لاہور (این این آئی) سانحہ ماڈل ٹاﺅن میںخوف و ہراس کا رنگ بھرنے والے شہرہ آفاق کردار شاہد عزیز المعروف گلو بٹ انسانیت کے علمبردار بن کر سامنے آ گئے، گلو بٹ نے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ مجھے کیوں نکالا کا واویلا چھوڑ کر برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز بلند کریں، سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں مجھ سے جو غلطی ہوئی اس پر شرمندہ ہوں اورپوری قوم سے معافی مانگتا ہوں، شیشہ توڑنے والے کو تو 11سال قید کی سزا سنا دی گئی لیکن جنہوں نے قتل کئے وہ آزاد پھر رہے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے پر سزا کاٹنے والے شاہد عزیز المعروف گلو بٹ نے گزشتہ روز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کےلئے مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر تمام انسانیت اور خصوصاً متاثرین سے معافی مانگتا ہوں اور میں اپنے کردار پر شرمندہ ہوں۔ میں 14معصوم شہداءکے ورثاءکے ساتھ کھڑا ہوں اور ان کے ساتھ حق کی آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صر ف شیشے توڑتے تو مجھے 11 سال قید کی سزا سنا دی گئی اور میں تقریباً تین سال جیل میں رہا لیکن جنہوںنے قتل کئے وہ آزاد پھر رہے ہیں۔ میرا بھی مطالبہ ہے کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ سامنے آئے۔ اس سازش کے پیچھے جو بھی کردار تھے وہ سامنے آنے چاہئیں اور انہیں بے نقاب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی آبادی دو ارب کے قریب ہے لیکن برما کے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کر پارہے۔ ہمارے ہاتھوں میں تو چوڑیاں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈروں نے واویلا مچا رکھا ہے کہ مجھے کیوں نکالا میں انہیں کہتا ہوں اس کو چھوڑ کر برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ہمیں آگے بڑھ کر موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی وارننگ دیتا ہوں کہ مظالم سے باز آ جاﺅ ورنہ ایک مسلمان کی چنگاری سے جنگ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی جاتی اس فورم کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے ۔






































