اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد 30ہزار پاکستانی فیملی ڈرائیورز کو ملازمت سے فارغ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب حکومت نے گزشتہ دنوں خواتین کو لائسنس جاری کرنے اور ان کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے بعد مملکت میں مقیم بڑی تعداد میں افراد جوکہ وہاں پر فیملی ڈرائیورز فرائض سرانجام دے رہے تھے کو واپس بھیجے جانے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد بطور فیملی ڈرائیورز نوکریاں کررہے ہیں جن میں 30ہزار پاکستانی ہیں لیکن خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد ان تمام افراد کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی ڈرائیور نے بتایا کہ گزشتہ15سال سے ایک سعودی فیملی کے ساتھ بطور ڈرائیور کام کررہا ہے، حالیہ حکم نامے کے بعد ان کو ڈر ہے کہ جلد ہی ان کو یہاں سے فارغ کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھ کہ پاکستانی حکومت اس حوالے سے ہنگامی اور بروقت اقدامات کرے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ڈرائیوروں کو نوکریوں سے فارغ کرنے کے حوالے سے آگاہ بھی کیا جاچکا ہے۔






































