تازہ تر ین

عدالتیں نواز شریف ، مریم نواز کو بیگم بیگم کلثوم کی تدفین کیلئے پورا وقت دیں : ضیا شاہد ، دلیر خاتون ، وفا شعار بیوی ، شفیق ماں ، درد دل رکھنے والی پاکستانی تھیں : تہمینہ دولتانہ کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں آیا ہے اس نے ایک نہ ایک دن اس دنیا فانی سے جانا ہے لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے جانے کے ذکر پر انسان آبدیدہ ہو جاتا ہے۔ نوازشریف صاحب سے مجھے بڑی خوش فہمی رہی ہے کہ میری ان سے بہت دوستی رہی ہے۔ ان کی بیگم کلثوم نواز بہت ہی شریف النفس، بہت مہذب، صاف گو اور بہت اچھی صفات کی خاتون تھیں۔ وہ لاہور کے ایک معروف گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ گاما پہلوان رستم ہند کے خاندان سے ان کا تعلق تھا لیکن ان کے والد ڈاکٹر عبدالحفیظ میں ان کے گھر پر بھی گیا ہوں بلکہ جب انہوں نے شمالی لاہور میں بہت بارشیں ہوئی تھیں تو ان کے آبائی گھر میں پانی بھر گیا تھا۔ ہم باقاعدہ پانی میں سے چلتے ہوئے ان کے گھر پہنچے اور اپنے دور میں وہ بہت اچھے ڈاکٹر تھے۔ اچھا خوشحال کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بہت اچھے طریقے سے تعلیم دلوائی لیکن میں پہلے ہی ایک بار ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کے لئے تھیسز سب مٹ کیا اور ہمارے دوست پروفیسر حسن رضوی جن کی ایک مشہور غزل تھی۔ نورجہاں نے گائی تھی۔ کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا۔ یہ ان کی غزل تھی۔ حسن رضوی اور عطاءالحق قاسمی ایک ہی بیج میں تھے۔ یہ دونوں مجھ سے ایک سال پیچھے تھے۔ ایم اے اُردو کیا انہوں نے حسن رضوی ان کے ایگزامینر تھے اور پی ایچ ڈی کے سچی بات یہ ہے جتنا کوئی مبالغہ کرے اتنی نفیس طبع اور اتنی شفیق ملن ساز لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز جو ہاﺅس وائف خواتین تو آپ پاک بھارت میں مل جائیں گی۔ جو ان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ایک ایسی خاتون جو ہاﺅس وائف تھیں تعلیمی بیک گراﺅنڈ بھی تھا جب سیاست میں آتی ہیں تو کتنا بڑا مقام پاتی ہیں جب پرویز مشرف کے دور میں سارا خاندان سعودی عرب شفٹ ہو گیا اور پھر اس دوران میں ایک مرتبہ یہاں آئیں بھی تو بھی جس طریقے سے ان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا حکومتوں کا جو ہوتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دن شور مچ گیا تھا لاہور میں کہ نہر کے پل سے لے کر جیل روڈ کے پل تک درمیان میں سے ان کی کار آ رہی تھی اور میری منہ بولی بہن تہمینہ دولتانہ وہ بہت زیادہ ان کی مصاحبت میں رہتی تھیں۔ ویسے بھی دونوں خواتین تھیں اور بہت زیادہ خاتون کے لئے ویسے بھی ساتھ رہنا قدرتی بات ہوتی ہے تو ان کی گاڑی کو روک کر پرویز مشرف کے دور میں پولیس نے اور ان کی گاڑی کو جب روکا گاڑی کے نیچے جیک لگا کر ان کو اٹھا لیا۔ گاڑی کے دونوں پہلے اوپر کھڑے کر دیئے۔ تصویریں سب اخبارات میں آئی تھیں۔ وہ دونوں خواتین ایک ایسی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر معلق تھیں اتر بھی نہیں سکتی تھیں اور کئی گھنٹے وہ اسی حالت میں رہیں وہ بہت بہادر خاتون تھیں اور سچی بات یہ ہے کہ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں تھی ان کی زندگی نہیں رہی وگرنہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی نوازشریف کا جانشین تھا تب ہو سکتا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف سے کہیں بہتر بہادری، مستقل مزاجی سے آگے بڑھ سکتی تھیں۔ تہمینہ دولتانہ کے ساتھ انہوں نے کئی مہینے زبردست جدوجہد کے ساتھ بڑی بہادری کے ساتھ گزارے۔ تہمینہ صاحبہ! میں بہن کلثوم نواز کی بات کر رہا تھا اور آپ ہی کا ذکر کر رہا تھا۔ اس دن کا تذکرہ کر رہا تھا جس دن نہر پر آپ کی گاڑی روک کر اس کے دونوں پہیے ہوا میں بلند کر دیئے تھے۔ سارا دن سارا ملک دیکھ رہا تھا۔ میں کہہ رہا تھا کہ کلثوم نواز اس قدر بہادر تھیں کہ ذرا برابر خوف میں نہیں تھیں۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ نوازشریف کے دور میں بھی اور عدم موجودگی میں بھی اتنی بہادری سے جنگ لڑی ہے پرویز مشرف جیسے ایک فوجی آمر کے ساتھ اس کا جواب نہیں ہے۔ آپ کا تو دن رات سفر ان کے ساتھ رہا اور آپ نے بہت وقت ان کے ساتھ گزارا تو جی چاہتا تھا کہ آپ سے کچھ باتیں سنوں اپنی بہن کی۔ آپ کو یاد ہے کہ میرے نوازشریف سے بڑے دوستانہ مراسم رہے لیکن ان کی بیگم صاحبہ سے میں بہت زیادہ عقیدت، محبت اور عزت کرتا تھا وہ میری بہنوں کی طرح تھیں اور میں نے ہمیشہ رہنمائی سمیت اور حوصلے کے ساتھ مشکل سے مشکل حالات میں جنگ لڑتے دیکھا۔ میں چاہوں گا کہ آپ کی زبانی کلثوم بہن کے بارے میں کچھ واقعات سنوں۔ کیونکہ آپ تو ان کے دن رات کا ساتھ رہا۔ خاص طور پر جب وہ نوازشریف صاحب کی عدم موجودگی میں فوجی آمر کے ساتھ جنگ لڑ رہی تھیں۔
کلثوم نواز کی دست راست تہمینہ دولتانہ نے کہا ہے کہ میرا ان کا بڑا ساتھ رہا۔ میں نے ان جیسی بہادر خاتون کبھی نہیں دیکھی۔ وہ اپنے ملک، پارٹی، خاوند کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھیں۔ گھریلو خاتون تھیں ہم چاغی کا سفر کرتے ہوئے لاٹھی کھاتے ہوئے چاغی پہنچے انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ یہ کوئی مشکل سفر تھا اور ان کی محبت کو دیکھتے ہوئے ہم سارے محسوس کرتے تھے کہ ہر مشکل آسان ہوتی جا رہی ہے۔ آج یقین جانیں دل رو رہا ہے پیار، محبت اپنا پن تھا کہ ہر بات ان سے کر لیتے تھے۔ خاص طور پر پرویز مشرف دور میں ان کا خیال تھا میں نے آمر کی لڑائی سے میاں نوازشریف کو نکالنا ہے۔ نوازشریف تین بار وزیراعظم بنے مگر کلثوم نواز میں خاتون اول والی کوئی بات نہیں تھی۔ آخر میں ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ ان کو زہر بھی دیا جا رہا ہے۔ اور ان کو جب ملک بدر کیا گیا آخری دنوں میں جب آکسیجن لے رہی تھیں ان کی آنکھوں سے کوئی آنسو نہیں گرا۔ میں نے ایسی خاتون کبھی نہیں دیکھی جس کا خاوند بھی اندر اور اپنا بیٹا بھی جیل کے اندر اور ان کو ہر طرح کی مشکلات مگر انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے آج نکلنا ہے جی ٹی روڈ پر جب ان کی گاڑی کو اٹھایا گیا تھا۔ ہم جب ماڈل ٹاﺅن سے نکلے وہاں ہمیں نہر کے ساتھ روکا گیا کرین سے اٹھا کر میرا خیال ہے گیارہ گھنٹے گاڑی میں بند رکھا۔ ہمیں کچھ بھی کھانے پینے کیلئے نہیں دیا گیا۔ دیا بھی گیا تو ہم نے نہیں کھایا کہ پتہ نہیں اس میں کیا کچھ ملایا گیا ہو گا۔ اس کے بعد 12 گھنٹے بعد ہمیں ماڈل ٹاﺅن بھیجا گیا۔ بہادر عورت، بہادر بیوی، بہادر ماں ہم سے بچھڑ گئی اللہ ان کو جنت میں جگہ دے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تمام سہولتیں دینے کے لئے کہا ہے انہیں یہی کہنا چاہئے تھا سیاسی اختلافات اپنی جگہ، قانون کی مجبوریاں بھی اپنی جگہ رہتی ہیں، پابندیاں بھی اپنی جگہ رہتی ہیں لیکن زندگی اور موت کا فاصلہ ایک ایسا فاصلہ ہے کہ جو اس فاصلہ کو عبور کر جائے اور جو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں چلے جائیں تو پھر درمیان میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ جتنے الفاظ میں نے استعمال کیے ہیں کلثوم نواز تو اس سے کہیں زیادہ نفیس خاتون تھیں۔ چھوٹوں سے، کارکنوں سے ، خواتین سے خاص محبت کرنے والی اور مشکل میں ان کا ساتھ دینے والی، لیکن زندگی کے سفر کا اختتام اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔
اگر میں فیصلہ کرنے والا ہوتا یا مشورہ دینے والا ہوتا تو عدالت کو بھی یہ کہتا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا جائے کہ وہ بیگم کلثوم کی تجہیز و تکفین کر سکیں۔ پیرول پر رہائی کا وقت عدالت پر منحصر ہے، عدالت کو چاہئیے کہ زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچائے۔ وہ کہاںچلے جائیں گے؟ محمد نواز شریف کا ایک نام ہے ، تین مرتبہ سابق وزیراعظم اور دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہے ہیں وہ کہاں بھاگ جائیں گے؟ انہوں نے کہاں جانا ہے۔ انہیں پورے اطمینان سے تجہیزوتکفین کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ جس وقت عدالت کہے گی وہ خود دروازہ کھول کر کہیں گے کہ میں حاضر ہوگیا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ نواز شریف کے بیٹے پاکستان نہ آئیں۔ اگر وہ یہاں آتے ہیں تو قانون ان کو واپس نہیں جانے دیگا، لہٰذا شاید وہ واپس نہ آئیں، مگر ان کی صاحبزادی اور شوہر نواز شریف کو ہر ممکن سہولتیں دینی چاہئیں۔ ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، کون سا قانون، کونسی عدالت، کوئی عدالت ایسی نہیں ہے جو اس راستے میں دیوار بنے۔ نواز شریف کہیں نہیں جاتے وہ اپنی مرضی سے آئے تھے اور خود کو پیش کیا تھا، عدالتیں چلتی رہتی ہیں، لیکن ایک شخص جسکی زندگی کا ساتھی اس سے الگ ہو کر دوسری دنیا میں چلا گیا ہو اسکو یہ حق ہونا چاہئے کہ وہ اسے اپنے صوابدید کے مطابق آخری رسوم ادا کر سکے۔
پروگرام میں لندن سے ٹیلی فونک گفتگو میں شریک بیورو چیف لندن وجاہت علی خان نے ضیا شاہد کے سوال پر کہ کلثوم نواز کی صحت کی بہتری کی خبروں کے بعد اچانک ان کی حالت کیسے بگڑ گئی؟ کہاکہ کلثوم نواز ایک سال سے ہسپتال میں زیر علاج تھیں، گذشتہ تین چار دن پہلے حسن نواز نے ہمارے کسی ساتھی سے کہا کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے بس دعا کریں۔ سب جانتے تھے کہ انکی حالت کیا تھی وینٹیلیٹر پر مصنوعی تنفس کے ذریعے وہ سانسیں لے رہی تھیں۔ آج صبح پہلے حسن نواز نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے اور پھر اچانک کہا کہ انکا انتقال ہو گیا۔ ان کی میت لندن کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے۔ او ر شہباز شریف کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ کل لندن پہنچ جائیں تو ریجنٹ پارک مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائیگی اور میت جمعرات کی شام پاکستان روانہ کر دی جائے گی۔ برطانیہ میں ن لیگی رہنما جوق در جوق ہسپتال کے باہر جمع ہیں اور گھر کے باہر تعزیت کے لیے آرہے ہیں۔ حسن نواز اور حسین نواز بالکل پاکستان نہیں آئیں گے لیکن نواز شریف کی بیٹی جو اسحاق ڈار کی بہو ہیں، وہ انکے نواسے اور پوتے میت کے ساتھ پاکستان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کی آمد کے بعد ہی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بارے میں فیصلہ ہوگاکہ لندن میں کیا جائیگا یا نہیں۔
ضیا شاہد نے ڈیم فنڈز کو بھیک کے مترادف قرار دینے والوں کے حوالے سے کہا کہ ایسی نازیبا گفتگو نہیں کرنی چاہئیے، یہ ایک قومی نوعیت کا پراجیکٹ ہے اور پوری قوم اس کے لیے خلوص دل سے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا، بہت ساری جگہوں سے کم معاوضہ پر ڈیم بنانے کے حوالے سے کام کرنے کی پیشکشیں ملیں گی ۔ہم کم سے کم اخراجات میں بہتر ریزرو رکھتے ہوئے یہ منصوبہ مکمل کریں گے۔کوئی ملک، معاشرہ اپنے لیے کیوں نہیں قومی پراجیکٹ بنا سکتا، ہونا ہی یہی چاہئے کہ ان جذبات کے تحت ملک کے بڑے بڑے پراجیکٹ مکمل کیے جائیں، جس میں ہمارا خون اور پسینہ شامل ہو۔ مجھے اتنی خوشی ہوئی جب یہ خبر سننے کے ملی کہ آرمی چیف فوجیوں سپاہیوں، اہلکاروںکے ماہوار معاوضہ میں سے رقم لیکر ڈیم فنڈز کے لیے چیک لیکر جا رہے ہیں۔ یہ تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ہمارا اپنا خون پسینہ ڈیم منصوبے میں شامل ہے۔ پتا نہیں کون بے وقوف لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کو ٹھیکے پر دے دینا چاہئے۔ ٹھیکے کا لفظ ہی بہت ظالمانہ لفظ ہے، اگر ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے، محنت تو ہے، بازووں میں جان تو ہے کہ ہم اپنے معاوضے پر یہ کام کرنے کو تیار ہیں۔
نیب چیئرمین کے موٹرسائیکل چلانے والے کے دوبئی میں ٹاور کیسے بن گئے کے بیان پر ضیا شاہد نے کہا کہ دن ایسا ہے کلثوم نواز کے انتقال کے دن کوئی بھی بات ایسے لوگوں کے بارے میں نہیں کرنا چاہتا جن کا تعلق کلثوم نواز سے بنتا ہے۔ انسان جائز، ناجائز طریقے سے دولت کے انبار لگاتا ہے، اونچی عمارتیں بناتا ہے۔ یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ جو آج یہاں سے چلے گئے وہ کیا لے گئے۔ لے کر گئے تو اچھی یادیں، ہمارے دلوں میں جو ان کے لیے عزت و احترام ہے وہی اثاثہ اور سرمایہ ہے جو وہ دوسری دنیا میں لے گئے۔ گھر ، فلیٹ، بلڈنگز، آف شورکمپنیاں، غیر ملکی اکاﺅنٹس، چھوٹے بڑے ملکو ں میں زمین کی رجسٹریاں کیا کر نی ہیں ، کہاں لیکر جانی ہیں؟ یہاں سے ایسے ہی جانا ہے۔ المیہ یہ ہوتا ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں پہچانتے کہ سب یہیں رہ جانا ہے۔ آدمی جاتا ہے تو بس اتنی متاع ہے کہ کفن میں ،کپڑے میں جسم کو لپیٹ کر اتنی تھوڑی ساری جگہ پر رکھا جا سکے ، جس کے اوپر بھی تھوڑی دیر بعد مٹی آجاتی ہے۔ اور وہ اوپر سے پہچانا نہیں جاتا کہ یہاں کچھ اندر تھا بھی یا نہیں تھا۔ گزشتہ دنوں میانی صاحب قبرستان میں ہوا کہ پختہ قبریں بنانے کیوجہ سے مزید قبروں کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ اس حوالے سے پچھلے دنوں آرڈر آیا ہے کہ پختہ قبریں بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔ میرے بڑے بھائی ڈاکٹر مزمل صاحب جنت البقیع میں دفن تھے، ان کا انتقال وہیں ہوا تھا۔ ہم نے مسجد نبوی میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر جنت البقیع لے گئے۔ جنت البقیع میں قطعی طور پر کنسٹرکشن نہیں کرنے دیتے اورچند سالوں کے بعد قبروں پر ہل چلا کر برابر کر دیا جاتا ہے کہ نئے سرے سے دفنایا جاسکے۔ بس یہی انسان ہے۔
پروگرام میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ٹیلی فونک گفتگو میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق خاتون اول کے انتقال پر مجھے دلی صدمہ ہوا ہے۔ بیگم صاحبہ کی جمہوریت، آئین کی پاسداری، اداروں اور مشرف کے خلاف لانگ مارچ کے حوالے سے گراں قدر خدمات ہیں۔ بطور صدر مسلم لیگ ن انکی پارٹی کو یکجا رکھنے کے لیے خدمات بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں ۔ آج میں اور میرا خاندان انکے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جواررحمت میں جگہ عطافرمائیں۔ مجھے احساس ہے، میں بھی اڈیالہ جیل میں تھا، آج نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز جیل میں ہیں اور مریم نواز کی والدہ کا انتقال ہوا ہے۔ میں جب جیل میں تھا تو میری والدہ کا بھی انتقال ہوا تھا اور پیرول پر مجھے آنے کی اجازت دی گئی۔ توقع کروں گا کہ انہیں بھی کلثوم نواز کی تجہیز و تکفین کے تمام تر مواقع اور سہولتیں دی جائیں تاکہ ان کے سانحے کے دکھ میں کچھ کمی آسکے۔ انہیں فی الفور پیرول پر رہا ہونا چاہئے۔
ضیا شاہد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دوبارہ زور دیا کہ شریف خاندان کوجتنا زیادہ ممکن ہو سکے سہولت دی جائے اور یکسوئی کے ساتھ فرائض ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ نواز شریف ذاتی طور پر زبردست انسان ہیں یقین ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے بعد وہ خود دروازہ کھولیں گے اور کہیں گے کہ چلیں، مجھے جہاں لیکر چلنا ہے لے چلیں۔ خوشی ہوئی کہ عمران خان نے خود فون کر کے کہا ہے کہ تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
پروگرام میں سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے نواز شریف اور مریم نواز کی پیرول پر رہائی کے قانونی حوالوں سے متعلق ضیا شاہد کے سوال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستیں قانون اور آئین کی بنیاد پر ہیں اور یہی اخلاقیات کی بنیاد ہوتی ہیں۔ جس آئین اور قانون میں انسانیت کی بنیاد اور اخلاقیات نہیں ، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ نواز شریف کے خاندان پر جو وقت گزر رہاہے اور جن فیصلوں پر انہیں جیل میں ڈالا گیا ہے ان فیصلوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے، انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ بیگم کلثوم کی رحلت شریف خاندان پر غم کی اندوہناک گھڑی ہے۔ اس گھڑی میں کوئی ریاست یا حکمران ان پر احسان یا کرم نوازی نہیں کریں گے۔ اس ملک میں قانون ہے کہ کوئی ہائی پروفائل قیدی ایسے حالات میں پیرول کے ذریعے ہفتہ، دس دن کا ریلیف حاصل کر سکتا ہے اور ریلیف دیا جاتا رہا ہے۔ ملک کی لولی لنگڑی جمہوریت سے مطالبہ کرتا ہوں، ہماری جمہوریت میں اخلاقی قربانیاں ہیں، ہمارے مطالبے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے نواز شریف، ان کی صاحبزادی اور انکے داماد کو کم از کم دس دن کے لیے پیرول پر ریلیف دیا جائے اور موقع دیا جائے کہ اس غم کی گھڑی میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ اکٹھے ہو سکیں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved