Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • حوثیوں نے عدن میں صدارتی محل اور بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے: یمنی فورسز
    • اظفر علی ناصر سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرپرسن مقرر
    • ذمے داری پوری نہیں کرسکتے تو سلمان اکرم راجہ مستعفی ہوجائیں: مشعال یوسفزئی
    • ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر آئے: جرمن وزیر خارجہ
    • امیت شاہ لوگوں کوکل کی ریلی میں شرکت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں: راہول گاندھی
    • نصیر آبادمیں 2 کاشتکاروں کو اغوا کر لیا گیا
    • کوئی کتنا طاقتور کیوں نہ ہو’ تجاوزات کیخلاف کارروائی جاری رہے گی:طلال چودھری
    • امریکہ کا 150 افغان پناہ گریزوں کو بزریعہ پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ امریکی اخبار کا دعوی
    • ٹرمپ کا کنساس اور آئیووا میں دو انتخابی ریلیاں منسوخ کرنیکا فیصلہ واپس
    • اسلام آباد:وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سعودی سفیر راجع طامی البوغیمی ملاقات کر رہے ہیں۔
    • لاہور میں ہونے والی وارداتوں کا چارٹ
    • لاہور:پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سہ ملکی ون ڈے سیریز کے فائنل میچ کے موقع پر ایک خاتون سٹیڈیم کے باہر اپنے چہرے پر قومی پرچم بنوا رہی ہے۔
    • لاہور ہائیکورٹ ‘ اراضی تنازع کے مقدمے میں دونوں اپیلیں مسترد
    • پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے جیل سے درخواست ضمانت دائر کر دی
    • معدنی وسائل پر مولانا فضل الرحمن پہلے بھی بات کرتے رہے ہیں:مولانا عطا الرحمن
    • سری لنکا پاکستان کو باہمی تجارت بڑھانے کیلئے مشترکہ اقدامات اٹھانا ہونگئے سری لنکن ہائی کمشنر
    • لاہور میں سبزی پھلوں کے نرخ آسمان کو چھونے لگے پرائس کنٹرول کمیٹیاں ناکام
    • بھارت: لڑکی پسند کی شادی کیلئے ٹاور پر چڑھ گئی، آن لائن نکاح کرانے پر نیچے اترآئی
    • لاہور:صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر دیگر کے ہمراہ پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سنیوی رتنے کو یادگاری شیلڈ دے رہے ہیں۔
    • مال بردار ٹرین کا انجن پٹڑی سے اتر گیا’ ٹرینوں کو لوپ لائن سے گزارنے کا فیصلہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    صوبہ تحریک اور سرائیکی رہنما

    By Daily Khabrainنومبر 22, 2016
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مقصود احمد دھریجہ ….بحث و نظر
    ایک سرائیکی شاعر نے کہا ہے کہ ”اساں قیدی تخت لاہور دے نی ، ساکوں اپنیں گھانڑیں وات ڈتے “ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تخت لاہور کے قیدی بعد میں ہیں، سب سے پہلے ہمارے اپنے یعنی ہمارے سیاستدانوں نے وسیب کا بیڑہ غرق کیا ہے ۔ اپنی جگہ یہ بات ٹھیک بھی ہے اور اس پر اعتراض اور تنقید ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن کچھ اس طرح کا فیشن بھی بنا دیا گیا ہے کہ ہر بات کو لے کر تنقید کی بجائے تنقیس کی جاتی ہے اور اس کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں مثبت اثر کی بجائے منفی اثر ہوتا ہے ۔
    ”خبریں“ 30 ستمبر کی اشاعت میں محترم سلیم صابر گورمانی ” سرائیکی صوبہ اور سرائیکی لیڈر شپ “ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ تحریک سرائیکی صوبہ کا نعرہ سب سے پہلے سرائیکی شعرا کرام نے لگایا اور اتنی شدت سے لگایا کہ تخت لاہور کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے کہ سرائیکی کے نامور شاعر عزیز شاہد کو صرف اپنی ایک نظم کے مصرعے جو کہ یہ تھا ”دھر دے گونگے دھرتی واسو پل دے پیر سنجانڑو“ کی وجہ سے صدارتی ایوارڈ سے محروم کر دیا گیا۔ یہ بات حالات و واقعات سے مختلف ہے ۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ صدارتی ایوارڈ کوئی نہیں ہے البتہ اکادمی ادبیات کی طرف سے ہر سال بہترین کتاب پر ایک ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ تمام زبانوں کیلئے ہے ، سندھی ایوارڈ کا نام ” شاہ لطیف ایوارڈ “ اور سرائیکی ایوارڈ کا نام ” خواجہ فرید ایوارڈ “ ہے ۔ ایوارڈ کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ اکادمی ادبیات تین جج مقرر کرتی ہے، جو کہ سال میں شائع ہونے والی کتابوں پر ان ججوں سے فیصلہ لیتی ہے ، جس کے حق میں وہ جج فیصلہ دے دیں ، اس کو ایوارڈ دے دیا جاتا ہے ۔ سرائیکی کتاب کیلئے سرائیکی ادیب اور شاعر جج ہوتے ہیں، سندھی کیلئے سندھی، بلوچی کیلئے بلوچی، پشتو کیلئے پشتون، اردو کیلئے اردو ۔ اب یہ بات سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ کسی شاعر یا ادیب کی کتاب کو ایوارڈ نہیں ملا تو گویا اس زبان کے ججوں نے نہیں دیا۔ اس میں اکادمی ادبیات کا کوئی دخل نہیں رہا۔ اس لئے یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ عزیز شاہد کو ایوارڈ سے محروم کیا گیا ۔
    محترم سلیم صابر گورمانی آگے لکھتے ہیں کہ ”سرائیکی صوبہ تحریک کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ، سرائیکی کے بڑے مگر مچھ ہیں ، کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے سینیٹ میں بل بھی پیش کر دیا تھا اور 100 میں سے 40 ووٹ بھی لے لئے تھے لیکن حالات بدلنے میں دیر کہاں لگتی ہے؟ اسی لیڈر نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر سرائیکی صوبے سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا ۔ “ گورمانی صاحب کی یہ بات بھی غلط ہے ، ان کو پتہ ہی نہیں کہ سینیٹ نے سرائیکی صوبے کا بل پاس کر دیا تھا اور سو میں سے چالیس والی بات کا کوئی وجود نہیں ۔ میں نے یہی عرض کیا کہ اگر تنقید بھی کرنی ہے تو اس کا کوئی وجود ہونا چاہئے اور کوئی سر پیر ہونا چاہئے ۔ ایسے موقع پر سرائیکی کی ایک کہاوت ہے کہ ” ہوا وچ ڈانگاں مارن دا کوئی فائدہ کائنی“ ۔
    محترم سلیم گورمانی آگے چل کر ایم این اے مخدوم خسرو بختیار کا نام خسرو پرویز لکھنے کے ساتھ ان کو سید بھی لکھا ہے ۔ میرا تعلق مخدوم خسرو بختیار کے حلقے سے ہے، وہ سید نہیں بلکہ قریشی ہیں۔ ان کے والد مخدوم رکن الدین قریشی الہاشمی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور سابق وزیر خزانہ مخدوم شہاب الدین ان کے کزن ہیں ۔ میں ایک بار پھر یہ گزارش کرتا ہوں کہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہمارے وسیب کے لوگوں نے لکھنا شروع کر دیا ہے لیکن لکھنے کیلئے مطالعہ بھی ضروری ہے اور اس بات کا علم بھی ضروری ہے کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اس میں کتنی صداقت ہے۔ اب بھی ہم سرائیکی صوبہ تحریک، اپنی سچائی اور مثبت رویوں کے ساتھ آگے بڑھا سکتے ہیں اور فیشن کے طورپر تنقید سے احتراز بہتر ہے ۔ پہلے بھی محترم سلیم گورمانی نے اس طرح کا مضمون لکھا تھا ۔ جس پر بہت اعتراضات ہوئے اور اس کا جواب ”خبریں“ میں شائع بھی ہوا۔ روزنامہ خبریں کی یہ پالیسی بہت اعلیٰ اور بہترین ہے کہ وہ لکھنے والوں کو بحث کا موقع دیتے ہیں اور اس سے پڑھنے والے بخوبی اپنی اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں ۔ اسی کا نام آزاد صحافت ہے اور اس کا کریڈٹ ادارہ خبریں اور اس کے بانی جناب ضیاشاہد کو جاتا ہے۔٭٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

      لاہور:تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

      اٹک: شادی تقریب میں ڈانس پر دولہے اور3رقاصائوں سمیت35افراد پولیس کی حراست میں۔

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.