تازہ تر ین

آسیہ باہر گئی یا نہیں ،آگئی وہ خبر جس کا سب کو انتظار تھا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ آسیہ کے حوالے سے غلط خبریں چلائی گئیں، ایسا نہیں کہ کوئی سفیر آئے اور آسیہ کو رہا کر دیا جائے.پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ آسیہ کے معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، کسی کے کہنے پر کچھنہیں کریں گے۔فواد چودھری نے کہا کہ آسیہ کے حوالے سے غلط خبریں چلائی گئیں، ایسا نہیں کہ کوئی سفیر آئے اور آسیہ کو رہا کر دیا جائے، غیر ذمہ دارانہ طریقے سے آسیہ کی بیرون ملک روانگی کی خبریں چلائی گئیں، غیر ذمہ دارانہ صحافت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کہا کہ آسیہ کیس کے فیصلے کیخلاف ریویو پیٹشن کا تعلق براہ راست حکومت سے نہیں ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی (پی اے سی) سے بنانے کا مطالبہ درست نہیں، مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ ان کی پانچ سال کی حرکتوں کی طرح غیر اخلاقی ہے۔ نواز شریف کا حساب شہباز شریف چیک کریں، شہباز شریف کس طرح اپنے بھائی کے منصوبوں کا آڈٹ کرائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اگر این آراو دیدے تو سارا ماحول ٹھیک ہو جائے گا، ان سے حساب نہ لیں تو سارا ماحول اچھا ہو جائے گا، ان کا سارا جھگڑا ہی یہ ہے کہ حکومت کیسوں پر ہاتھ ہلکا کر دے لیکن موجودہ وزیراعظم عمران خان م±ک مکا کا کھیل نہیں کھیلیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ چین سے متعلق کابینہ کو اعتماد میں لیا، ان کا دورہ نہایت کامیاب رہا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی،اس کی تفصیلات کچھ دنوں میں سامنے آئیں گی،اس سے پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن سے متعلق مسائل حل ہوں گے، 2ماہ میںکابینہ کے11اجلاسوں میں 120فیصلے ہیں جن میں سے صرف4فیصلوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا، جن پر جلد عملدر آمد کی ہدایت کی گئی ہے ، کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے میکنزم تیار کرلیاہے، عدم عملدر آمد کی روایت کو ختم کرینگے ، اپوزیشن والے کہتے ہیں ماحول خراب ہے انکو اگر این آر او دیں تو سب ٹھیک ہو جائےگا، عمران خان مک مکا نہیں کرنے دیں گے ، کسی کو بھاگنے نہیں دیں گے، پی اے سی سربراہی پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈلاک برقرار ہے ، حکومت اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کہ چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کا آڈٹ کرنے پر لگا دیں ، شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کا مطالبہ اتنا ہی غیر اخلاقی ہے جتنی انکی 5سالہ کارکردگی ‘ اعظم سواتی وفاقی وزیر ہیں انکو کیوں ہٹائیں ، وہ جمعرات کو یہاںپارلیمنٹ ہاﺅ س کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کے اب تک11اجلاس ہوچکے ہیں۔ گزشتہ حکومت میں کابینہ اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کبھی ہوتے ہی نہیں تھے۔ نواز شریف کو جس دن ایم این این ایز مل لیتے تھے تو ایم این ایزہفتہ ہفتہ ہاتھ نہیں دھوتے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان پابندی کے ساتھ کابینہ اجلاس کرا رہے ہیں اور اپنے ساتھیوں سے مل رہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاسوں میں 120فیصلے لیے جاچکے ہیں جن میں سے72فیصلوں پرمکمل طور پر عملدرآمد ہوا ہے جبکہ 31 فیصلوں پرکام ابھی ملتوی ہے اور15فیصلوں پر کام ہورہا ہے جبکہ صرف4فیصلوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔جن فیصلوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ان پر کابینہ نے جلد سے جلد عملدرآمد کرنے کا کہا ہے۔اس حوالے سے متعلقہ ڈویژنز اور وزارتوں کو احکامات جاری کیے جاچکے ہیں۔گزشتہ 5سالوں کی کابینہ کے فیصلوں پر پورے پانچ پانچ سال عمل درآمد نہیں ہو سکا لیکن ہم نے اس حوالے سے میکانزم بنایا ہے اور کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔یہ کہتے ہیں کہ ماحول خراب ہے اگر آج اپوزیشن کے مقدمات بند کر دیے جائیں تو ماحول ٹھیک ہوجائے گا۔ ان کو این آر او لینے کی عادت ہے۔ عمران خان مک مکا نہیں کرنے دیں گے۔ کسی کو بھاگنے نہیں دیں گے۔پی اے سی سربراہی پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈلاک برقرار ہے۔ حکومت اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کہ چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کا آڈٹ کرنے پر لگا دیں ۔نیب قوانین میں ترمیم کی بات کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو اس پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عوام کو ان لوگوں کی شکلوں سے نفرت ہے ، حزب اختلاف کو تکلیف یہ ہے کہ حکومت مک مکا کیوں نہیں کررہی ، وزیراعظم مک مکا کا کھیل نہیں کھیلیں گے ، یہ کہتے ہیں کہ حکومت ہمارے مقدمات پر ہاتھ ہلکا کردے، این آر او دے دیں تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بناسکتے ، شہباز شریف کس طرح اپنے بھائی کا آڈٹ کرینگے، ہم شہبازشریف کو نوازشریف کے آڈٹ کا کام نہیں دے سکتے ، شہبازشریف کو چیئرمین اے پی سی بنانے کا مطالبہ انتہائی غیر اخلاقی ہے ہم نے اپوزیشن کو کہا ہے کہ پہلے ہم آڈٹ کرلیں پھر اپوزیشن ہمارا آڈٹ کرے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved