لندن (بی بی سی اردو ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک کا منظر 24 سال پہلے 1993 کے منظر سے بالکل ہی مختلف تھا۔ 24 برس پہلے جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی بحالی کے لیے عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ بیٹھا تھا اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے وزیراعظم اور ا±ن کی کابینہ کو بحال کیا تھا۔ وزیراعظم کی حکومت کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت ختم کردیا تھا۔ 15 جون 1993 اور 28 جولائی 2017 میں فرق یہ ہے کہ اس وقت وہ مدعی تھے اور اب وہ مدعا علیہ۔ نواز شریف اور ان کی حکومت کی بحالی کے وقت بھی شاید اتنے لوگ کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے جتنے آج ا±ن کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ سننے کے لیے موجود تھے۔ لوگ دو گھنٹے قبل ہی کورٹ روم نمبر ایک میں پہنچ گئے تھے اور وہاں پر لوگوں کا اتنا زیادہ رش تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار جو کہ وزیر اعظم کے نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں ہیں، ان کو یہ کہنا پڑا کہ سکیورٹی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ لوگ اتنے زیارہ تھے کہ سپریم کورٹ کے سکیورٹی انچارج کو ججز کے سامنے لگے ہوئے مائیک کو استعمال کرنا پڑا اور وہاں پر موجود لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ خاموشی اختیار کی جائے ورنہ زبردستی خاموش کروانا پڑے گا۔ کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کی نظریں ججز کے اس دروازے پر لگی ہوئی تھیں جن کے کھلنے کے بعد وزیراعظم سمیت بہت سے لوگوں پر سیاست کے دروازے بند ہونے جارہے تھے۔ کمرہ عدالت میں موجود لوگ دیواروں پر لگی ہوئی پاکستان کے سابق چیف جسٹس صاحبان کی تصاویر کو دیکھ رہے تھے اور ان میں سے بعض ججز پر تبصرہ کررہے تھے جنہوں نے نظریہ ضرورت کے تحت اس وقت کے فوجی آمروں کا ساتھ دیا تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ جو چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے داماد ہیں، کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ وزیر اعظم اور ا±ن کے بچوں کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے لیے آیا تو لوگوں سے کچھا کھچ بھرے ہوئے کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے یہاں پر کوئی ہے ہی نہیں۔ سسر (نسیم حسن شاہ) نے تو نواز شریف کی حکومت کو بحال کیا لیکن اب ان کے داماد (جسٹس آصف سعید کھوسہ) نے وزیر اعظم کو نااہل کردیا۔ فیصلہ سننے کے بعد اطلاعات ونشریات کی سابق وزیر مملکت مریم اوررنگ زیب اور دیگر مسلم لیگی خواتین سپریم کورٹ کی عمارت میں ایک کونے میں افسردہ کھڑی تھیں۔






































