لاہور (خصوصی رپورٹ)چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے جنید جمشید بھی ان مشاہیر میں شامل ہوگئے ہیں جو طیارہ حادثوں میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ جنید جمشید نے کئی سال قبل موسیقی کو خیرباد کہہ دیا تھا تاہم ان کے مداحوں نے ان کی اچانک وفات سے دھچکا محسوس کیا ہے اور وہ سوگوار ہیں۔مختلف ممالک کے 16صدور، وزرا اعظم اور دیگر مقتدر شخصیات طیارہ حادثات میں ہلاک ہوئیں ،عالمی شہرت یافتہ امریکی پاپ گلوکار رکی نیلسن31 دسمبر1985کو نئے سال کے پروگرام میں شرکت کیلئے ڈیلاس جاتے ہوئے طیارے کو آگ لگنے کے باعث دیگر مسافروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ ان کی 1963 میں پہلی البم کی 10 لاکھ سے زائد فروخت ہوئی تھی اور وفات تک ان کے گانوں کی البم کی ساڑھے تین کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔25اگست 2001امریکی گلوکارہ اور اداکار 22سالہ عالیہ بہاماس میں ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد واپسی پر طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئی تھی۔سیسنا 402بی نامی یہ طیارہ اڑان بھرتے ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔12اکتوبر 1997میں ایک اور معروف امریکی گلوکار جان ڈینور کیلی فورنیا کے نزدیک طیارہ گرنے کے باعث دیگر مسافروں سمیت ہلاک ہو گئے۔ انسانی غلطیوں کے نتیجے میں طیاروں کے حادثوں کا سلسلہ 1908سے ہی جاری ہے جب ہوا میں اڑنے والے طیارے کے موجد رائٹ برادران کی تجرباتی اڑان کے دوران امریکی فوجی تھامس سیلفرج اپنی جان گنوا بیٹھا تب سے لے کر اب تک مختلف ممالک کے 16صدور، وزرا اعظم اور دیگر مقتدر شخصیات طیاروں کے حادثات میں زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہیں۔ پاکستانی اور عالمی سطح کے وہ مشاہیر جو طیاروں کے حادثات میں جان گنوا بیٹھے ان میں رولز رائس کے بانی چارلس سٹیورٹ رولز 12جولائی 1910، برطانیہ کے وزیر ہوا بازی لارڈ تھامس9دسمبر 1936، سویڈن کے وزیراعظم اروڈ لنڈمین، انسولین کے شریک بانی سر فریڈرگ گرانٹ 20فروری1941، جرمنی کے مشہور ایئر لائن لفتھانزا کے بانی بیرن کارل21اگست 1942، پولینڈ کے جلاوطن وزیراعظم ولادی سلاسکورسی 4 جولاائی 1943، سویڈن کا شہزادہ ایڈولف 26جنوری1947، پاکستان کے پہلے جنرل محمد اکبر خان کے بھائی میجر جنرل محمد افتخار خان جو پاک فوج کے پہلے مقامی سربراہ نامزد ہوگئے تھے مگر قسمت کی دیوی ان پرمہربان نہ ہوئی، 13 دسمبر 1949 فلپائن کے صدر امن فگی سے 17مارچ 1957 ،وسطی افریقن ریپبلک کے صدر بارتھ لیمے 29 مارچ 1959 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈیگ ہمارسک جولڈ،17 متبر1951 عراقی صدر عبدالسلیم عارف،13 اپریل1966، بولیویا کے صدر رینے بیرینٹوس، 22اپریل1967 اسامہ بن لادن کے والد محمد بن لادن،3ستمبر1967 مڈغاسکر کے وزیراعظم جول راکوٹومالالا، 30جولائی 1976 یوگو سلاویہ کے صدر ڈیزیمل بیجڈک،18جنوری 1977 اندرگاندھی کا چھوٹا بیٹا سنجے گاندھی، 23جون 1980، پرتگال کے وزیراعظم فرانسسکو ساکارینیو، 4دسمبر1980 ایکواڈورجیمز رولڈزایگلرا، 24مئی 1981 پاکستان کے صدر اورآرمی چیف جنرل ضیا الحق، آئی ایس آئی کے سربراہ اختر عبدالرحمان، پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ رافیل، 17اگست1988 اس حادثے کو بعد میں سازش قراردیا گیا۔ رونڈی کے صدر سائیپرن نتاریمائرا اور راونڈا کے صدر جونیل ہیباریمانا، 6اپریل1994 ان کے طیارے کو راونڈا ایئرپورٹ کے قریب میزائل کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے بیٹے جان ایف کینیڈی جونیئر16جولائی1999 ،جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کپتان ہنسی کرونیئے، یکم جون2002 پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل مصحف علی میر، ان کی اہلیہ اور 16دیگر افسران ، فروری2003 میں کوہاٹ کے قریب دھند کے باعث طیارہ حادثہ کا شکار ہوئے،مصحف علی میر کی اہلیہ بلقیس مصحف علی میر ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل حسین مہدی کی ہمشیرہ تھیں۔
اب تک16صدور، وزرا اعظم و دیگر شخصیات طیارہ حادثہ میں ہلاک ہوئیں

