تازہ تر ین

امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہو گا تو سوسائٹی آگے کیسے چلے گی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کس بات کا استقبال کرنے جا رہے ہیں کیا نواز شریف حج کر کے واپس آ رہے ہیں۔ کیا چند روز پہلے وہ جاتی امراءمیں نہیں تھے، بے شمار اجلاس نہیں کر رہے تھے، کیا ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں تھی۔ ملک کے لوگ سیدھی سی بات سمجھنے کو تیار نہیں، یہاں ہیرو ازم اس حد تک سرائیت کر گئی ہے کہ اگر کوئی کسی کو پسند کرتا ہے ہے اس کے خلاف چارجز ہوں، مقدمہ چلے، سزا ہو جائے جو مرصی ہو وہ ہیرو ہے۔ کسی جگہ پر لائن لگانی ہو گی کہ کہاں سے کس ہیرو کا کس طرح استقبال کرنا ہے۔ باہر عدالتوں کو بند کر دیں اور کہیں کہ انسان خود فیصلے کیا کریں گے۔ جس طرح انقلاب فرانس کے بعد لوگوں کی گردنیں کاٹنے کے لئے گلوٹیز لگا دی گئی تھیں اگر ایسا نظام لانا چاہتے ہیں تو عوام کی مرضی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اسمبلیاں بن جاتیں تو وہاں کسی قانون پر سو دفعہ بحث کریں لیکن جب تک اسانداز حکمرانی کے ساتھ انداز عدل و عدالت موجود ہے تو اس کے تحت ہی چلنا پڑے گا۔ جب اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں موجود تمام ملزموں کے ہاتھ کھڑے کر کے دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا کیونکہ وہ غریب و بے چار تھے، ان کے پاس بڑے وکیل نہیں تھے ان پر لاکھوں، کروڑوں کے الزام نہیں تھے۔ ان کے بیٹے کے ساتھ وزیراعظم کی بیٹی بھی آئی ہوئی تھی ان کو یہ اعزاز حاصل تھا اس لئے انہیں فاتح کی طرح گزارا گیا۔ عوام ایسے نظام عدل پر لعنت بھیجیں۔ میں نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر عدالت سزا دیتی ہے تو کہتے ہیں کہ ان کو کیسے سزا ہو گئی۔ نوازشریف کی والدہ ہماری والدہ سے زیادہ محترم، ان کی اور بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کیلئے دُعا گو ہوں لیکن کیا انصاف کے معیار اب اس طرح سے ہوں گے کہ امیر کے لئے کوئی سزا نہیں، غریب کو پکڑو، جوتے مارو، چھوٹی چوری کرنے والے کو پکڑو، بڑی چوری کرنے والے کی عزت کرو، کیا عوام ایسا نظام چاہتے ہیں؟ اگر اس بنیاد پر بڑے چھوٹے میں تمیز کرنے لگیں گے۔ بڑے لوگوں کو کوئی سزا نہیں اور غریبوں کو پکڑیں گے اور ایسا نظام لانا ہے تو پھر پروردگار کا بھی نظام ہے وہ ایسے نظام کو تباہ و برباد کر دے گا۔ امیر و غریب کیلئے ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ نوازشریف گناہ گار ہیں یا بے گناہ لیکن یہ معلوم ہے کہ اگر یہی الزام کسی غریب پر ہوتا تو اس کا تھانے میں کیا حشر ہوتا۔ یلوں میں دیکھا ہے کہ بڑے لوگوں کے لئے پی سی ہوٹل سے کھانا آتا تھا، ان کے کمروں میں کارپٹ بچھے ہوتے اور ٹی وی لگا ہوتا تھا اس زمانے میں صرف پی ٹی وی ہوتا تھا۔ ملزم امیر ہے تو جیل میں ٹی وی بھی ہوتا ہے، زیادہ امیر ہو تو اس کے گھر کو سب جیل رار دے دیا جاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ امیر ہو تو سہالہ جیل میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ غریب ہوں تو ایک کمرے میں 40 افراد ٹھونس دیئے جاتے ہیں، میں اس نظام کے خلاف بات کر رہا ہوں کسی فرد کے خلاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا لوٹ کھسوٹ دیکھی، آئندہ بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رہنے دیں تا کہ پتہ چلے کہ قائداعظمؒ کے پاکستان میں ہم نے نیشے رہنا تھا اور بڑے لوگوں نے راج کرنے تھے۔ ملک میں 50,40 سال سے قانون رائج ہے، 63 سال کی عمر میں اے ایس آئی، تحدیلدار تعینات کئے گئے۔ ملک کو مذاق بنا دیا، سرکاری نوکریاں حکومتی نمائندوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ سرکاری ملازمتوں پر پابندی لگی رہتی ہے، جب ایک دو دن کے لئے کھلتی ہے تو پہلے سے تیار شدہ فائلوں کی تقرریاں ہو جاتی ہیں اور پھر پابندی لگ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعد رفیق وہ شخص ہے جس کے بارے میں پرویز الٰةی نے مجھے خود بتایا کہ یہ ہمارا بندہ ہے۔ داد دیں نظام عدل و سیاست کی کہ ایک بھائی حکومت میں ہے قاف لیگ کا ایم پی اے ہے جو پیرا گون سٹی کا مالک ہے۔ اس کا 50 فیصد حصے دار سعد رفیق ہے۔ پیرا گون سٹی میں قیصر امین بٹ اور سعد رفیق ففٹی ففٹی حصے دار ہیں۔ سعد رفیق سیاست میں نوازشریف کے ساتھ اور ق لیگ کے خلاف جبکہ اندر سے دونوں ایک ہیں۔ ملک کو لوٹا گیا، ایک ایک گلی، کالونی کو لوٹا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اپنے بدعنوانوں کو بھی پکڑ رہی ہے لیکن اس کا بھی جائزہ لے کر کتنے جنرل (ر) ہونے کے بعد کتنی سوسائٹیوں کے چیئرمین بنے، فوج سے ریٹائرڈ ہوتے ہی ان میں کیا خوبی پیدا ہو جاتی ہے۔ سارا ریکارڈ موجود ہے۔نگران وزیر داخلہ شوکت جاوید نے کہا ہے کہ کوئی راستہ بند کیا نہ ہی ارادہ ہے۔ ریلی یا جلسہ کے لئے الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق موجود ہے اگر لیگی رہنما اجازت حاصل کر لیں گے تو ٹھیک ورنہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لیگی رہنماﺅں کے خلاف کوئی کریک ڈاﺅن نہیں ہو رہا، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا پتہ چلنے پر ایکشن لیا جاتا ہے۔ بدھ کی رات تھوڑا زیادہ ایکشن ہو گیا جس کو کریک ڈاﺅن بنا دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک مہینے سے معمول ہے، پتہ چلنے پر ایکشن لیا جا رہا ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved