تازہ تر ین

ٹرمپ نے پوری دنیا میں آگ بھڑکا دی

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکی صدر ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرکے پوری دنیا میں آگ بھڑکا دی۔ ٹرمپ نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔ٹرمپ کے انتہائی متنازعہ فیصلے کیخلاف مسلم ممالک سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے ۔وائٹ ہاﺅس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے کو کافی مخالفت کا سامنا رہا۔ امریکہ نے دو دہائیوں تک اس اقدام سے گریز کیا لیکن اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے کوئی آثار نظر نہیں آئے لہٰذا اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیں گے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے اس وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا میں اپنا وعدہ پورا کررہا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا میں نے یہ فیصلہ امریکا کے بہترین مفاد اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن کی جستجو کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔مقبوضہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کے لوگ پرسکون زندگی گزارسکتے ہیں،مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجودہے ، مشرق وسطی میں امن عمل میں پیش رفت کے لیے یہ اقدام کافی عرصے سے تاخیر کا شکار تھا۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے باضابطہ اعلان سے قبل امریکی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا امریکہ فوری طور پر سفارتخانے کی منتقلی کا کام شروع کرے گا،فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ردعمل میں کہا القدس فلسطین کاابدی دارالحکومت ہے ، اعلان سے امریکا اپنے ثالث کے کردار سے دستبردارہوگیا،فیصلے سے انتہاپسندوں کو فائدہ ہوگا،حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے کہا فیصلہ جہنم کے دروازے کھول دیگا،فلسطینی تنظیموں نے تین روزہ ہڑتال اورمظاہروں کا اعلان کردیا،فیصلے کیخلاف غزہ میں ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرمپ کے پتلے نذرآتش کیے اورا مریکی جھنڈے جلا ڈالے ۔پاکستان نے بھی امریکی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا سفارتخانہ منتقل کرکے امریکہ عملی طورپر مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کردیگا اور دو ریاستوں کا حل دفن ہوجائے گا۔اقدام سے فلسطینی اور مسلم دنیا مشتعل ہوگی۔اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی خبروں پر تشویش ہے اور پاکستان ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے ۔ ترک صدر نے معاملے پر اوآئی سی کا ہنگامی اجلاس13دسمبرکو طلب کرلیا جبکہ عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس ہفتے کو ہوگا۔ فرانسیسی صدر نے کہا فیصلہ قابل افسوس ہے ،اس کی حمایت نہیں کرتے ۔پوپ فرانسس نے کہا بیت المقدس کا اسٹیٹس بدلنے سے تشدد مزید بڑھے گا۔یو این سیکرٹری جنرل نے کہا دو ریاستی حل ہی مسئلہ فلسطین کے معاملے کا اصل حل ہے ۔مصر نے بھی امریکی فیصلہ مسترد کردیا، میکسیکو نے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے انکار کردیا۔یورپی یونین کے نمائندے نے کہا فیصلہ مشرق وسطی کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔ایرانی وزارت خارجہ نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ نئی انتفاضہ کا پیش خیمہ ہوگا۔استنبول میں سینکڑوں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا۔امریکہ نے جرمنی ،برطانیہ،مغربی کنارے میں امریکی شہریوں کیلئے وارننگ جاری کردی۔اردن میں کشیدگی کے باعث امریکی سفارتخانے نے پبلک سروس بند کردی۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اعلان کو تاریخی قرار دیا ۔ نیتن یاہو نے کہا فیصلے سے بیت المقدس کے مذہبی مقامات کی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہونے کا اعادہ کیا۔امریکا کی حکمران جماعت کے یہودی ارکان کے گروپ نے فیصلے پر ٹرمپ کا شکریہ اداکیا،یاد رہے کہ اس گروپ نے انتخابی مہم کیلئے ٹرمپ کو دو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر دیئے تھے ۔سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع جیمز میٹس،وزیر خارجہ ٹلرسن اور سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو فیصلے کے مخالف ہیں،لیکن نائب صدر مائیک پنس حامی ہیں۔مبصرین نے کہاہے فیصلے سے امریکا دنیا میں سفارتی محاذ پر تنہا ہوگیا۔ یادرہے کہ دنیا کے کسی ملک کا سفارتخانہ بیت المقدس میں نہیں ۔امریکا اس حوالے سے پہلا ملک بن گیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved