تازہ تر ین

بگ ڈیٹا: کمپیوٹر الگورتھم سے بیک وقت پانچ امراض کی نشاندہی

میسا چوسٹس(ویب ڈیسک) امریکی سائنس دانوں نے ”بگ ڈیٹا“ کےلیے ایک نئے کمپیوٹر الگورتھم کی مدد سے لاکھوں انسانی جینوم کا تجزیہ کرنے کے بعد ایسے جینیاتی اشاروں کی نشاندہی کی ہے جو بیک وقت پانچ بیماریوں سے خبردار کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ”بگ ڈیٹا“ (Big Data) کمپیوٹر سائنس کا ایک ابھرتا ہوا میدان ہے جس میں مختلف حسابی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نہایت کم وقت میں بہت بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے؛ جبکہ یہ ڈیٹا اسٹاک مارکیٹ سے لے کر میڈیکل تک، کسی بھی شعبے کا ہوسکتا ہے۔سائنسی مجلے میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں میساچیوسیٹس جنرل ہاسپٹل، ہارورڈ میڈیکل اسکول اور دوسرے تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین نے بتایا ہے کہ ابتدائی آزمائشوں میں ان کے وضع کردہ الگورتھم نے جینیاتی (جنیٹک) ڈیٹا کھنگال کر مختلف افراد میں جن امراض کے خدشے کی نشاندہی کی ان میں ذیابیطس، دل کی شریانوں کی بیماری، چھاتی کے کینسر، معدے و آنتوں کی سوزش اور دل کی دھڑکنوں کی بیماری کی تشخیص کی جاسکے گی۔یہ تحقیق اس لیے اہم قرار دی جارہی ہے کیونکہ اس میں ایسے چار لاکھ افراد کے جینوم کھنگالے گئے جن کا تعلق الگ الگ نسلوں سے ہے۔ اب تک ایسا کوئی کمپیوٹیشنل الگورتھم موجود نہیں تھا جو مختلف النسل لوگوں کے جینوم کا جامع تجزیہ کرکے بہتر نتیجہ اخذ کرسکے۔ ان تمام افراد کا انفرادی جینیاتی ڈیٹا ”بایوبینک“ میں محفوظ ہے جسے کھنگالنے کےلیے انہوں نے خصوصی ’پولی جینک رسک اسکور الگورتھم‘ وضع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں جب اس الگورتھم کو اس جینیاتی ڈیٹا پر آزمایا گیا تو پانچ امراض کی نشاندہی ہوگئی۔اگلے مرحلے پر اس الگورتھم کو اور بہتر بنایا جائے گا تاکہ اس کی کارکردگی اور رفتار میں اضافہ ہو، اور یہ امراض کی جینیاتی تشخیص کو روزمرہ علاج کی طرح ممکن بناسکے کیونکہ اب تک یہ کام بہت مہنگا ہے اور صرف ایک مرض کی جینیاتی تشخیص کےلیے لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved