اسلام آباد، لاہور، پشاور (نمائندگان خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ (ن) لیگ جمہوری پارٹی نہیں بچہ جمہوری پارٹی ہے‘ (ن) لیگ جمہوری پارٹی ہوتی تو نیا وزیراعظم منتخب کرچکی ہوتی‘ نواز شریف کی آدھی کابینہ پرویز مشرف کے ساتھ تھی‘ ِ حسین نواز سولہ سال میں کیسے ارب پتی بنے‘ وہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیں‘ امید ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔ پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرادیا ہے۔ نواز شریف کی آدھی کابینہ پرویز مشرف کے ساتھ تھی۔ حسین نواز سولہ سال میں کیسے ارب پتی بنے وہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وکیل پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل تھے۔ جے آئی ٹی پر اعتراض اس لئے لگائے جارہے ہیں وہ ساٹھ دن میں کام مکمل نہ کرسکے۔ امید ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ جمہوری پارٹی ہوتی تو نیا وزیراعظم منتخب کرچکے ہوتے (ن) لیگ جمہوری پارٹی نہیں بچہ جمہوری پارٹی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات 60روز سے آگے ایک روز بھی نہیں جائیں گی، عید کے چاند کے ساتھ لوگوں کو وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کی خوشخبری بھی ملے گی۔ تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما اعجاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ میں عمران خان نہیں بلکہ نواز شریف ملوث ہیں، شریف خاندان نے پاکستانی قوم کے اربوں روپے لوٹ کر باہر منتقل کیے جس سے جائیدادیں بنائی گئیں جبکہ مہنگائی کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے، پورا کا پورا شریف خاندان مال بنانے میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں بھی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور شہروں و دیہی علاقوں میں غیراعلانیہ بجلی غائب ہونے سے روزہ داروں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا ہے کہ جے آئی ٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی پوری کوشش ہو گی کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو طول دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ نواز شریف کے اقتدار کی کشتی ڈوب رہی ہے۔ عید کے قریب سب کو وزیراعظم کی نااہل ہونے کی خوشخبری ملے گی۔ سابق گور نرپنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ کر پشن اور دہشت گردی مےں صرف نام کا فرق ہے ‘دونوں ملک کےلئے ناسور ہےں‘ملک مےں شفاف احتساب سے جمہو رےت اور پار لےمنٹ مضبوط ہوگی پوری قوم ملک مےں شفاف احتساب کے معاملے پر متحد ہے ‘حکمرانوں کو اپنی تر جےحات ملک اور قوم کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنانا ہونگےں تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے ‘تحر ےک انصاف اصولوں کے مطابق سےاست کر رہی ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہےں کےا جا ئےگا۔





































