زکوٹا جن علاج کیلئے دربدر

لاہور (خصوصی رپورٹ)عنایت حسین بھٹی نے کہا تھا ” دنیا مطلب دی او یار۔“ اگر موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو ان کی کئی عشروں پہلے کہی گئی بات ہمیں بالکل درست نظر آئے گی کیونکہ جب تک ہمیں تفریح مل رہی تھی تو بل بتوڑی بھی ہماری پسندیدہ تھیں اور زکوٹا جن کے بھی ہم پرستار تھے لیکن جیسے ہی انہوں نے حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر تفریح کا سامان رکھ چھوڑا تو ہم لوگوں نے بھی انہیں اپنے ذہنوں سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور ماضی کے فنکار آج بیکار ہو گئے اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔گزشتہ دنوں ٹی وی نے مقبول ترین ڈرامہ سیریل عینک والا جن کی بل بتوڑی کے حالات عوام کے سامنے رکھے تھے لیکن یہ صرف بل بتوڑی کی ہی کہانی نہیں ہے بلکہ زکوٹا جن کے حالات بھی کچھ بہتر نہیں ہیں اور وہ نہ صرف بیمار ہیں بلکہ اپنا علاج کرانے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ زکوٹا جن سے گفتگو کی کوشش کی تو ان کے پاس الفاظ ہی ختم ہوگئے تھے، جس کی وجہ نہ صرف حالات کی ستم ظریفی تھی بلکہ انہیں فالج کا اٹیک بھی ہوا ہے۔ منا لاہوری عرف زکوٹا جن گفتگو کرتے ہوئے کہا ”حال بے حال ہیں، ٹائم گزار رہے ہیں، فالج کا اٹیک ہوا ہے، میرا علاج ہو جانا چاہیے۔“ کل تک ”میرا کام بتاﺅ میں کیا کروں، میں کس کو کھاﺅں؟“ کا ڈائیلاگ بولنے والے شخص کی حقیقی زندگی میں بھی حالات ایسے ہی ہو چکے ہیں اور انہیں پتا ہی نہیں ہے کہ اگر انہیں ایک وقت کا کھانا مل گیا تو دوسرے وقت کا کھانا کیا کھائیں گے۔ زکوٹا جن کے بیٹے ولید نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کو فالج، بلڈ پریشر اور شوگر ہے جس کے باعث وہ بول بھی نہیں پاتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ابو جلد سے جلد ٹھیک ہو جائیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب کا اچھے سے اچھا علاج کرائیں۔ ولید نے ڈاکٹروں کے رویے کے بارے میں بتایا کہ ہر ہسپتال میں ڈاکٹر اچھے طریقے سے ملتے ہیں اور تصویریں بھی لیتے ہیں لیکن صرف ایک آدھ گولی دے کر گھر بھیج دیتے ہیں اور کوئی باقاعدہ علاج نہیں کیا جاتا۔ گزر بسر اور ذریعہ آمدن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میرے والد صاحب اتوار کو الحمرا ہال جاتے ہیں جہاں سے کچھ نہ کچھ آمدن ہوجاتی ہے جبکہ میرے بڑے بھائی میٹرو بس سسٹم میں ملازمت کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی کے کتنے ہی فنکار ہیں جو آج تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں، کیا جب تک میڈیا کسی کے حالات عوام کے سامنے پیش نہیں کرے گا تب تک ہمارے ارباب اختیار اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گے؟ کیا حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہماری ثقافت کے نمائندوں کیلئے کوئی فنڈ قائم کردیا جائے؟۔ اگر قارئین میں سے کوئی شخص زکوٹا جن کی مالی مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ ان سے 03004494129 پر رابطہ کرسکتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved