تازہ تر ین

کسی مذہبی جماعت کو اس چیز کی ضرورت نہیں ،وزیر داخلہ اور وزیر قانون نے وضاحت کردی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہاہے کہ اگر ہم نے انتشار کے راستے سے خود کو نہ ہٹایا تو پھر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں ہمیں کسی مذہبی جماعت سے خوف خدا اور عشق رسول کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ اسلامی ملک میں جہاد کا اعلان ریاست کا حق ہے ¾ ہر محلے اور مسجد سے جہاد کا اعلان نہیں کیا جاسکتا ¾ اسلامی ملک میں کسی دوسرے کے قتل کا فتویٰ جاری کر نے کا کسی کو حق نہیں ¾ سوشل میڈیا پر جو فتوے جاری کئے جارہے ہیں اس کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت کارروائی کریں گے ¾جھل مگسی واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان میں وزیر داخلہ نے کہاکہ اسلامی ملک میں جہاد کا اعلان ریاست کا حق ہے لہذا ہر محلے اور مسجد سے جہاد کا اعلان نہیں کیا جا سکتا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم ملک کے اندر ایسے رجحانات کی بیخ کنی کریں جس سے ہماری داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، دشمن ہمیں آپس میں لڑا نا چاہتا ہے ¾ دشمن چاہتا ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے سر پھوڑدیں اور گردنیں کاٹیں ¾اگر ہم نے انتشار کے راستے سے خود کو نہ موڑا اور آپس میں یکجہتی کا راستہ اختیار نہ کیا تو پھر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ اسلامی ملک میں کسی کو حق نہیں کسی دوسرے کے قتل کا فتویٰ جاری کرے ¾سوشل میڈیا پر جس کا دل چاہتا ہے فتوے دیدیتا ہے ¾ آئین اور قانون کے تحت اس کی گنجائش نہیں ¾ حب اللہ اور حب الرسول کی ٹھیکیداری کسی کے پاس نہیں جبکہ جو کوئی ایسی کارروائی کرے گا تو سائبر قانون کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جھل مگسی دھماکے پر وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہاکہ جھل مگسی دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، ملک حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردوں کے خلاف طول وعرض پر جنگ لڑی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشنز کے نتیجے میں بڑی حد تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی، بیرون ملک سے ہدایات لیکر مغربی سرحدوں سے دخل اندازی کرکے دشمن نشانہ بنارہا ہے تاہم دہشت گردوں کے اسپانسرز کو پیغام دیتے ہیں کہ بزدلانہ واقعات سے شکست نہیں دے سکتا۔احسن اقبال نے کہا کہ دہشت گردی کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ ہمیں متحد ہوکر ایک قوم رہنا ہے اور اس دہشت گردی کو شکست دینا ہے لیکن اگر ہم آپس میں دست و گریبان ہوگئے تو پھر ہمیں کسی دہشت گرد کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی اپنی تباہی کےلئے کافی ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب ہوئے ¾چھوٹے آپریشن ہوئے‘ دہشت گردی بیرون ملک سے ہدایات لے کر مغربی سرحدوں سے دخل اندازی کرکے ٹارگٹ بناتے ہیں ¾ دہشتگرد ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے، کسی رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ جھل مگسی واقعہ کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت سے مل کر متاثرین کےلئے امدادی پیکج دیں گے، انتظامی سطح پر جو اقدامات درکار ہوں گے وہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان نے کاغذات نامزدگی اصل حالت میں بحال کئے ہیں جیسے 2013ءمیں تھا۔ کمیٹی نے کاغذات نامزدگی کو آسان بنانے کےلئے تجاویز پر غور کیا، کوئی خفیہ نہیں تھیں، سب کمیٹی سے ہو کر اس ایوان اور اس کے ذریعے پوری قوم کے سامنے پیش کی گئی۔اس کمیٹی میں تمام جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔ کوئی بدنیتی یا بددیانتی نہیں تھی۔ خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے کے حوالے سے ہر مسلمان کا عقیدہ مضبوط ہے، اس لئے ہم سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ حلف نامے میں اگر ذرا بھی کوئی شائبہ ہے تو فتنے فساد سے بچنے کےلئے اسے بحال کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ عرصہ سے ہمارے معاشرے میں برداشت سے ہٹ کر سیاست اور مذہب کی بنیاد پر فتوے دیئے جاتے ہیں ¾اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اسلام سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ اس کےلئے سب سے بڑا ادارہ پارلیمنٹ ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین چیزوں پر ریاست کی اجارہ داری ہے، کسی اور کو حق نہیں کہ دین کے حوالے سے اپنے فرمان جاری کرے‘ کفر اور اسلام کے فتوے دے‘ یہ آئین اس ایوان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تشریح کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں قتل کا فتویٰ دینا عام ہے‘ یہ صرف تعزیرات پاکستان یا آئین کے تحت ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو فتوے جاری کئے جارہے ہیں اس کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت کارروائی کریں گے۔ ہم سب مسلمان ہیں۔ ہم سب ختم نبوت کے حلف نامے پر دستخط کرکے اس ایوان میں آئے ہیں۔ حب اللہ اور حب رسول کی کسی کے پاس فرنچائز نہیں کہ وہ سرٹیفکیٹ دےتا پھرے۔

 

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain