تازہ تر ین

کبھی مطالبات کبھی سوالات کہاجایئں کیاکریں

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ کا کہنا ہے فلیٹس کی رقم کہاں سے آئی بتایا جائے ، وزیر اعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں ملکیت تسلیم کرنے کے بعد ثبوت دینا وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی ذمہ داری ہے ، کیس کی سماعت اب کل ہو گی ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے پاناما پیپرز کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ بنچ نے وزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ کے سامنے اہم سوالات رکھ دیئے۔ فلیٹس کی رقم کہاں سے آئی بتایا جائے ، وزیر اعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں ، ملکیت تسلیم کرنے کے بعد ثبوت دینا وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ نے اپنے دلائل میں ویلتھ ٹیکس گوشواروں میں وزیر اعظم نے مریم نواز کے نام خریدی گئی جائیدادوں کا ذکرتے ہوئے کہا وزیر اعظم جائیداد کا ذکر نہ کرتے تو کاغذات نامزدگی مسترد ہوجاتے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کچھ معلومات دینا چاہتے تھے جس کیلئے کالم نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا مریم نواز کی انکم ظاہر نہیں کی گئی ، اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ سلمان بٹ نے کہا 2012 کے ٹیکس فارم میں نواز شریف نے مریم نواز کا ذکر نہیں کیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا فارم میں تبدیلی 2015 میں ہوئی ، مریم کا نام کیسے نکال دیا گیا ، اس پر سلمان بٹ نے جواب دیا کہ 2012 میں جائیداد مریم نواز کے نام ہو گئی ، اس لیے ان کا نام ٹیکس فارم میں نہیں۔ وزیر اعظم نے مریم نواز کے نام جائیداد خریدی تھی جو 2011 تک منتقل نہیں ہوئی ، 2012 میں مریم نواز نے پیسے دیئے تو جائیداد ان کے نام ہوگئی ، رقم منتقلی کے شواہد موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا بینک کی دستاویزات باقاعدہ تصدیق شدہ ہونی چاہئیں۔ کیس کی سماعت کل ہو گی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain