تازہ تر ین

پانی کے عالمی سمپوزیم کے اعلامیے میں ضیا شاہد کے دونوں نکات شامل

لاہور (تجزیہ نگار) اسلام آباد میں پانی کے مسئلے پر دو روزہ کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور دوسرے روز کے اختتامی سیشن کے بعد عالمی آبی ماہرین اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت عالی دماغوں کے خطابات کی روشنی میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس اعلامیہ میں جو نکات سرفہرست ہیں وہ یہ ہیں کہ پاکستان کو پانی کی جس شدید قلت کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی وجہ 1960ءمیں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ ہے جس میں بھارت نے پاکستان سے دستخط کروا لیے کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے تین دریاﺅں ستلج، راوی، بیاس سے پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی ماحولیات کیلئے پانی، آبی حیات اور پن بجلی کیلئے پانی لے سکتا ہے جبکہ پاکستان کے اندر ستلج اور راوی کے دونوں دریاﺅں کا سارا پانی بند کر رکھا ہے جبکہ یہ پاکستان میں بہتے ہیں تو پاکستان ان دریاﺅں میں سے بھارت کی طرح پینے کا پانی، گھریلو استعمال کا پانی پن بجلی کا پانی، ماحولیات کا پانی، آبی حیات یعنی مچھلیوں وغیرہ کیلئے استعمال کا حق رکھتا ہے جبکہ بھارت نے ان کا سو فیصد پانی بند کر رکھا ہے۔ ضیا شاہد کی رٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس کے بعض حصوں پر عمل ہی نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے پاکستان کو ہر قیمت پر یہ معاملہ عالمی مصالحتی کورٹ میں لے جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ اس رٹ پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن نے رٹ سماعت کیلئے منظور کر لی تھی اور گزشتہ ماہ وفاق پاکستان انڈس واٹر کمشنر سندھ طاس چیئرمین واپڈا کو نوٹس جاری کر دیئے تھے۔ آج جو اعلامیہ جاری ہوا ہے خوش قسمتی سے چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی زیرسماعت درخواست کے بنیادی نکات اس میں شامل ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved