تازہ تر ین

قاسمی کو سزا سرکاری ملازمین کے لیے سبق کہ بے تحاشہ اخراجات پر کل کوئی پو چھ بھی سکتا ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نواز ریف نے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد عطاءالحق قاسمی کو جو پیشے کے اعتبار سے پڑھاتے تھے۔ ایم اے او کالج میں استاد تھے اور ساتھ ساتھ صف اول کے اختیارات میں پہلے نوائے وقت میں کالم لکھتے رہے تھے پھر جنگ میں کالم لکھتے تھے ان کو ناروے میں سفیر بنا دیا تھا۔ بعد ازاں دوسری بار نواز شریف وزیراعظم بنے تو اس کے بعد تیسری مرتبہ آئے تو انہوں نے عطاءالحق قاسمی کو پی ٹی وی کا چیئرمین بنا دیا کچھ دیر وہ ایم ڈی پی ٹی وی بھی رہے کچھ دیر دنوں عہدے ان کے پاس رہے۔ ان کی تقرری کے سلسلے میں چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لیا تھا چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس کا فائنل فیصلہ سنا دیا ہے کہ بڑی کڑی سزا دی ہے کہ یہ جو 19 کروڑ روپے ان کے ذمے نکلتے تھے کہ ان پر خرچ ہوئے وہ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد عطاءالحق قاسمی صاحب دیں گے 20 فیصد اس میں رقم جو ہے وہ پرویز رشید صاحب جو اس وقت وزیراطلاعات تھے وہ دیں گے اور 20 فیصد اسحاق ڈار دیں گے اور باقی پیسے جو ہیں وہ فواد حسن فواد دیں گے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ اس طرح سے ان کے 19 کروڑ تو پورے ہو جائیں گے لیکن ذاتی طور پر بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ بہرحال وہ میرے کلاس فیلو تھے البتہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس وقت اس کا دماغ بھی آسمان پر ہوتا ہے عطاءالحق قاسمی صاحب بھی اس وقت کم ہی سیدھے منہ بات کرتے تھے اور اسی اوورکانفیڈنس میں انہوں نے جو سرکاری اخراجات کو بے دریغ استعمال کیا اور اب اس پر ایک چیز ثابت ہوتی ہے کہ اگر عدالتیں غیر جانبدار ہوں مضبوط ہوں اور بڑی ہمت اور جرا¿ت سے فیصلے کریں تو پھر سرکاری ملازمت کے باوجود لوگ اس بات سے خوف کھائیں گے کہ کل کو بھی ان کا معاملہ عدالت میں گیا تو ان کو اس طرح سے سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اسحق ڈار صاحب اگر باہر ہیں ان کی پراپرٹی تو یہاں ملک میں موجود ہے اور ان کے حصے کا پیسہ ان کی پراپرٹی سے لیا جا سکتا ہے اور فواد حسن فواد خود ایک اور مقدمے میں آشیانہ سکیم میں چونکہ وہ اس وقت پنجاب کے سیکرٹری ہوتے تھے بعد میں وہ وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری بنے لہٰذا اِن پر بھی جرمانہ ہوا ہے۔ یہ کافی سخت سزا ہے لیکن اس کا ایک فائدہ ہے کہ سرکاری ملازمین اب ملازت کے دوران محتاط ہو کر چلیں گے۔ اس بات کا خیال رہے گا کہ کل کلاں ان کا معاملہ کسی عدالت میں جا سکتا ہے اس شکل میں ان کو پیسے بھی واپس کرنے پڑ سکتے ہیں۔ دیکھیں اگر یہ فیصلہ ہائی کورٹ کا ہوتا تو پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ نظرثانی ہو سکتی ہے اب اگر سپریم کورٹ میں نظرثانی کر سکتے ہیں جس میں ان کا جرمانہ کم ہو سکتا ہے لیکن اسے بھی دوبارہ وہی چیف جسٹس سنیں گے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سزا میں کچھ کمی ہو جائے لیکن ختم شاید نہیں ہو سکتا۔
آصف زرداری کے بیان پر نوازشریف اور مریم نواز نے جو خاموشی اختیار کی ہے وہ معاملات ٹھنڈا کر رہے ہیں پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا نوازشریف جب نااہل ہونے کے بعد مری سے اسلام آباد پہنچے تو میںبھی اخبار نویسوں کے وفد میں شامل تھا جن کو انہوں نے دعوت دی اور اس وقت جو کچھ ان کو مشورے دیئے گئے تھے خاص طور پر ہمارے ہاں ایک پرو انڈیا لابی ہے جس کو عرف عام میں کہا جاتا ہے پتہ نہیں وہ پروانڈیا ہیں بھی یا نہیں بہر حال اس وقت ہمارے دوست بڑا معروف نام ہے امتیاز عالم صاحب انہوں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ آپ لاہور سفر کریں جی ٹی روڈ پر اور موٹر وے کی بجائے مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آپ کو لاہور پہنچتے پہنچتے یہ جو فوج سول حکومت کے خلاف کر رہی ہے آپ کو جس طرح سے حکومت سے الگ کیا گیا ہے اس کا پول کھول دیں اور پاکستان میں بھی ترکی کی طرح سے عوام جو ہے پاک فوج کے ٹینک جو ہیں الٹا دیں گے لیکن میں نے اس موقع پر بھی یہ بات کہی تھی کہ جناب میرے اس مشورے پر عمل کرنے سے پہلے سو بار سوچیں کیونکہ اگر آپ کی کوشش کامیاب ہو گئی تو پاک فوج کو نقصان پہنچا تو وہ بھی پاکستان کا نقصان ہے۔ وہ پاکستان کی فوج ہے کسی اور ملک کی تو نہیں اور اگر آپ ناکام ہو گئے تو پھر آپ ایک سب سے بڑی دفاعی قوت جو ہے جو دہشتگردی کے خلاف بھی جنگ لڑ رہی ہے اس وقت جو فیصلہ ہوا وہ تو سپریم کورٹ نے کیا ہے احتساب عدالت نے فیصلہ کیا ہے کوئی فوج نے تو فیصلہ نہیں کیا۔ میں نے بڑے ادب سے ان سے کہا تھا کہ جناب یہ مشورہ بالکل نہ مانیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ بعد میں جناب نوازشریف صاحب نے جو لائن لی وہ لاہور کے الیکشن میں جس طرح سے مریم نواز نے جو الزامات لگائے کہ خلائی مخلوق جو تھی وہ آ کر ہمارے ووٹ چھینتی رہی اور اس لئے ہمیں کم ووٹ ملے۔ بعض اوقات تو وہ اس سے بھی بڑھ کر نوازشریف سے بھی آگے بڑھ کر مریم نواز نے فوج پر بہت ہی زیادہ الزامات لگائے کہ بار بار ان کے بارے می ںکہا کہ سول حکومت مداخلت کر رہی ہے پھر ڈان لیکس کا واقعہ بھی آیا۔ سرل المیڈا کا انٹرویو بھی آیا جو جلال الدین رومی کے گھر پر نوازشریف کا ملتان میں لیا گیا۔ ان دونوں انٹرویوز میں جناب نوازشریف نے پاک فوج کے بارے میں کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ اشارةً انہوں نے یہ کہا کہ انڈیا میں جو گڑ بڑ ہوتی ہے وہ پاکستان کے زیر اثر ہو رہی ہے میں یہ سمجھتا ہو ںکہ ان واقعات کی وجہ سے جس پر بہت کڑی سزا ان کو ملی اور اگر ایک پر 12 نومبر کو ان کا فیصلہ ہونے والا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہف یصلے میں بری بھی ہو رہے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ ان کو دوبارہ جیل بھیج دے۔ اگر سپریم کورٹ دوبارہ جیل بھیجے گی تو اسی کی وجہ چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ہوں گے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو اسلام آباد ہائی کورٹ ہے ان کو رہائی کا حکم کیسے دے دیا۔ اب نوازشریف اور مریم نواز خاموش ہیں یہ زرداری صاحب کی بات درست ہے۔ مولویوں کے این آر او میں بظاہر تو کوئی سچائی نظر نہیں ااتی لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ نوازشریف نے کوئی طے کیا ہوا ہے کہ وہ سیاسی بات نہیں کریں گے حتیٰ کہ سی پی این ای کے وفدکے ساتھ اخبارات کے ایڈیٹروں کی موجودگی میں خود بھی جاتی امراءکافی دیر کے بعد گیا تھا ان کی بیگم صاحبہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کی تعزیت کے لئے اس وقت بھی میں نے دیکھا کہ خواہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ہوں یا ان کے ساتھی امیر العظیم ہوں، سلمان بٹ، لیاقت بلوچ وغیرہ ہوں اور اکثر ہمارے بھی بعض ساتھیوں نے ان سے سوال کیا کیونکہ ظاہر جب بھی کوئی لیڈر اخبار نویسوں سے ملتا ہے خواجہ کسی بھی بہانے سے ملاقات ملتا ہے اخبار نویس کبھی چوکتا نہیں کوئی نہ کوئی سیاسی سوال کرتا ہے لیکن انہو ںنے کسی سیاسی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا ہمارے ایک ساتھی نے ان سے کہا کہ بڑی زیادتی ہو رہی ہے کہ شہباز شریف صاحب کو سزا دے دے گئی ہے اس پر نوازشریف خاموش رہے۔ انہوں نے سوائے فاتحہ کے موقع پر رسمی تعزیت کے جواب میں شکریے کے چند الفاظ کے سوا قطعی طور پر کوئی سیاسی بات نہیں کی مریم نواز صاحبہ تو مکمل طور پر خاموشی رہیں۔ کہتا تھا کہ انہوں نے اپنے اوپر سیلف ڈسپلن طاری کر لیا ہے اور انہو ںنے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سیاست پر فی الحال کوئی بیان نہیں دیں گی۔ اس لئے یہ کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید کوئی این آر او ہوا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہو ںکہ جب عمران خان کی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم ہر گز ہرگز کوئی این آر او قبول نہیں کریں گے اور دوسری طرف نوازشریف سے بھی زیادہ کھل کر کہا کہ ہم نے کوئی این آر او نہیں کیا اگر نوازشریف یا میری طرف سے کوئی این آر او کی بات کی جاتی ہے تو مجھے نام بتایا جائے کہ کسنے این آر او کا نام لیا اس لئے وہ تو نہیں مان رہے لیکن جس طرح سے وہ خاموش ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ اپنے طور پر انہوں نے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ سردست چپ رہیں گے ظاہر ہے وہ سیاستدان ہیں آگے چل کر شاید وقت آنے پر اس سے بڑے بیانات دیں فی الحال باپ بیٹے دونوں مکمل طور پر خاموش ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ مصلحتاً خاموش ہیں۔ کیونکہ اس وقت جو بھی وہ حکومت کے خلاف سیاسی حکومت کے خلاف تو بات ہو سکتی ہے لیکن وہ اس سے پہلے وہ فوج کے بارے میں اور عدلیہ کے بارے میں وہ بڑھ چڑھ کر بولتے تھے چونکہ اب محسوس کرتے ہیں کہ ان کو فائدے کی بجائے نقصان ہوا ہے اور جس طرح سے ان کا خیال تھا کہ لاہور سے جی ٹی روڈ سے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے تک عوام اٹھ کر کھڑی ہو جائے گی اور حکومت کا تختہ الٹ دے گی محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کی خواہشات پوری نہیں ہوئیں۔ حکومت کا تختہ تو نہیں کہنا چاہئے اس وقت شاہد خاقان عباسی بھی وزیراعظم تھے لیکن اس سے مراد یہ تھی کہ پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف ان کی دھواں دھار تقریریں اور بیان جاری تھے۔
آج زرداری صاحب نے بیان دیا ہے کہ نوازشریف اور ان کے ساتھی جو ہیں وہ خاموش ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مصلحت کے تحت خاموش ہیں یا طے شدہ پالیسی کے تحت خاموش ہیں۔ اس پر آپ کیا فرماتے ہیں۔
مسلم لیگ ن پنجاب میں ترجمان ملک احمد خان نے کہا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی مصلحت کے تحت خاموش ہے اس کے دو تین محرکات ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الیکشن سے قبل آپ کا جو جارحانہ انداز ہوتا ہے وہ لامحالہ الیکشن کے بعد اس طرح سے جارحانہ نہیں رہ جاتا۔ دوسری بات یہ ذاتی طور پر خاندان ایک صدمے سے گزرا ہے اس کا بھی ایک اثر ہوتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی مصلحت یا ڈیل کا پہلو نہیں ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ ایک بات بالکل واضح ہے کہ جناب شہبازشریف صاحب نے بہت کھل کر پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ کوئی این آر او کسی نے کیا ہے تو نام بتایا جائے خود نوازشریف نے بھی اس کو رد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام بتایا جائے کہ کس نے این آر او کیا ہے او ریہ اس قسم کے الزامات پر وہ این آر او کے تحت خاموش ہیں یہ درست نہیں ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جناب شہباز شریف اور جناب نوازشریف جو ہیں انہوں نے سختی سے اس امر کی تردید کی کہ انڈرسٹینڈنگ کے تحت خاموش ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ کسی این آر او کا تاثر دینا بھی غلط ہے جب اب تک ساری صعوبتیں برداشت کی ہیں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا وہ اپنے سارے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں تو وہ کیوں این آر او مانگیں گے۔ میں مانتا ہے کہ کسی طور پر کی این آر او یا حکومت جو تاثر دینا چاہتی ہے یہ بالکل غلط ہے اگر ان کے پاس کوئی بات ہے کہ کسی نے این آر او کے لئے کہا ہے تو اس کا نام بتائیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ ایک زمانے میں یہ محسوس ہوتا تھا کہ جناب شہباز شریف صاحب اگر پارٹی کے نئے صدر ہیں اس کے باوجود خود سارا کنٹرول جو تھا وہ محترمہ مریم نواز کے پاس تھا اور وہ انتہائی نوازشریف سے کہیں جا کر جوڈیشری اور فوج کے حوالے بہت سخت ریمارکس دے رہی تھیں ان کی طرف سے مکمل خاموشی جو ہے وہ اصل میں شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ وہ اتنا زیادہ خاموش کیوں ہیں۔
ملک احمد نے کہا کہ جیسا میں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ایک جارحانہ انداز اختیار کرنا جو کہ الیکشن کمپین میں ایک بات ہوتی ہے لامحالہ الیکشن سے پہلے اور بعد میں ایک ماحول ہوتا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مقدمات چل رہے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یا بات کو سٹیج پر آ کر بات کرنا ہے تو اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ کس دلیل سے بات کریں گی۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ عطاءالحق قاسمی کے خلاف کیس کے سلسلے میں ہمارے دوست محترم پرویز رشید صاحب کو بھی رقم جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور اسحق ڈار کے ذمے نکلے ہیں ایک فیصد فواد حسن فواد کے ذمے نکلا ہے۔ضیا شاہد نے پوچھاکہ عطاالحق ایک فرد نہیںبلکہ ن لیگ کے سینئر حامی ، مددگار اورمشورہ دینے والے بھی تھے۔آپ سمجھتے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کرنی چاہئے۔ جس پر انکا کہنا تھا کہ عطاالحق کو اس فیصلے کو من و عن تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور نظر ثانی کی اپیل کرنی چاہئے۔ تعیناتی کرنے والے اگر سمجھتے ہیں کہ کوئی دلیل یا نقطہ ایسا ہے جو عدالت کی نظر سے نہیں گزرا تو نظر ثانی کی اپیل کرنی چاہئے اور وہ نقطہ انکے سامنے رکھ کر دلائل دینے چاہئیں۔ بادی نظر میں جو بات نظر آرہی ہے وہ یہ کہ انکی تقرری قواعد کے مطابق نہیں تھی۔
آسیہ مسیح کو بیرون ملک بھیجے جانے کی خبروں پر حکومت کی جانب سے تردید کیساتھ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کے بیان پر ضیا شاہد نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اردو کاایک محاورہ ہے کہ ”نام بڑے اور درشن چھوٹے“۔بی بی سی کا نام سن کر دہشت پھیل جاتی ہے کہ وہ بی بی سی نے کہا ۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ 1965ءکی جنگ میں بی بی سی نے یہ خبر بھی نشر کر دی تھی کہ بھارتی فوج لاہور جم خانہ تک پہنچ گئی ہے اور آدھے لاہور پر قبضہ ہوگیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ بھارتی فوج نہر بھی عبور نہیں کر پائی تھی۔ کل رات بھی اسی قسم کا واقعہ ہوا۔ ساڑھے 12 بجے خبر آئی کہ آسیہ مسیح کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اسکی رہائی کی روبکار آنا ہی تھی اور اسے رہا ہونا ہی تھا لیکن پاکستانی میڈیاکی ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ چار دن پہلے ایک اخبار نے اپنی لیڈ سٹوری چھاپ دی تھی تھی کہ آسیہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رات کو آسیہ کی رہائی کی خبر آنے کے بعد4 بجے بی بی سی نے ایک خاص خبرنامے میں یہ اطلاع دی کہ انکو ملتان سے ہالینڈ کے سفارتخانے والے اسلام آباد لے گئے۔میری معلومات کے مطابق اگر وہ رات ساڑھے 12 بجے رہا ہو تو صبح چار بجے وہ اسلام آباد نہیں پہنچ سکتی تھی کیونکہ اگر وہ جہاز سے نہیں گئی تو ملتان سے اسلام آبادپہنچنے میں 6 گھنٹے لگتے ہیں۔ اور اگر وہ جہاز پر گئی تو جہاز کو ملتان ائیر پورٹ پر ہونا چاہئے تھا، اسلام آباد ائیر پورٹ پر کیوں۔ لیکن کہا گیا کہ ہالینڈ کاجہاز خصوصی فلائیٹس کی ائیربیس پر کھڑا تھا اور ملتا ن سے بائی روڈ آسیہ کو لیجایا گیا۔آج صبح سے حکومت کی جانب سے تردید آرہی ہے کہ نہ تو آسیہ کے لیے ہالینڈ سے کوئی جہاز آیا اور نہ ہی وہ اور اسکا خاندان ہالینڈ روانہ ہوا ہے۔ یہ خبر غلط تھی، جو کل صبح کے اخبارات اور چینلز پر آرہی ہے۔ میری گفتگو کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم لیپ کر دیتے ہیں کہ یہ وائس آف امریکا یا بی بی سی نے کہا ہے لہذا یہ بات سو فیصد درست ہوگی۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں ہوتا ، بی بی سی سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ آسیہ مسیح کے کیس پر نظر ثانی جاری ہے۔
پروگرام میں سینئر صحافی و صدر سی پی این ای عارف نظامی نے ٹیلی فونک شرکت کی ۔ ضیا شاہد نے پوچھا کہ بی بی سی پہلے بھی چھکے لگاتا رہا ہے لیکن رات 4 بجے کل یہ خبر دیدی کہ ہالینڈ سے آئے ایک جہاز میں آسیہ کو پورے خاندان سمیت ہالینڈ لیجایا گیا ہے۔جسکی وجہ سے پاکستان کے بہت سے اخبارات نے یہ خبر بھی چھاپ دی البتہ 3 سے 4 مرکزی اخبارات نے سنگل کالم رہائی کی خبر کے سوا مبینہ ہالینڈ فرار کی خبر نہیں چھاپی۔ یہ فرمائیے کہ بی بی سی کی خبرکو ہم من و عن مان لیتے ہیں، کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اکثر اوقات بی بی سی بھی چھکے لگا دیتا ہے۔
عارف نظامی نے کہا کہ بی بی سی سے ہی پوچھا جا سکتا ہے کہ کیسے چھکے لگا رہے ہیں ۔ ہمارے اپنے میڈیااور بڑے بڑے اخباروں میں یہ خبریں لگی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وزارت خارجہ اور حکومت کی جانب سے تردید کی گئی تو مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی بات کریں گے جو خلاف واقعہ ہوگی۔یہ معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے، بی بی سی پر ہمارا دوش نہیں لیکن ہمارے میڈیا کو خود اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ ایسی خبروں سے ملکی صورتحال پھر خراب ہو سکتی ہے۔
ضیا شاہد نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اخباروں نے یہ خبر نہیں چھاپی۔ کسی بھی سینئر اخبار نویس یا اخباری ادارے کو خبر کی پوری تحقیق کے بغیر خبر شائع نہیں کرنی چاہئے۔ناموں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے کہ وائس آف امریکا نے کہہ دیا یا بی بی سی نے کہہ دیا۔
پروگرام میںشریک گفتگوسربراہ تحریک لبیک آصف اشرف جلالی نے کہا کہ اس خبر کے شائع ہونے کی بعد اعلیٰ حکام سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ آسیہ مسیح کو ملتان جیل سے رہا کیا گیا ہے اور اسلام آباد میں رکھا گیا ہے تاہم نظر ثانی اپیل کا فیصلہ آنے تک اسے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ دھرنے کے مطالبات میں اس بات پر ہمیں کہا گیا تھا کہ اگر آپ یقین دہانی اور تسلی چاہتے ہیں تو کسی خاتون وکیل کو بھیج کو چیک کر سکتے ہیں اور لوگ اس سے پہلے سے کہتے رہے ہیں کہ وہ ملک سے باہر ہے۔ ان شکوک و شبہات کے برعکس حکومت کی وضاحت پر ہمیں اعتماد کرنا چاہئے ۔ میڈیا کو اگر کوئی مصدقہ خبر ملتی ہے تو ہمیں بھی مطلع کیا جائے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراءکے بیرون ملک سرکاری علاج پر پابندی عائد کیے جانے پر ضیا شاہد نے کہا کہ یہ بڑا اچھا فیصلہ ہے کہ ایک ایک وزیر پر بے انتہا اخراجات ہوتے تھے اور وہ مہینوں پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل رہتے تھے اور تمام بل حکومت پاکستان کو ادا کرنا پڑتا تھا۔ میں اسکے ساتھ یہ بھی شامل کروں گا کہ صرف وزیروں کو ہی نہیں ، ایم این اے ، ایم پی ایز اور سینیٹرز کے بیرون ملک علاج کے اخراجات بھی حکومت پاکستان کو نہیں برداشت کرنے چاہئیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved