تازہ تر ین

کپتان نے بشریٰ بی بی سے شادی کیوں کی ۔۔۔ وجہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جا ئیں گے

لاہور (خصوصی رپورٹ) عمران خان کی روحانی پیرنی بشریٰ بی بی المعروف ”پنکی“ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ ان کے روحانی علم کے مطابق اگر ان دونوں کی شادی ہوجائے تو نہ صرف کپتان اپنے سیاسی حریفوں کو پچھاڑ دیں گے بلکہ آئندہ الیکشن جیت کر وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا دعویٰ تھا کہ دوسری جانب یہ راستہ ہموار کرنے کیلئے ”پنکی پیرنی“ نے اپنے پہلے شوہر کو کہا تھا کہ انہیں روحانی طور پر مرشد کی جانب سے حکم ہوا ہے کہ وہ ان سے الگ ہوجائیں۔اسی تناظر میں بشریٰ بی بی نے اپنے پہلے شوہر سے خلع لی۔ چیئرمین عمران خان کی خفیہ تیسری شادی کی خبر معروف صحافی عمر چیمہ نے بریک کی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر عمران خان نے تاحال اس خبر کی تردید نہیں کی۔ جبکہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما بھی اس خبر کی تردید کرنے سے گریزاں ہیں۔ اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ معاملہ چونکہ انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے لہٰذا اس کی تفصیلات خاندان کے صرف چند لوگوں اور پارٹی کے بعض رہنماﺅں کے علاوہ جن میں جہانگیرترین ، اسد عمر اور عون چودھری شامل ہیں، کسی کے پاس نہیں ۔ جبکہ نکاح کے بعد دلہن لاہور سے دوبارہ پاکپتن منتقل ہوچکی ہے اور یہ کہ اس شادی کو آئندہ انتخابات کے بعد تک خفیہ رکھنے کا پلان بنایا گیا تھا۔ عہدیدار کے بقول اگرچہ بشریٰ بی بی کو چیئرمین پی ٹی آئی سے شادی کی خبر اب بریک ہوئی ہے، لیکن اس سلسلے میں پارٹی کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں کئی ماہ سے چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ چونکہ اس سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداروں سے بھی اعلیٰ قیادت بارے میں کوئی بات کرنے سے گریزاں ہے لہٰذا اصل حقائق چند روز بعد ہی سامنے آئیں گے۔ عہدیدار کے مطابق ریحام خان سے عمران خان کی شادی کی خبر بریک ہونے کے بعد بھی بالکل ایسی ہی صورتحال تھی۔ پارٹی کے بیشتر رہنما اور عہدیداران اس سے لاعلم اور لوگ ان کو فون کرکے ان سے حقائق معلوم کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ بالآخر چیئرمین پی ٹی آئی کو اس شادی کا اعتراف کرنا پڑا تھا اور لگتا ہے اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ بشریٰ بی بی اور عمران خان کے درمیان شادی ہوئی ہے یا انہیں؟ اس کی باضابطہ تصدیق آنے والے وقت میں ہوجائیگی۔ تاہم اب تک کی صورتحال سے خبر کے درست ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ پی ٹی آئی پاکپتن کے ایک سینئر عہدیدار ، جو خود بھی اپنے پارٹی رہنماﺅں کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کے لیے کوشاں ہیں کا کہنا تھا کہ جب 2016ءمیں برطانیہ میں مقیم بشریٰ بی بی کی بہن مریم کے ساتھ عمران خان کی شادی کی خبر چلی تھی تو عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے اس خبر کی تردید کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ لیکن اس بار چوبیس گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود خاموش ہیں اور پارٹی کارکنان سمیت دیگر لوگ ان کے ٹویٹ کے منتظر ہیں۔ چند کھوکھلی تردیدیں پارٹی کے بعض رہنماﺅں کی طرف سے آئی ہیں، تاہم بیشتر رہنما تردید کرنے سے گریزاں ہیں۔ عہدیدار کے مطابق دوسری جانب چکوال میں تیسری شادی سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دئیے بغیر عمران خان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ” دال میں کچھ کالا ہے“۔ عہدیدار نے تصدیق کی کہ قریباً پچھلے سوا دو برس سے عمران خان کا پاکپتن آنا معمول تھا۔ کیونکہ یہ آمد عموماً رات کے اندھیرے میں خاموشی سے ہوا کرتی تھی، جبکہ پارٹی چیئرمین کے ہمراہ صرف ذاتی محافظ ہوا کرتے تھے، لہٰذا اسے بھی اکثر صبح ساتھیوں کی زبانی معلوما ہوتاتھا کہ خان صاحب پاکپتن آئے تھے۔ عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ”خان صاحب، جب بھی پاکپتن آتے تو بابا فرید گنج شکرؒ کی درگاہ پر لازمی حاضری دیا کرتے تھے کیونکہ بشریٰ بی بی نے انہیں تاکید کر رکھی تھی کہ وہ دشمنوں کے بداثرات سے بچنے کیلئے پاکپتن آئیں تو بابا کے مزار پر ضرور جائیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان کو بشریٰ بی بی کے ”پیرکامل“ ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ وہ جب بھی کسی مصیبت میں پھنسے تو فوری پاکپتن کا رخ کیا۔کپتان نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی میں عقیق احمر جڑی چاندی کی انگوٹھی بھی بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی ہدایت پر پہن رکھی ہے۔ اس انگوٹھی پر کچھ وظائف بھی کندہ ہیں‘ جو نحواست دور کرنے کیلئے بشریٰ بی بی نے تجویز کئے تھے جبکہ پنکی پیرنی کا دعویٰ تھا کہ اس انگوٹھی کی موجودگی میں عمران خان پر ہر قسم کا جادو ٹونا بے اثر رہے گا۔ کپتان نے یہ انگوٹھی اس وقت پہنی تھی جب پیرنی نے انہیں بتایا تھا کہ ان پر جادو ٹونا کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بنی گالہ میںواقع عمران خان کے گھر کے کچن اور فارم میں آسیبی سایوں اور جادوئی اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس جادو کے توڑ کیلئے بشریٰ بی بی نے کپتان کی رہائش گاہ پر قیام بھی کیا تھا۔ وہ روز عمران خان پر دم بھی کرتی تھیں۔ عمران خان نے اپنی پیرنی سے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی شادی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتی لہٰذا وہ اس مسئلے کا روحانی حل بھی تجویز کریں‘ جس پر بشریٰ بی بی نے انہیں غریب اور بے سہارا لڑکیوں کی شادیاں کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس ہدایت کے پیش نظر عمران خان نے دو برس قبل پشارو میں 45جوڑوں کی شادیاں کرائی تھیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کی باغی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے جب عمران خان کے خلاف نازیبا ایس ایم ایس بھیجنے سمیت دیگر انکشافات کئے تھے تو اس مشکل سے جان چھڑانے کیلئے بھی کپتان نے بشریٰ بی بی کے در پر حاضری دی تھی۔ گزشتہ برس اگست میں جب قومی اسمبلی کااہم اجلاس چل رہا تھا تو عمران خان اس اجلاس کو چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں پاکپتن روانہ ہو گئے تھے۔ عمران خان کے پہنچنے پر بشریٰ بی بی نے انہیں چند وظائف بتائے‘ چند گھنٹے بعد وہ بابا فرید گنج شکرؒ کی درگاہ پر حاضری دے کر واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے تھے۔ عمران خان اپنی پیرنی بشریٰ بی بی کے اصل معتقد اس وقت ہوئے جب انہوں نے 2015ءمیں لودھراں کی نشست این اے 154کے ضمنی الیکشن میں جہانگیرترین کی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی۔ اس سے چند ماہ قبل ہی عون چودھری نے عمران خان کو بشریٰ بی بی سے پہلی بار متعارف کرایا تھا۔ ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی کامیابی سے متعلق بشریٰ بی بی کی پیش گوئی تو درست ثابت ہوگئی لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہی تھیں کہ اس کامیابی کے دو برس بعد نہ صرف ترین کو اس سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے بلکہ وہ انتخابی سیاست کیلئے بھی نااہل ہو جائیں گے۔ 40سالہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کی شادی اسلام آباد میں کسٹم کے ایک اعلیٰ افسر خاور فرید مانیکا کے ساتھ ہوئی تھی جو ایک سابق وفاقی وزیر اور بااثر سیاستدان غلام فرید مانیکا کے بیٹے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا اپنا تعلق وٹو فیملی سے ہے جو مانیکا قبیلے کی ذیلی شاخ ہے۔ بشریٰ بی بی اپنے شوہر خاور فرید مانیکا سے خلع لے چکی ہیں۔ پہلے شوہر سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بڑے بیٹے ابراہیم کی عمر 20برس کے لگ بھگ ہے جبکہ تین بیٹیوں میں سے ایک معروف سیاستدان میاں عطا مانیکا کی بہو ہے۔ یاد رہے کہ دو برس پہلے عمران خان کی بشریٰ بی بی کی بہن قرار دی جانے والی مریم نامی خاتون سے شادی کی خبر بھی چلی تھی جو برطانیہ میں مقیم ہیں تاہم خود بشریٰ بی بی نے اس شادی کی تردید کر دی تھی۔ کپتان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ہمیشہ روحانی استادوں کے معتقد رہے ہیں۔ وہ فیض حاصل کرنے معروف روحانی شخصیت پروفیسر رقیق اختر کے پاس بھی جاتے رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ایک قریبی ساتھی اعجاز نے ملتان شیخ امین سے بھی ان کا رابطہ کرایا تھا۔ شیخ امین نے عمران خان کو ہر وقت درود شریف پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ رابطہ کرنے پر صحافی عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی شادی سے متعلق اپنی خبر پر وہ قائم ہیں۔ اس حوالے سے اگر انہیں کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی کے لوگوں کا موقف بھی لیا ہے۔ کسی نے اس کی تردید نہیں کی۔ عمر چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ۔” میں نے اس خبر کی تصدیق نکاح پڑھانے والے مفتی سعید سے بھی کرنا چاہی، کیونکہ مفتی سعید جھوٹ نہیں بولتے۔ پہلے تو مفتی صاحب نے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن جب ان سے اصرار کیا گیا کہ وہ یکم جنوری 2018ءکو لاہور میں عمران خان کا نکاح پڑھانے کی تردید یا تصدیق کریں تو انہوں نے تردید اور تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے معذرت چاہی۔ “ عمر چیمہ کے بقول ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان ریحام خان کی طرح بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی سے بھی دوبارہ نکاح کا ڈرامہ رچائیں گے۔ کیونکہ نومبر 2014ءمیں ریحام خان کے ساتھ ان کا نکاح ہو چکا تھا لیکن وہ اس کی تردید کرتے رہے اور پھر جنوری 2015ءمیں دوبارہ نکاح پڑھایا۔عمران خان کی تیسری شادی کی خبر کی تصدیق کے لئے میڈیا نے تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا….” میری ابھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ ملاقات ہو گی تو میں ضرور ان سے پوچھوں گا لیکن یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔“لاہور (خصوصی رپورٹ) عمران خان کی روحانی پیرنی بشریٰ بی بی المعروف ”پنکی“ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ ان کے روحانی علم کے مطابق اگر ان دونوں کی شادی ہوجائے تو نہ صرف کپتان اپنے سیاسی حریفوں کو پچھاڑ دیں گے بلکہ آئندہ الیکشن جیت کر وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا دعویٰ تھا کہ دوسری جانب یہ راستہ ہموار کرنے کیلئے ”پنکی پیرنی“ نے اپنے پہلے شوہر کو کہا تھا کہ انہیں روحانی طور پر مرشد کی جانب سے حکم ہوا ہے کہ وہ ان سے الگ ہوجائیں۔اسی تناظر میں بشریٰ بی بی نے اپنے پہلے شوہر سے خلع لی۔ چیئرمین عمران خان کی خفیہ تیسری شادی کی خبر معروف صحافی عمر چیمہ نے بریک کی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر عمران خان نے تاحال اس خبر کی تردید نہیں کی۔ جبکہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما بھی اس خبر کی تردید کرنے سے گریزاں ہیں۔ اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ معاملہ چونکہ انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے لہٰذا اس کی تفصیلات خاندان کے صرف چند لوگوں اور پارٹی کے بعض رہنماﺅں کے علاوہ جن میں جہانگیرترین ، اسد عمر اور عون چودھری شامل ہیں، کسی کے پاس نہیں ۔ جبکہ نکاح کے بعد دلہن لاہور سے دوبارہ پاکپتن منتقل ہوچکی ہے اور یہ کہ اس شادی کو آئندہ انتخابات کے بعد تک خفیہ رکھنے کا پلان بنایا گیا تھا۔ عہدیدار کے بقول اگرچہ بشریٰ بی بی کو چیئرمین پی ٹی آئی سے شادی کی خبر اب بریک ہوئی ہے، لیکن اس سلسلے میں پارٹی کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں کئی ماہ سے چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ چونکہ اس سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداروں سے بھی اعلیٰ قیادت بارے میں کوئی بات کرنے سے گریزاں ہے لہٰذا اصل حقائق چند روز بعد ہی سامنے آئیں گے۔ عہدیدار کے مطابق ریحام خان سے عمران خان کی شادی کی خبر بریک ہونے کے بعد بھی بالکل ایسی ہی صورتحال تھی۔ پارٹی کے بیشتر رہنما اور عہدیداران اس سے لاعلم اور لوگ ان کو فون کرکے ان سے حقائق معلوم کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ بالآخر چیئرمین پی ٹی آئی کو اس شادی کا اعتراف کرنا پڑا تھا اور لگتا ہے اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ بشریٰ بی بی اور عمران خان کے درمیان شادی ہوئی ہے یا انہیں؟ اس کی باضابطہ تصدیق آنے والے وقت میں ہوجائیگی۔ تاہم اب تک کی صورتحال سے خبر کے درست ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ پی ٹی آئی پاکپتن کے ایک سینئر عہدیدار ، جو خود بھی اپنے پارٹی رہنماﺅں کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کے لیے کوشاں ہیں کا کہنا تھا کہ جب 2016ءمیں برطانیہ میں مقیم بشریٰ بی بی کی بہن مریم کے ساتھ عمران خان کی شادی کی خبر چلی تھی تو عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے اس خبر کی تردید کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ لیکن اس بار چوبیس گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود خاموش ہیں اور پارٹی کارکنان سمیت دیگر لوگ ان کے ٹویٹ کے منتظر ہیں۔ چند کھوکھلی تردیدیں پارٹی کے بعض رہنماﺅں کی طرف سے آئی ہیں، تاہم بیشتر رہنما تردید کرنے سے گریزاں ہیں۔ عہدیدار کے مطابق دوسری جانب چکوال میں تیسری شادی سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دئیے بغیر عمران خان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ” دال میں کچھ کالا ہے“۔ عہدیدار نے تصدیق کی کہ قریباً پچھلے سوا دو برس سے عمران خان کا پاکپتن آنا معمول تھا۔ کیونکہ یہ آمد عموماً رات کے اندھیرے میں خاموشی سے ہوا کرتی تھی، جبکہ پارٹی چیئرمین کے ہمراہ صرف ذاتی محافظ ہوا کرتے تھے، لہٰذا اسے بھی اکثر صبح ساتھیوں کی زبانی معلوما ہوتاتھا کہ خان صاحب پاکپتن آئے تھے۔ عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ”خان صاحب، جب بھی پاکپتن آتے تو بابا فرید گنج شکرؒ کی درگاہ پر لازمی حاضری دیا کرتے تھے کیونکہ بشریٰ بی بی نے انہیں تاکید کر رکھی تھی کہ وہ دشمنوں کے بداثرات سے بچنے کیلئے پاکپتن آئیں تو بابا کے مزار پر ضرور جائیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان کو بشریٰ بی بی کے ”پیرکامل“ ہونے کا اس قدر یقین ہے کہ وہ جب بھی کسی مصیبت میں پھنسے تو فوری پاکپتن کا رخ کیا۔کپتان نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی میں عقیق احمر جڑی چاندی کی انگوٹھی بھی بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی ہدایت پر پہن رکھی ہے۔ اس انگوٹھی پر کچھ وظائف بھی کندہ ہیں‘ جو نحواست دور کرنے کیلئے بشریٰ بی بی نے تجویز کئے تھے جبکہ پنکی پیرنی کا دعویٰ تھا کہ اس انگوٹھی کی موجودگی میں عمران خان پر ہر قسم کا جادو ٹونا بے اثر رہے گا۔ کپتان نے یہ انگوٹھی اس وقت پہنی تھی جب پیرنی نے انہیں بتایا تھا کہ ان پر جادو ٹونا کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بنی گالہ میںواقع عمران خان کے گھر کے کچن اور فارم میں آسیبی سایوں اور جادوئی اثرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس جادو کے توڑ کیلئے بشریٰ بی بی نے کپتان کی رہائش گاہ پر قیام بھی کیا تھا۔ وہ روز عمران خان پر دم بھی کرتی تھیں۔ عمران خان نے اپنی پیرنی سے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی شادی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتی لہٰذا وہ اس مسئلے کا روحانی حل بھی تجویز کریں‘ جس پر بشریٰ بی بی نے انہیں غریب اور بے سہارا لڑکیوں کی شادیاں کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس ہدایت کے پیش نظر عمران خان نے دو برس قبل پشارو میں 45جوڑوں کی شادیاں کرائی تھیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کی باغی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے جب عمران خان کے خلاف نازیبا ایس ایم ایس بھیجنے سمیت دیگر انکشافات کئے تھے تو اس مشکل سے جان چھڑانے کیلئے بھی کپتان نے بشریٰ بی بی کے در پر حاضری دی تھی۔ گزشتہ برس اگست میں جب قومی اسمبلی کااہم اجلاس چل رہا تھا تو عمران خان اس اجلاس کو چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں پاکپتن روانہ ہو گئے تھے۔ عمران خان کے پہنچنے پر بشریٰ بی بی نے انہیں چند وظائف بتائے‘ چند گھنٹے بعد وہ بابا فرید گنج شکرؒ کی درگاہ پر حاضری دے کر واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے تھے۔ عمران خان اپنی پیرنی بشریٰ بی بی کے اصل معتقد اس وقت ہوئے جب انہوں نے 2015ءمیں لودھراں کی نشست این اے 154کے ضمنی الیکشن میں جہانگیرترین کی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی۔ اس سے چند ماہ قبل ہی عون چودھری نے عمران خان کو بشریٰ بی بی سے پہلی بار متعارف کرایا تھا۔ ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی کامیابی سے متعلق بشریٰ بی بی کی پیش گوئی تو درست ثابت ہوگئی لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہی تھیں کہ اس کامیابی کے دو برس بعد نہ صرف ترین کو اس سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے بلکہ وہ انتخابی سیاست کیلئے بھی نااہل ہو جائیں گے۔ 40سالہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کی شادی اسلام آباد میں کسٹم کے ایک اعلیٰ افسر خاور فرید مانیکا کے ساتھ ہوئی تھی جو ایک سابق وفاقی وزیر اور بااثر سیاستدان غلام فرید مانیکا کے بیٹے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا اپنا تعلق وٹو فیملی سے ہے جو مانیکا قبیلے کی ذیلی شاخ ہے۔ بشریٰ بی بی اپنے شوہر خاور فرید مانیکا سے خلع لے چکی ہیں۔ پہلے شوہر سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ بڑے بیٹے ابراہیم کی عمر 20برس کے لگ بھگ ہے جبکہ تین بیٹیوں میں سے ایک معروف سیاستدان میاں عطا مانیکا کی بہو ہے۔ یاد رہے کہ دو برس پہلے عمران خان کی بشریٰ بی بی کی بہن قرار دی جانے والی مریم نامی خاتون سے شادی کی خبر بھی چلی تھی جو برطانیہ میں مقیم ہیں تاہم خود بشریٰ بی بی نے اس شادی کی تردید کر دی تھی۔ کپتان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ہمیشہ روحانی استادوں کے معتقد رہے ہیں۔ وہ فیض حاصل کرنے معروف روحانی شخصیت پروفیسر رقیق اختر کے پاس بھی جاتے رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ایک قریبی ساتھی اعجاز نے ملتان شیخ امین سے بھی ان کا رابطہ کرایا تھا۔ شیخ امین نے عمران خان کو ہر وقت درود شریف پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ رابطہ کرنے پر صحافی عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی شادی سے متعلق اپنی خبر پر وہ قائم ہیں۔ اس حوالے سے اگر انہیں کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی کے لوگوں کا موقف بھی لیا ہے۔ کسی نے اس کی تردید نہیں کی۔ عمر چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ۔” میں نے اس خبر کی تصدیق نکاح پڑھانے والے مفتی سعید سے بھی کرنا چاہی، کیونکہ مفتی سعید جھوٹ نہیں بولتے۔ پہلے تو مفتی صاحب نے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن جب ان سے اصرار کیا گیا کہ وہ یکم جنوری 2018ءکو لاہور میں عمران خان کا نکاح پڑھانے کی تردید یا تصدیق کریں تو انہوں نے تردید اور تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے معذرت چاہی۔ “ عمر چیمہ کے بقول ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان ریحام خان کی طرح بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی سے بھی دوبارہ نکاح کا ڈرامہ رچائیں گے۔ کیونکہ نومبر 2014ءمیں ریحام خان کے ساتھ ان کا نکاح ہو چکا تھا لیکن وہ اس کی تردید کرتے رہے اور پھر جنوری 2015ءمیں دوبارہ نکاح پڑھایا۔عمران خان کی تیسری شادی کی خبر کی تصدیق کے لئے میڈیا نے تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا….” میری ابھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ ملاقات ہو گی تو میں ضرور ان سے پوچھوں گا لیکن یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔“


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved