تازہ تر ین

طرح طرح کے میں دل کو جواب دیتا ہوں

حیات عبداللہ……..انگارے
اقتدار کی پوپھٹتے ہی توقعات اور امیدوں کا ایک بے محابا ہجوم امڈ پڑتا ہے، حکمرانی کی بہار مقدر ٹھہر جائے تو پھر اعتبار کے مجروح موسموں پر بھی نکھار اور پیار آ ہی جاتا ہے، پھر سارے خواب کسی گلاب کی مانند مہکنے اور سحاب کی طرح چھم چھم برسنے لگتے ہیں، پھر طویل سراب اور عذاب میں مبتلا لوگ بھی اپنی ساری صعوبتیں ختم ہونے کی خواہشوں کے دیپ جلا بیٹھتے ہیں اور اگر اقتدار پر عمران خان جیسا جہد مسلسل کا خوگر ایسا شخص فائز ہو گیا ہو جس نے جدی پشتی اقتدار پر قابض لوگوں کو ناکام و نامراد کیا ہو جو خاندانی بادشاہت کو ختم کر کے آیا ہو تو آس اور امید کی لو مزید بھڑک جایا کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں موروثیت کا خاتمہ کوئی معمولی بات نہ تھی، اس کے لئے عمران خان نے کیسے کیسے طوفانوں سے جنگ لڑی، بائیس سال کس طرح صبر آزما سازشوں کو دونوں شانے چت کرنے میں کھپا دیئے اور کس طرح حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ایک شخص نے ایک روایتی سیاسی تہذیب کی تکذیب کر کے اقتدار کے رنگ ڈھنگ بدل ڈالے یہ تاریخ میں سنہرے حروف میں مرقوم رہے گا۔
مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد جو انقلابی اقدام کیے میں ان کا بھی تہ دل سے معترف ہوں۔ سادگی، اخراجات میں کمی اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری بھی لائق تحسین ہے، ایک کروڑ ملازمتوں کی نوید اور شجر کاری مہم کو بھی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اقربا پروری کے لئے قائم صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ بھی قابل توقیر ہے۔ بیرون ملک سے لوٹی ہوئی رقوم واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس بنانا بھی ایک خوش گوار جھونکا ہے۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو نوکری سے برطرف نہ کرنا بھی قابل تکریم اور تحسین آفریں ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس کی سرکاری گاڑیوں کی نیلامی بھی قابل دید فعل ہے۔ پانی کی کمی کو بھانپ کر ڈیمز کی تعمیر کیلئے تگ و تاز اور چندہ مہم بھی ہمارے دلوں کی آواز اور اس وقت عمران خان کی سب سے اہم پیش رفت ہے۔ میں عمران خان کو ایک محب وطن سیاسی قائد سمجھتا ہوں کہ وہ ملک و قوم کے لئے کچھ کرنے کے جنون میں مبتلا ہے مگر ہمارے درد کو یہ بدحواس کون کر رہا ہے؟ ہمارے زخموں کو کس نے دوبارہ رسنے اورہرا ہونے پر مجبور کر دیا ہے؟ ختم نبوت کے متعلق لوگوں کے وسوسوں اور خدشات کو کون یقین کی راہ دکھا کر ملک میں خرخشوں کو جنم دینے پر تلا بیٹھا ہے۔ مجھے آسودہ رتوں میں سے اٹھنے والے یہ فرسودہ تیور بالکل نہیں بھا رہے کہ جنہوں نے قادیانیت کے راستے ہموار کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں قادیانیت کی راہیں بڑی محدود اور مسدود ہیں، بات صرف عاطف میاں کے اکنامک ایڈوائزر مقرر کرنے سے لے کر معطل کرنے پر منتج نہیں ہوتی بلکہ اس پر معترض لوگوں کو فواد چودھری کا انتہا پسند قرار دینا، انتہائی نامناسب بات ہے، قادیانیت کی ہوائیں یکدم یوں چلی ہیں کہ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے مرزائیوں کے پروگرام کو کوریج دی اور ان کو مسلمان ظاہر کیا۔ شیریں مزاری نے یہ تلخ نوائی کی کہ ”ہم اقلیتوں سے ناانصافی کرنے والے قوانین کو آئینی ترمیم کے تحت ختم کر دیں گے“۔ اسلام اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے سو اسلام میں ان کے حقوق پہلے سے مقرر ہیں۔ ایک معروف اینکر نے کہا کہ ”اب وقت آ گیا ہے کہ آئین تبدیل کیا جائے اور غیر مسلموں کو بڑے بڑے عہدوں پر تعینات ہونے کی اجازت دی جائے“۔ آج ان حالات میں جو بھی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، اس کی مراد ہندو اور عیسائی ہرگز نہیں بلکہ وہ اقلیت کے لفظ کے ذریعے قادیانیوں کو تحفظ دینا چاہتا ہے، ورنہ آج تک پاکستان میں اقلیتوں کے کون سے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے؟ ساری دنیا میں اقلیتوں کو سب سے زیادہ حقوق پاکستان میں حاصل ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ عمران خان میرٹ پر چیزوں کو پرکھنے کا قائل ہے اور میرٹ میں مذہب، سیاست، عقائد، نظریات، مسلکی اختلافات اور امتیازات حائل نہیں ہوتے مگر قادیانیوں کا مسئلہ اقلیت اور غیر مسلم کے الفاظ تک محدود نہیں بلکہ یہ تو ارتداد کا معاملہ ہے۔ قادیانی اپنے آپ کو اقلیت مانتے ہی کب ہیں؟ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم ہی نہیں کرتے، قادیانی تو پاکستان کے آئین کو بھی تسلیم نہیں کرتے، پاکستان کے آئین کے تحت تو وہ غیر مسلم ہیں ۔ سو قادیانیوں کا معاملہ ہندو اور عیسائی اقلیت سے ہٹ کر ہے، وہ تو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔
غالب گمان یہی ہے کہ عمران خان کے متعلق الیکشن سے قبل کے ”قادیانیت نواز“ پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر قادیانیت نے سر اٹھا لیا ہو، ارتداد کی راہیں اختیار کرنے کے باعث پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کے متعلق سخت بندشیں اور قدغنیں موجود ہیں۔ یہ پاکستان میں مسجد نہیں بنا سکتے، یہ اشتہارات شائع نہیں کروا سکتے۔ عمران خان ختم نبوت کے متعلق اپنا دو ٹوک نظریہ اور عقیدہ پیش کرچکے ہیں پھر یہ قادیانیت اچانک اپنے بلوں سے باہر کیوں نکل آئی ہے؟ آج اچانک ہی قادیانیوں کے حقوق کا دفاع کرنے والے سیاستدان عقل کے ناخن لیں، طرح طرح کے وسوسے میرے دل میں سر اٹھائے کھڑے ہیں، سوالات کا ہجوم میرے دماغ میں سینہ تان کر کھڑا ہے، منفرد لہجے کے شاعر افتخار شاہد نے کیا خوب کہا ہے:
طرح طرح کے میں دل کو جواب دیتا ہوں
طرح طرح کے یہ مجھ سے سوال کرتا ہے
(کالم نگارقومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved