تازہ تر ین

ہیکرز معاشی حالت میں بہتری کے لیے ڈیجیٹل چوری کی راہ پر گامزن

نیو یا رک (ویب ڈیسک)پہلے زمانے میں لوگ پیسے گھروں میں چھپا کر رکھتے تھے، پھر بینک کاری نظام نے لوگوں کو چوری ڈاکے سے تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے سرمایہ بینکوں میں رکھنے کی ترغیب دی۔ لیکن اب بینک ڈیجیٹل چوری، جسے عرف عام میں ہیکنگ کہا جاتا ہے، سے نبرد آزما ہیں۔ کچھ عرصے قبل تک اس چوری کا نشانہ عام آدمی ہوتا تھا لیکن اب اس دائرہ کار وسیع ہوکر ریاست تک پہنچ چکا ہے۔
ریاست کی سربراہی میں پرورش پانے والے ان ہیکرز کا مقصد نہ صرف خفیہ معلومات اور سبوتاڑ پھیلانا ہے، بلکہ اب یہ ہیکرز ریاست کا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے دوسرے ملک کے بینکوں سے رقوم چ±را کر اپنے ملک میں منتقل کر رہے ہیں تاکہ ملک میں معاشی بہتری لاسکیں۔اس بابت انٹرپول اور انسداد سائبر کرائم کے دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر سائبر حملوں سے تحفظ فراہم کرنے والی بین الاقوامی تنظیم گروپ -آئی بی کے مطابق پہلے کسی ادارے کو جدید اور پیچیدہ مال ویئر (کسی کمپیوٹر نظام میں داخل ہوکر معلومات کی چوری اور متعلقہ کمپیوٹر کو نقصان پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا سافٹ ویئر) کے ذریعے ہیکنگ کا نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن اب ریاستوں نے ان ہیکرز کو باقاعدہ بھرتی کرکے اپنے مفاد میں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔رواں سال اکتوبر میں ماسکو میں ہونے والی سائبر کرائم کانووکیشن 2018 میں اس تنظیم کی جانب سے ایک چشم کشا رپورٹ پیش کی گئی۔ جس کا عنوان ’ہائی ٹیک کرائم ٹرینڈز2018‘ تھا۔ اس رپورٹ میں سائبر کرائم کے نئے رجحانات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ پیش گوئی کی گئی کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ریاست کے پروردہ ہیکرز کی اولین ترجیحات دوسرے ممالک کے مالیاتی ادارے ہوں گے۔ سائبر کرائم ٹرینڈ پر جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اس وقت ہیکرز کو اپنے مالیاتی مفاد کے لیے حاصل کرنے والے ممالک میں چین، شمالی کوریا اور ایران سر فہرست ہیں۔ جب کہ روس اور یوکرائن کے ریاستی ہیکرز کے چالیس گروپ دیگر ممالک میں متحرک ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved