لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ چودھری نثار کو اپنے بیان ”بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں“ کی وضاحت کرنی چاہئے۔ بچے بچے ہوتے ہیں یہ بات درست ہے لیکن اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ ”مریم نواز کا مقابلہ بے نظیر سے نہیں کیا جا سکتا“ نوازشریف اور بے نظیر بھی پہلے دن بچے ہی تھے۔ مریم نواز عملی سیاست میں آ چکی ہیں۔ بڑے بڑے جلسے کر رہی ہیں، بڑا لیڈر بننے کے مراحل طے کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار کو چاہئے تھا کہ وعدے کے مطابق نوازشریف کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے رہتے۔ وہ ایک گری ہوئی دیوار بن گئے ہیں اور الگ گروپ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو کسی مشکل میں نہیں دیکھ رہا وہ کافی صحیح پوزیشن میں ہیں۔ حسن نواز نے کہا تھا کہ ”پانامہ فیصلے کے بعد جس طرح لوگ سمجھ رہے تھے کہ پتہ نہیں کیا ہو جائے گا، یہ بڑا لمبا مرحلہ ہے اس کے کوئی فوری اثرات نہیں آئیں گے۔“ نون لیگ کی سیاست پھل پھول رہی ہے۔ ان پر کوئی قید و بند نہیں آنے والی، مریم نواز کبھی جیل نہیں جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف اور نون لیگ دونوں طرف سے ثبوت کے ساتھ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اس حلقے کو چھوڑ کر خیبر پختونخوا میں بسنے والوں کے دوبارہ ادھر ووٹ بنوا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ نے اس حلقے میں اپنے بہت سارے ووٹ خراب کئے ہیں۔ اب چھوٹی مذہبی و سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ دونوں پارٹیاں ووٹرز کو نکالنے کی بھرپور کوشش کریں گی، جیت اتنی آسان نہیں ہے۔ بظاہر نون لیگ ہارتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ ان پر حکومتی مشینری کے بھرپور استعمال کا الزام ہے۔ سنا ہے کہ حلقے میں آدھی رات کو سرکاری نکریاں مل رہی ہیں، ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ یاسمین راشد کے پاس پیسہ نہیں ہے، لگتا ہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین نے بھی اپنا بینک بند کر رکھا ہے اگر وہ پیسہ لگائیں تو پی ٹی آئی انتخاب جیت سکتی ہے۔ یاسمین راشد پر کوئی الزام نہیں ہے۔ حلقے میں سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہی ہیں جبکہ مریم نواز گھر گھر نہیں جا رہیں۔ پیپلزپارٹی کا بیان کہ ”اقتدار میں آ کر پنجاب کو سندھ جیسا بنا دیں گے“ پر تبصرہ کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ان سے درخواست ہے کہ رحم کریں پنجاب کو کبھی بھی سندھ جیسا انصاف نہ دلوائیں۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں پی پی کے امیدوار فیصل میر کی نسبت حافظ سعید کے امیدوار کا زیادہ چرچا سننے میں آتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا لاہور کو اپنا قلعہ بنا لینے کا بیان ایسا ہی ہے جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بہت سارے لوگوں کو دیئے تھے کہ یہ زمین کے قلعے تمہارے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف 35 سال سیاست میں رہے، لاہور ان کا گھر ہے۔ مریم نواز ان کی صاحبزادی ہیں، ان کا اپنا انداز ہے۔ وہ جہاں جاتی ہیں لوگ جمع ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سابق وزیراعظم کی بیٹی ہیں۔ عمران خان کی جانب سے برما مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کو خط لکھنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی وزیرخارجہ رہے ہیں شاید یہ مشورہ انہوں نے دیا ہو۔ بہر حال ایک اچھا اقدام ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے کچھ تو کیا حکومت نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ اپوزیشن لیڈر نے ایک تحریک التوا جمع کرانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر سیاسی جماعتیں کچھ کرتیں تو شاید حکومت کو بھی شرم آ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا چین کے اثرورسوخ میں ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے پالیسی ساز تھر تھر کانپتے ہیں کہ کیا بات کریں۔ چین وہاں دوسرا گوادر بنانا چاہتا ہے۔ اگر چین دوست ہے تو کیا برما میں مسلمانوں پر مظالم کی بات نہیں کرنی لیکن حکمران ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ برا نہ مان جائے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ برما میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں برما سفارتخانے کے باہر دھرنا دیا، آج اپر دیر میں اور 10ستمبر کو کراچی میں جلسہ کریں گے۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو خطوط بھی لکھے، عالمی این جی اوز سے بھی رابطے کئے۔ لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برما کے مسلمانوں کے ساتھ جو تعاون کر سکتے ہیں اسے جاری رکھا ہوا ہے۔ حکومتی کام حکومت ہی کر سکتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں گزشتہ روز برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف احتجاج کیا، برما کے سفارتخانے تک مارچ کیا اور وہاں دھرنا دیا۔ جماعت اسلامی کے احتجاج میں ہزاروں ا مجمع تھا۔ حکومت نے سارا شہر کنٹینر لگا کر بند کیا ہوا تھا۔ مٹی کے پہاڑ کھڑے کئے ہوئے تھے۔ سفارتخانے کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کئے ہوئے تھے۔ ہماری بھرپور کوشش تھی کہ پہلے مرحلے میں حکومت بیدار ہو اور پھر عالم اسلام ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جڑانوالہ اور اپر دیر میں بہت بڑا جلسہ ہے جبکہ 10 ستمبر کو کراچی میں برا مارچ کریں گے۔ برما میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف احتجاج ہمارا جاری ہے۔ ہم یہی کر سکتے ہیں کہ لوگوں کو بیدار کریں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے۔ جو ہمارے دیئے اسلامی تحریکوں سے رابطے ہیں ان کو فعال بنایا۔ راست کا کام تو ریاست ہی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردگان اہلیہ کے ہمراہ برما گئے ہیں، گزشتہ روز ان کی اہلیہ بنگلہ دیش گئی ہے جبکہ ہمارے حکمران نہیں گئے۔ تجزیہ کار خواجہ ایوب نے کہا ہے کہ این اے 120 میں 2013ءوالا الیکشن نہیں، جنگ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ نون لیگ نے اس حلقے میں اپنے 90 فیصد سے زائد ووٹ خراب کر لئے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں یہاں سے ان کو ٹکٹ ملے جن کا نون لیگ سے تعلق ہی نہیں تھا۔ یہ الیکشن این اے 122 والا الیکشن نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہزار، 2 ہزار سے پی ٹی آئی ہار بھی جائے تو وہ ہار نہیں ہو گی شاید وہ جیت بھی جائے۔ این اے 120 کے زمینی حقائق پہلے سے بہت مختلف ہیں۔






































