اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) حساس اداروں اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی میں متعدد افراد پر مشتمل گروہ ملوث ہے جس میں کراچی، لاہور اسلام آباد اور خلیجی ریاستوں میں مقیم افراد شامل ہیں جو سماجی رابطوں کے ذرائع فیس بک اور ٹویٹر پر مختلف ناموں سے اصلی اور فرضی اکاﺅنٹس کے ذریعے ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں جنہیں مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل کی پشت پناہی حاصل ہے۔ سپریم کورٹ سے میاں نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد میڈیا سیل کو ایوان وزیراعظم سے منتقل کر دیا گیا۔ہرزہ سرائی کے ضمن میں ایف آئی اے نے بعض افراد کو گرفتار کیا ہے جس کے ردعمل میں میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ کارکنوں کو ہراساں کرنا آزادی اظہار پر حملہ ہے حساس قومی اداروں اور عدلیہ مخالف مہم کو انہوں نے مخالفانہ سیاسی نقطہ نظر قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آزادی اظہار کا جبراً دبانا قابل مذمت ہے۔ وزارت داخلہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر گمشدہ افراد کو بازیاب کرائے۔ معلوم ہوا ہے کہ مردانہ ناموں سے متحرک افراد گرفتار ہوئے ہیں اور زنانہ ناموں سے مصروف عمل زوہا اور ثانیہ وغیرہ ابھی منظر عام پر نہیں لائی جا سکیں۔ سماجی رابطے کے ذریعے ٹویٹر پر بالخصوص اعلیٰ فوجی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والی ایک عورت کا مریم نواز کے اصلی ٹویٹر اکاﺅنٹ سے رابطے کا انکشاف ہوا ہے۔ بعض لادین عناصر افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف رہے ہیں جو اکثر و بیشتر میاں نوازشریف کی حمایت میں مواد پھینکتے رہتے ہیں بعض ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں فوج مخالف نظریات کا پرچار اور نوازشریف کی حمایت بیک وقت کرتے ہیں دونوں عناصر میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے جو پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف نفرت و بعض پر مبنی ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت انفارمیشن وار فیئر (معلوماتی جنگ) میں پاکستان کے خلاف میڈیا کمپین میں 7 ارب روپیہ جھونک چکا ہے۔ تمام تر وسائل افواج پاکستان اور پاکستان کے قومی منصوبوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اس کے باوجود اس محاذ پر بھارت کے خلاف اقدامات ناکافی ہیں۔
بھارت میں تقریباًبیس کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستانی صارفین کی تعداد 4 کروڑ چالیس لاکھ ہے جن میں سے نظریاتی سطح پر بھارت کے خلاف سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم ہے۔ بھارتیوں کی اکثریت پاکستان کے خلاف اپنی خفیہ ایجنسیوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے جو پاک فوج و عدلیہ کے مخالف اظہار خیال کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔جس سے بالخصوص بلوچستان میں جاری علیحدگی پسندوں کی مذموم سرگرمیو ںکو تقویت ملتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کو بھی متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ عناصر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد اعلیٰ عدلیہ اور افواج پاکستان کی قیادت کے خلاف ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ اداروں کے خلاف عوام کو اکسانے اور نفرت پھیلانے کی سازش کی کڑیاں مسلم لیگ ن کے مبینہ میڈیا سیل اور سماجی رابطوں کے ذرائع پر متحرک عناصر سے ملتی ہیں۔





































