے یار کو غدار نہیں بلکہ یہ ضرور کہا کہ گرتی ہوئی دیوار کو ، مودی کے یار کو ، چوروں کے سردار کو ایک دھکا اور دو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف مودی سے کیوں مل رہے ہیں اور انہیں شادی پر مدعو کیوں کیا گیا جب اتنے قریبی مراسم ہونگے تو پھر اختلافات کیسے رکھے جائیں گے یہ سوال اہم ہے، پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی تنظیم نو کے حوالے سے کہا کہ پورے ملک میں پیپلزپارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کی جا رہی ہے اور تشکیل کردہ رابطہ کمیٹیوں کی رپورٹ مل چکی ہے کل کراچی بلاول ہاﺅس میں نئے عہدیداروں کا اعلان کر دونگا جس میں صوبہ سندھ کے لئے پیپلزپارٹی کے صوبائی صدور کے لئے سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور مولا بخش چانڈیو کے نام موجود ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نام تبدیل کر کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج رکھ کر اسے اسلام آباد شفٹ کیا جا رہا ہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن کراچی اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کا بڑا نام ہے جس کی تبدیلی کے لئے پیپلزپارٹی سمیت عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے قائدین نے جانوں کے نذرانے دیئے ہیں ان پر اگر ہم روتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے اور جب ریلی میں ڈانس کرتے ہیں تو ہمیں عیاش کہا جاتا ہے ، میری زندگی کا مشن ہے کہ میں ملک کی عوام کے ساتھ مل کر قائد اعظم کا پاکستا ن بناﺅں۔ انہوں کامیاب ریلی پر کراچی والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دل سے کراچی والوں کے مشکور ہیں ،کیونکہ نو سال بعد کراچی میں عوامی سمندر امنڈ آیا اور ریلی میں ایک ملین عوام نے شرکت کی، سانحہ کار ساز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ واقع دنیا کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت پر ہونے والا تیسرا بڑا دہشتگردی کا واقعہ تھا ، ملک میں کئی نائین الیون جیسے واقعات ہوتے ہیں ، میری والدہ نے سانحہ میں شہید ہونے والوں کی لاشوں کو وصول کرنے کیلئے 6ماہ کوششیں کیں لیکن مشرف لاشیں دینے کو تیار نہیں تھے اور کہتے تھے کہ لاشوں پر سیاست کرنا بند کرو۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں جتنی دہشت گردی ہوئی یہاں تو ہر ہفتے ہم نے نائن الیون دیکھا ہے‘ سانحہ کار ساز کے شہداءکے لواحقین کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں‘ سلام شہداءریلی میں پورا کراچی نکلا یہ دہشت گردی کے خلاف پیغام تھا‘ یہاں کے عوام دہشت گردی کے خلاف اور جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولہ اکتوبر کو ریلی کامیاب بنانے پر کراچی والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اتنی بڑی تعداد میں عوام کی شرکت سے ثابت ہوا کہ عوام دہشت گردی کے خلاف اور جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ سلام شہداءریلی میں پورا کراچی نکلا یہ دہشت گردی کے خلاف ٹھوس پیغام تھا۔ کراچی کے لوگوں نے بی بی کے بیٹے کو بہت عزت دی۔ لاڑکانہ میرا حلقہ ےہ اور آپ میرے ووٹرز ہیں۔ پارٹی کی تنظیم نو کے لئے کمیٹی کی رپورٹ مل گئی ہے مقامی سطح پر کارکنوں اور وکرز کے لئے رائے طلب کی گئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تمام اداروں کو لاہور منتقل کرنے کی کیا ضرورت ہے اسٹیٹ بنک کے محکموں کی کراچی سے منتقلی پر ہمیں شدید تحفظات ہیں حکومت سندھ ہر صورت میں صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اقدامات اٹھارویں ترمیم اور جمہوریت کے خلاف ہیں ہم اپنے مطالبات کے حق میں کوشش کرتے رہیں گے۔ اعتزاز احسن ملک کے بہترین وکیل ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved