تازہ تر ین

ضمنی الیکشن کے نتائج سے ن لیگ کا مورال بڑھا : علامہ اظہر ، مجاہد کامران سمیت اساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر کرپیش کرنا قابل مذمت : سیف الرحمان، کم ترین ٹرن آﺅٹ رہا، حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی عوام کو باہر نہیں لاسکے: شہبازشاہین ، فیوڈل ازم اور سرمایہ کار کا گٹھ جوڑ ہوچکا عوامی فلاح کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے: آغا باقر ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی علامہ اظہر صدیق نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کے نتائج سے ن لیگ کا مورال بڑھا ہے۔ حکومت ابھی انتظامی سطح پر خود کو مضبوط نہیں بناسکی میڈیا میں ن لیگ کا بڑا وسیع حلقہ موجود ہے۔ بیگم کلثوم نوا کی وفات پر ملنے والی عہدوں کو بھی ن لیگ نے سیاست میں بہتر طریقے سے استعمال کیا۔ ملک میں معاشی بحران بڑھا ہے جس سے مہنگائی بھی بڑھی دوست ممالک سے بھی مدد نیں مل سکی اور حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ان تمام چیزوں کا ضمنی الیکشن پر اثر پڑا۔ ووٹرز کا باہر نہ نکلنا لمحہ فکریہ ہے بدقسمتی سے ہمارے یہاں لیڈرشپ مل سکتی ہے اسے بھی نافذ نہیں کیا جاتا۔ غریب آدمی کیلئے گھر بنانے کا منصوبہ نیا نہیں پچھلے ادوار میں ایسے منصوبوں پر کام ہوتا رہا ہے جس طرح حکومت اس منصوبہ پر کام کررہی ہے ڈر ہے کہ کہیں 50لاکھ گھر سرمایہ دار ہی نہ لے اڑیں۔ سنیٹر تجزیہ کار میاں سیف الرحمان نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو سیٹ بیک ضرور ہوا ہے کیونکہ ماضی کی روایات کے مطابق یہی سمجھا جارہا تھا کہ تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں 90فیصد نشستیں حاصل کرے گی۔ وی سی مجاہد کامران سمیت اساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر پیش کرنا قابل مذمت ہے حکومت الزامات پر لوگوں کی پکڑ ضرور کرے تذلیل نہ کرے۔ ہائی کورٹ نے سعد رفیق کو حفاظتی ضمانت دی ہے حفاظتی ضمانت کسی میرٹ پر نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک سہولت ہوتی ہے جو دی جاتی ہے عدالت اپنے فیصلے عوامی مقبولیت کو دیکھ کر نہیں بلکہ شواہد پر کرتی ہے اور عدالتی فیصلے عوامی مقبولیت کو ختم نہیں کرسکتے 50لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ مشکل ہے تاہم اس بارے مثبت ہی سوچنا چاہیے۔ تجزیہ کار شہباز شاہین نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں کم ترین ٹرین آﺅٹ رہا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی عوام کو باہر لانے میں ناکام رہے۔ ن لیگ نے مزید سیٹیں حاصل کرلیں جبکہ حکومت جو سویپ کا دعوی کررہی تھی ناکام نظر آئی۔ موروثی سیاست ایک حقیقت ہے اور ہماری جمہوریت اسی موروثی سیاست پر ہی کھڑی ہے حکومت تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر غریبوں سے ان کے سر کی چھتیں بھی چھین رہی ہے۔ روزگار دینے کے بجائے لوگوں کو بیروزگار کیا جارہا ہے حکومت اپنے دعوے کے مطابق پیسے اکٹھے کرنے میں بھی ناکام رہی۔ لاہور ہائی کورٹ سے خواجہ برادری کو حفاظتی ضمانت ملنا ہی تھی نیب کا کام کرنے کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔ سینئر تجزیہ کار آغا باقر نے کہا کہ الیکشن تو ضمنی تھے تاہم ان کے نتائج دورس اثرات کے حامل نظر آئے۔ اساتذة پر الزامات بھی تھے بھی تو بھی انہیں ہتھکڑیاں لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ پاکستان میں فیوڈل ازم اور سرمایہ کار کا گٹھ جوڑ ہوچکا ہے ایک جانب لوگوں کے گھر گرائے جارہے ہیں دوسری جانب 50لاکھ گھر بنانے کے 53سے بھی ہیں۔ خلق خدا کیلئے کام کرنے والے کو ہی ووٹ ملتے ہیں جمہوریت تبھی فائدہ مند ہوسکتی ہے جب لیڈر شپ قائدانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قصور کی زینب کے والد مجرم کو سرعام پھانسی کا مطالبہ اس لئے کررہے ہیں کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ بدقسمتی سے بچوں سے زیادتی کے واقعات آج بھی ہورہے ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved