لاہور (نادر چوہدری سے)صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں موبائل فونز کے ذریعے وڈیوز اور تصاویر بنا کر نیٹ پر اپ لوڈ کر نے کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ، عریاں اور نیم عریاں تصاویر اور ویڈیوز نے معاشرے کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیاہے، بغیر بتائے کسی کے موبائل سے لی گئی تصاویراور ویڈیوز کو بھی جان بوجھ کر اپ لوڈ کیا جانے لگا، موبائل شاپس اور میموری کارڈ فل کر نے والے دکاندار بھی جرم میں برابر کے شریک، رپیئرنگ کیلئے آنے والے موبائل فونز سے شہریوں کا ڈیٹا چوری کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے، لاعلمی میں ذاتی ڈیٹا کسی دوسرے کے ہاتھ لگنے اور پھر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے کی بناءپرغیرت کے نام پر قتل ،ازدواجی رشتے ٹوٹنے اور خودکشیوں کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکاڈ ۔ذرائع کے مطابق لاہور سمیت ملک بھر میں عریاں اور نیم عریاں تصاویر اور وڈیوز سمیت ذاتی تصاویر اور وڈیوز کی ایک بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوچکی ہے جس میں چند ایک نے تو سستی شوہرت حاصل کر نے کیلئے خود سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا یا کروایا ہے جبکہ ان میںوہ خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے پیار محبت کے جھانسے میں پھنس کر قابل اعتراض ڈیوز اور تصاویر بنوائیں اور پھر بعد میں راستے جدا ہوتے ہی محبوب کی جانب سے ان تصاویر اور وڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر نے کے ساتھ ساتھ دوستوں کے ساتھ شیئر کر دیا جاتا ہے جس کے بعد یہ ڈیٹا چند ہی دنوں میں ہزاروں شہریوں تک پھیل جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد بار ایسا بھی ہواہے کہ جس لڑکی کا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جاتا ہے اسکے شوہر ، بھائی ، والد یا اہل خانہ میں سے کسی کو علم ہونے کے بعد طلاق ، غیر ت کے نام پر قتل اور خواتین کی جانب سے خودکشیوں کے واقعات میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہورہا ہے ۔اس کے علاوہ تعلیمی اداروں ، فیملی کے فنکشن اور دیگر مواقع پر لڑکیوں کی جانب سے ایک دوسرے کی بنائیں جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ شیئر کرتی ہیں جس کے بعد یہ ہر خاص و عام کے موبائل میں چلی جاتی ہیں ۔ دوسری جانب وہ موبائل شاپ والے جو میموری کارڈ میں ڈیٹا اپ لوڈ کر نے کا کاروبار کرتے ہیں دکان پر آنے والے گاہکوں کے موبائل فونز سے ڈیٹا چور ی کر لیتے ہیں جن میں فون نمبرز ، تصاویر ، ویڈیوز، ایس ایم ایس اور واٹس ایپ میسجز شامل ہوتے ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کسی قسم کی کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی جارہی جس وجہ سے یہ ناسور معاشرے کو تباہ کررہا ہے ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض دفہ کسی لڑکی کی سہیلیوں میں بیٹھ کر یا اپنے کسی محبوب کے ساتھ بنائی گئی تصاویر اور ویڈیواسکے کسی محلے کے لڑکے یا جاننے والے کے ہاتھ لگ جاتی ہے جس کے بعد اسے عرصہ دراز تک جنسی طور پر بلیک میل کیا جاتا ہے جس سے شریف گھروں کی لڑکیاں ایک بار کی گئی غلطی کا خمیازہ عرصہ دراز تک بھگتی رہتی ہیں ۔





































