اڈیالہ جیل میں خصوصی انتظامات اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ حکومت اسلام آباد میں ایکشن کیلئے تیار

اسلام آباد (مظہر شیخ سے) تحریک انصاف کے 2نومبر کے اسلام آباد بند کرنے کے دھرنا پلس کو ناکام بنانے کیلئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں داخلہ کے تمام راستوں کو بند کرنے کیلئے جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، آزاد کشمیر سمیت قریبی اضلاع سے مجموعی طور پر 20ہزارپولیس نفری طلب کی گئی ہے۔ 300 کنٹینرز پکڑنے کا ہدف مقرر کردیا ہے۔ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں، شہر بھر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہوگی۔ بیرون شہر سے راولپنڈی آنے کے راستے بھی سیل کئے جائیں گے، راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے تمام راستے بھی سیل کئے جائیں گے۔ تحریک انصاف کے ٹائیگرز کیلئے اڈیالہ جیل میں خصوصی بارک کی صفائیاں بھی شروع کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کے دو نومبر کے دھرنے کے باعث راولپنڈی کے تمام تعلیمی اداروں میں یکم نومبر سے 3 نومبر تک چھٹیاں کرنے کی تجویز پیش کردی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے تحریک انصاف کے دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی۔ وزارت داخلہ نے2نومبر کو تحریک انصاف کے دھرنے سے نمٹنے کیلئے ایف سی اور رینجرز کو سیکیورٹی پلان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے دھرنے کے دوران امن و امان کو بہتر بنانے کیلئے پنجاب سے پولیس طلب کر نے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اور رینجرز ہراول دستے کا کام کرے گی۔اس کے علاوہ وزار ت داخلہ نے آزاد کشمیر سے بھی پولیس فورس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسلام آبا د پولیس ہیڈ کوارٹرز باہر سے آنے والوں کی میزبانی کرے گا ۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے پیش نظر وزارت داخلہ کو دوسرے صوبوں سے پولیس فورس طلب کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔اس خط میں جن صوبوں سے پولیس فورس منگوانے کے بارے میں کہا گیا ہے ان میں پنجاب کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس بھی شامل ہے۔اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مختلف اداروں کو لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ یہ ادارے 23 اکتوبر تک ان عمارتوں کا کنٹرول ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیں۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی ہے۔جن عمارات کو ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول میں دینے کی بات کی گئی ہے ا±ن میں سپورٹس کمپلکس، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کیمپس کےعلاوہ سیکٹر جی سکس اور جی نائن میں واقع کمیونٹی سینیٹرز شامل ہیں۔اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا ختم نہیں ہوتا اس وقت تک یہ عمارتیں ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہی رہیں گی۔اسلام آباد میں دفعہ 144 نافد ہے جس کے مطابق وہاں جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں ضلعی انتظامیہ فوج کو بھی طلب کر سکتی ہے۔پی ٹی آئی کا دھرنا وفاقی پولیس نے 25000اضافی نفری مانگ لی، وفاقی وزارت داخلہ نے بھی 2نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ دھرنے سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ۔پنجاب پولیس اور آزادکشمیر پولیس کے علاوہ رینجرز کے دستے تعینات کئے جائیں گے۔ پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میزبانی کرے گا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بھی رہائش گاہوں کی فراہمی کیلئے مختلف محکموں کو خط لکھ دیا۔ذرائع کے مطابق 2نومبر کو پی ٹی آئی کی طرف سے ممکنہ دھرنے سے نمٹنے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ نے کمر کس لی ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے اسلام آباد میں وفاقی پولیس کے علاوہ پنجاب پولیس آزادکشمیر اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔ دوسرے صوبوں سے آنے والی پولیس اور رینجرز کو پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں ٹھہرانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔تاہم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے رہائش گاہوں کی فراہمی کیلئے مختلف محکموں کو خطوط بھجوا دئیے ہیں ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved