تازہ تر ین

ایسا مُلک جہاں فارغ رہنے پر تنخواہ ادا کی جاتی ہے،آپ بھی جانے کیلئے کوششیں تیز کر دیں

زیورخ(ویب ڈیسک)دو سال قبل سوئٹزرلینڈ میں ایک ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں ہر شہری کو ایک بنیادی تنخواہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی، چاہے وہ کوئی کام کرے یا نہ کرے،البتہ شہریوں کی اکثریت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ حکومت تو تمام شہریوں کو بغیر کام کے بنیادی تنخواہ دینے پر تیار تھی مگر دو تہائی شہریوں نے اس تجویز کو مسترد کیا تو یہ بات وقتی طور پر پس منظر میں چلی گئی۔ حکومت نے تو اپنی توجہ دیگر کاموں میں لگا لی لیکن سوئٹزرلینڈ کی مشہور فلمساز ربیکا فانیان کے ذہن سے مفت بنیادی تنخواہ کا یہ منفرد نظریہ محو نہیں ہو سکا۔ ربیکا کا کہنا ہے کہ ”میں اس منصوبے پر ایک عرصے سے کام کرنا چاہ رہی تھی لیکن اس کی ہمت نہیں کرپارہی تھی۔ پھر جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو میں نے سوچا کہ اگر یہ شخص صدر بن سکتا ہے تو میں بھی ایک گاﺅں کے لئے مفت بنیادی تنخواہ کا انتظام کرسکتی ہوں۔“ربیکا حکومت کی طرح ہر شہری کو تو مفت بنیادی تنخواہ نہیں دے سکتی تھیں مگر انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے گاﺅں ریناﺅ کا انتخاب کیا ہے جہاں 25 سال اور اس سے زائد عمر کے شہریوں کو 2500فرانک یعنی تقریباً تین لاکھ پاکستانی روپے ماہانہ کی رقم ایک سال کے لئے دی جائے گی۔ پچیس سال سے کم عمر افراد کو رقم قدرے کم ملے گی لیکن بہرحال انہیں بھی ضرور کچھ نہ کچھ ملے گا۔ربیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے لئے اکتوبر کے وسط سے کرا?ڈ فنڈنگ کے ذریعے چندہ جمع کرنا شروع کردیں گی۔ گاﺅں کے مالدار لوگوں نے بھی اس میں بھرپور حصہ ڈالنے کا اعلان کیا ہے تاکہ گاﺅں کے ہر باسی کے لئے مفت بنیادی تنخواہ کا انتظام کیا جاسکے۔ ربیکا کا کہنا ہے کہ اس ایک گاﺅں میں یہ تجربہ ایک سال تک جاری رہے گا جس کے بعد نتائج کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کا دائرہ کار وسیع کرنے کے بارے میں تجاویز دی جائیں گی۔واضح رہے کہ مفت بنیادی تنخواہ کے بارے میں اسی نوعیت کے دو تجربات امریکا میں مسیسیپی کے ایک علاقے، اور اسی طرح ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سٹاکٹن میں بھی جاری ہیں۔ وہاں ڈیڑھ سال کے لئے لوگوں کو 500 سے 1000ڈالر تک مفت بنیادی تنخواہ دی جارہی ہے۔ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ مفت تنخواہ کا کسی کمیونٹی کے طرز زندگی پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔ تحقیق کار جاننا چاہتے ہیں کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کے لئے درکار رقم ہر کسی کو حکومت کی جانب سے دستیاب ہو جائے تو شہری اپنی صلاحیتوں کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ آیا اس اقدام سے کسی کمیونٹی کی پیداواری اور تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے یا اس میں کمی آ جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر اس نوعیت کے منصوبوں کو لانچ کرنے سے قبل ماہرین چھوٹے پیمانے پر ان کے نتائج کے بارے میں پیشگی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved