تازہ تر ین

جعلی پیروں اورعاملوں کا ایک مافیا ہے، میڈیاانہیں سامنے لائے مبشرلقمان نے بے نقاب کیا تھا ایسے لوگوں کو کلمہ تک نہیں پڑھنا آتا:حمیرا اویس شاہد ، جن نکالنے کے بہانے 10 سالہ لڑکی جلانا جہالت کی انتہا :ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ہیومن رائٹس واچ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی معروف تجزیہ کار، چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بہاولنگر میں فورٹ عباس کے رہائشی افتخار احمد کی دس سال کی بیٹی آمنہ کو جن نکالنے کی غرض سے جس طرح جلتے کوئلوں سے دھونی دینے کے لئے جلایا گیا یہ جہالت کی انتہا ہے اس بچی کی ماں ضعیف العقیدہ خاتون ہے جو علاج کے لئے پیر کے پاس جا کر اپنی طرف سے بڑا دین داری کا مظاہرہ کر رہی ہے حالانکہ کسی پیر کے پاس اس کا علاج نہیں ہوتا ۔ چینل ۵ کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے بچی کی ماں کا اصرار ہے ہمارے پیر کو کچھ نہ کہا جائے ان کاقصور نہیں جنات نے بچی کو آگ میں پھینک دیا۔پولیس نے پیر کے تین چیلے تو پکڑ لئے لیکن پیر گرفتار نہیں ہوئے۔ ویڈیومیں بچی کی ماں بار بار کہہ رہی ہے ہممارے پیر کو کچھ نہ کہا جائے یہ تو جہالت ہے جس طرح بچی کو جلایا گیا یہ قابل دست اندازی پولیس ہے یہ جہالت کی انتہا ہے کہ بچی کی ماں کہہ رہی ہے ”ساڈے پیر نوں کج نہ کہو پیر دا کوئی قصور نئیں“۔ میں سمجھتا ہو ں براہ راست نہ سہی لیکن اس گناہ میں ہم بھی شامل ہو رہے ہیں جتنے سنڈے میگزین ہیں ان میں ایسے جعلی پیروں کے اشتہارات چھپے ہوتے ہیں کیونکہ یہ پیسے دیتے ہیں۔اس کا ہر گز مطلب نہیں پیسے دے کر کوئی جو بھی چھپوا لے” یعنی جو چاہو پوچھو یا فلاں بنگالی بابا“۔میں سی پی این ای کو خط لکھوں گا کہ اپنے ممبر پبلیکیشنز کو ہدایت جاری کرے کہ اس قسم کے فراڈ اشتہارات نہ شائع کریں۔پیر پرستی کا اسلام یا دین داری سے تو کوئی تعلق نہیں کیونکہ 99.9فیصد اس قسم کے پیروں کا نماز،روزہ سے تعلق نہیں ہوتا نماز تک نہیں پڑھتے کوئی ایسا عمل نہیں کرتے جس سے لگے یہ دین پر خود پریکٹس کر رہے ہیں اس کے باوجود لوگ ان کے چنگل میں پھنے ہیں۔لاہور کے علاقے چوبرجی میں مسجد کے حجرے میں برائی ہوتی تھی ہم نے خبریں کی طرف سے چھاپہ مارا اور ایک عورت،مرد اور مولوی صاحب کو حجرے میں پکڑ لیا لیکن پورا محلہ اصرار کرتا رہا اس معاملے کو نہ اٹھایا جائے اس سے ہماری مسجد کی بےحرمتی ہوتی ہے بڑی مشکل سے ہم نے لوگوں کو قائل کیا برائی ہوئی ہے تو اسے ظاہر کرنا ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں ہمارے یہاں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے برائی کو سامنے نہ لاﺅ جس سے بہت سی برائیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے ۔لوگوں نے دکانداریاں بنائی ہوئی ہیں اور دن رات لوگوں کو ٹھگ رہے ہیں۔ایک ماس ایجوکیشن کا پروگرام شروع کرنا چاہئے اور جھوٹے پیروں کے خلاف ایک مہم چلائی چاہئے۔بہاولنگر واقعے کی ہم پوری پیروی کریں گے اسے آخر تک پہنچائیں گے۔پوری کوشش کریں گے کہ ان چیلوں چانٹوںکو قرار واقعی سزا ملے اور ان کی ضمانت پر رہائی ممکن نہ ہو۔سابق ممبر پنجاب اسمبلی اور دی پوسٹ کی سابق ایڈیٹر حمیرا اویس شاہد نے کہا ہے کہ صرف دیہی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اربن ایریاز ،لاہور،ملتان اور اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی جب کوئی چیز آپ کی زندگی میں صحیح نہیں ہوتی مثلا شادی نہ ہونا بچہ نہ ہونا،معاشی حالات کمزور ہونا یا دیگر مسائل ہوں تو لوگ اسے جادو ٹونہ وغیرہ قرار دیتے ہیں لوگوں کے عقیدے اس قدر کمزور ہو گئے ہیں کہ دوسروں پر الزام لگا دیتے ہیں ۔۔گزشتہ دس سے بیس سالوں میں اس قسم کے وہمات بڑھے ہیں۔اس سے قبل بھی خبریں کی انویسٹی گیشن ٹیم نے اس قسم کے معاملات میں تحقیقات کر کے بہت سے جعلی پیر پکڑوائے تھے جن کا یہ کاروبار ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کا یقین دلاتے ہیں یہ سیدھا سیدھا کفر ہے کہ آپ اللہ کے سوا کسی اور پر یقین کر رہے ہیں۔یہ پیر پیسوں کے پیچھے ہیں جو بندہ جاتا ہے اسے پھنسا لیتے ہیں۔اب فورٹ عباس میں جعلی پیر کے ہاتھوں آمنہ علاج کے نام پر جھلسا دی گئی کہ اس پر جنات ہیں لڑکی کی ماں کو جنات تو نظر آرہے ہیں لیکن سامنے بیٹھا مکار اور جھوٹا پیر نظر نہیں آ رہا۔ایسی جہالت کے خلاف بڑی مہم چلنی چاہئے،پالیسی بنانی چاہئے اور قانونی اقدامات ہونے چاہئیں اس میں میڈیا پر بڑا کردار ہونا چاہئے۔پیر لوگوں کی سائیکی بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور لوگوں کے ڈر سے انہیں کنٹرول کرتے ہیں جب آپ پیر وں کے پاس جا کر اپنے ڈر بتا تے ہیں تو خو اپنے ڈر د کو ان کی جھولی میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔پرانے حلقوں میں کسی مولوی یا پیر کا اثر بہت زیادہ ہو گا۔پیر اصل میں ایک مافیا ہے جن کا کام ہی لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنا ان کی زندگیوں اور چائیدادوں پر قابض ہونا ہے یہ اکیلے آپریٹ نہیں کرتے ان کے بدمعاش چیلے ہوتے ہیں۔جہالت کے باعث لوگ سمجھتے ہیں یہ شخص اللہ والا وہے اس کے خلاف زبان کھولی تو عذاب آئے گا دین کی تعلیم کم ہے۔ویسے یہ پیر اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ اگر کسی کوعلاقے سے خارج کر دیں تو لوگ بے چارے مشکل میںپڑ جاتے ہیں۔ایسے پیروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے تاکہ پتہ چلے یہ کہاں اسلام کے دائرے میں رہتے ہیں۔دیہی علاقوں میں تو قانون ہے ہی نہیں اللہ بھلا کرے ڈی پی او کا جنہوں نے کارروائی کی ڈی پی ا و عمارہ اطہر نے بھی کہا عدلیہ ہمارا ساتھ دے۔پیر ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ لوگ پھنس جاتے ہیں ۔میڈیا کو اکٹھا ہونا چاہئے ان پیروں،فقیروں ،کے اشتہارات،وال چاکنگ بل بورڈز بند ہونے چاہئیں تاکہ ان کی بات نہ پھیلے۔جناب ضیا شاہد پی سی این ای کے صدر رہے ہیں ۔ انہیں یہ بات ضرور اٹھانی چاہئے کہ ایسے لوگوں کی پبلسٹی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اینٹی پیر اشتہارات چلنے چاہئیں جس میں حکومت بھی شامل ہو۔جب تک تعلیم و تربیت نہیں ہو گی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔رائیونڈ روڈ پر سروے کرایا جائے تو کسی پر جادو ختم کرانے یا جادو کرانے کی چار پانچ لاکھ سے آٹھ لاکھ فیس ہے۔لوگوں کو وہم میں ڈالا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعتیں کردار ادا کر سکتی ہیں لوگوں کو شعور دلا سکتے ہیں۔مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں ایسے پیروں کو بلا کر ان کا پردہ فاش کیا تھا ایسے لوگوں کو تو کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved