تازہ تر ین

”ابھی آئیں ابھی لے جائیں “بیویاں کرائے پر حاصل کرنے والوں کیلئے خوشخبری ”لوٹ سیل لگ گئی “

ممبئی (ویب ڈیسک )کیا اس سے بڑا ظلم ہوسکتاہے کہ ایک عورت شادی کے بعد ایک خوبصورت زندگی کے خواب سجاتے ہوئے شوہر کے گھر جاتی ہے، چند برسوں بعد اسے کرائے پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کردیاجاتاہے اور ایسا ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں ہوتاہے جہاں پر کرائے پر بیوی دی جاتی ہے۔نجی ویب سائیڈپر ایک تحریر شائع کی گئی ہے جس کے مطابق بھارت میں ” کرائے پر بیوی دستیاب ہے“ کے بینر تلے میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک گاوں میں امیر اور ”اونچی“ ذات کے لوگوں کو خواتین ” بطور بیوی“ کرائے پر دی جاتی ہیں، چاہے وہ ایک ماہ کے لئے کرائے پر دی جائیں یا ایک سال کے لئے۔عورت کرائے پر دینے کے لیے شیوپوری جو مدھیہ پردیش کا ضلع ہے، میں باقاعدہ ایک معاہدہ طے کیا جاتا ہے، یہ معاہدہ 10 روپے سے100روپے تک کے اسٹامپ پیپر پر کیا جاتا ہے، جس میں عورت کو کرائے پر رکھنے کی شرائط طے کی جاتی ہیں۔بعض مرد خواتین کا تبادلہ بھی کرلیتے ہیں، اس کے لئے یہاں باقاعدہ ایک بازار لگتا ہے جہاں لڑکیوں کو گاہکوں کے سامنے پیش کیاجاتاہے، وہ گھنٹوں تک کھڑی رہتی ہیں، گاہک آتے ہیں، عورتوں کا ایسا جائزہ لیتے ہیں جیسے وہ کوئی مویشی ہوں۔ جس مرد کو جو لڑکی پسند آتی ہے اس کا بھیڑ بکریوں کی طرح بھاو¿ طے کیا جاتا ہے، نتیجتاً وہ لڑکی یا خاتون کرائے کی بیوی کے طور پر چلی جاتی ہے۔ معاہدہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ خاتون ایک بار پھر کرائے کے لئے دستیاب ہوتی ہے۔بھارت میں یہ گھناو¿نا کاروبار صرف مدھیہ پردیش تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں بھی لوگ بیویاں کرائے پر دیتے ہیں۔گجرات کے ایک گاو¿ں میں نچلی ذات کے ایک شخص ”پراجپاتی“ نے اپنی بیوی لکشمی کو ماہانہ کرایہ پر ایک زمیندار کو دے رکھا ہے، زمیندار بھولبھائی پیٹل کا تعلق شمالی گجرات کے ایک گاو¿ں سے ہے، لکشمی کی عمر32 سال ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔اس کا تعلق ریاست گجرات کے ضلع بھرچ کے گاوں نیترنگ سے ہے،جہاں یہ دونوں میاں بیوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔غربت کی وجہ سے ان کے حالات بہت خراب تھے، اس دوران ان کے گھر گاوں کی تین خواتین سمن وساوا، کیسری وساوا اور رنجن وساوا آئیں۔انہوں نے دونوں میاں بیوی سے کہا کہ اگر لکشمی بھولبھائی پیٹل سے معاہدہ کے تحت شادی کر لے تو آپ لوگوں کی قسمت بدل جائے گی اور وہ ہر ماہ 8 ہزار روپے ادا کیا کرے گا، یہ پیش کش سن کر لکشمی کے شوہر کے باچھیں کھل اٹھیںکیونکہ اسے دس ماہانہ تنخواہوں کے برابر پیسے مل رہے تھے۔ آخر کار اس زمیندار بھولبھائی پیٹل کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کی رو سے لکشمی بھولبھائی پیٹل کے ساتھ نہ صرف شریک بستر رہے گی بلکہ گھر کی تمام ذمہ داری بہ طور بیوی سنبھالے گی، جبکہ اسے پیٹل خاندان کے سارے افراد کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔لکشمی زمیندار کے ساتھ خوش رہنے لگی، کچھ عرصہ بعد وہی تینوں خواتین(جن کی وجہ سے وہ یہاں آئے تھی) لکشمی کے پاس گئیں اور اسے اپنے گاو¿ں نیترنگ آنے کے لیے مجبور کرنے لگیں لیکن لکشمی نے اپنے گاوں واپس آنے سے انکار کردیا۔ تاہم کسی نہ کسی طرح سے لکشمی کو مجبور کرکے واپس گھر لایا گیا، وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی بلکہ وہ بھولبھائی پیٹل کے ساتھ زندگی کو بہتر سمجھنے لگی تھی۔اس نے واپس جانے کی متعدد بار کوشش بھی کی، اسے روکنے کے لیے پراجپاتی نے پولیس کی مدد بھی حاصل کی مگر ان کے آپس میں طے پائے گئے معاہدے کی وجہ سے پولیس نے پراجپاتی سے معذرت کر لی۔ نتیجتاً پراجپاتی اس بات پر راضی ہوگیا کہ اگر لکشمی واپس جانا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کے لیے بھولبھائی پیٹل کو ہمارے خاندان کے لیے ماہانہ پیسے بھیجنا ہوں گے۔ شاید اس کی ساری کوشش ہی بھولبھائی لکشمی سے نئی ڈیل کرنے سے متعلق تھی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved