اسلام آباد، لاہور (خصوصی رپورٹ) پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی نے اپنی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے حسین نواز کے بعد وزیراعظم نوازشریف اور ان کے صاحبزادے حسن نواز کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اور حس نواز کو نوٹسز کا اجرا کرکے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ جے آئی ٹی پہلے حسن نواز اور بعد میں وزیراعظم نوازشریف کو طلب کرے گی۔ نوازشریف اور حسن نواز کو نوٹسز کے اجراءکے ساتھ ممکنہ طور پر ان کے مالی اثاثوں سے متعلق تحقیقات کے لیے پوچھے گئے سوالات کے جوابات اور ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی جائے گی تاہم اس کا حتمی فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز ممکنہ طور پر آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہیں تاہم بیان ریکارڈ کرانے سے قبل وہ اپنی قانونی ٹیم سے حتمی مشاورت کریں گے جبکہ جے آئی ٹی نے جھوٹ کا پتہ چلانے والی پول گراف مشین حاصل کر لی، پانامہ کیس میں استعمال کی جائے گی۔ یہ انکشاف نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنگا پور میں قائم سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں 50 ارب روپے کا ایک اکاﺅنٹ بھی سامنے آیا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ پانامہ فیملی کا ہے۔ اکاﺅنٹ کی تفصیلات بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گی ایک دو دن میں تفصیل سامنے آجائے گی۔ پاناما کیس میں جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا۔ ٹیم کے 2 ارکان برطانیہ روانہ ہوگئے۔ پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا۔ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے 2 ارکان برطانیہ روانہ ہوگئے۔ یہ ارکان برطانیہ میں شریف فیملی کے لندن فلیٹس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے علاوہ لندن فلیٹس کےپراپرٹی ٹیکس کی تفصیلات بھی حاصل کریں گے جبکہ نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں سے متعلق معلومات بھی لی جائیں گی۔ دریں اثناءایک ویب سائٹ کے مطابق قطری شہزادے شیخ جاسم نے پاناما کیس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی حامی بھر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل اینکر صحافی شاہزیب خانزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شیخ جاسم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے رضامند ہو گئے ہیں۔ تاہم اب یہ طے کیا جانا باقی ہے کہ شیخ جاسم پاکستان آئیں گے یا جے آئی ٹی ان سے سوال جواب کرنے کیلئے قطر جائے گی۔
طلب





































