تازہ تر ین

اھم ترین شخصیت کی وکٹ اُڑانے کیلئے کپتان نے خاص سوئنگ سیکھنے کا اعتراف کر لیا

کراچی (وقائع نگار خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ سندھ کی سب سے بڑی بیماری آصف زرداری ہے۔ آصف زرداری کی وکٹ اڑانے کیلئے خاص سوئنگ سیکھ لی ہے اوراب ان کی وکٹ گرنے میں زیادہ دیر نہیں۔شرجیل میمن کی گرفتاری سے سارے پاکستانی خوش ہیں، سندھ کے مسائل سمجھنے کی کوشش کی ہے، یہاں کا پیسہ لوگوں پر خرچ نہیں ہو رہا، نوکریاں میرٹ پر نہیں دی جا رہیں، حکومت مجرموں کی مدد کر رہی ہے، سندھ میں زرداری مافیا بیٹھا ہے، کاشتکاروں کو محنت کا پھل نہیں ملتا۔ پانی بند کرنے کے ڈر سے کسانوں کو دباﺅ میں رکھا جاتا ہے ۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف نے ملک کو تاریخی قرضوں تک پہنچا دیا ہے۔ قوم کی نظریں چیئرمین نیب پر لگی ہوئی ہیں ۔ میٹرو بس کا کیس کھلنا اچھا اقدام ہے، اس منصوبے کی کرپشن میں شہباز شریف ملوث ہیں۔ ابھی تک چیئرمین نیب کی کارکردگی خوش آئند ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اداروں پر کرونی بیٹھائے جاتے ہیں جنہیں کہاجاتاہے کہ سندھ کی نہیں زرداری کی خدمت کریں ۔ کراچی گندگی پر بیٹھا ہے۔عمران خان نے کہا کہ صوبہ سندھ میں جو وسائل ہیں اسے لوگوں پر خرچ کیا جائے تو صوبے کے تمام مسائل ہوجائیں۔عمران خان نے کہا کہ سندھ کے وسائل سندھ کے لوگوں پر خرچ ہونے چاہئیں، عائشہ گلالئی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ عائشہ گلالئی کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف ہے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے جتنا ڈومور کرنا تھا کرلیا، امریکا کی جنگ میں پاکستان نے جتنی قربانی دی اتنا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، ڈو مور کرتے کرتے ہم نے اپنے ہے قبائلی علاقوں کو اجاڑ لیا اور انتہا پسندی بھی بڑھ گئی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی ایک جرم ہے اور ہندوﺅں سمیت تمام اقلیتی برادری والے ہماری طرح پاکستانی ہیںتاہم انتہا پسند اس غلط فہمی میں ہیں کہ مذہب کی جبری تبدیلی سے انہیں ثواب ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پی ٹی آئی منارٹیز ونگ سندھ کی جانب سے منعقد کی گئی دیوالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں دیوالی کی مناسبت سے ہندو خواتین نے اپنی خصوصی عبادت “آرتی”بھی کی اور بھجن گائے۔ جبکہ عمران خان نے اس موقع پر دیوالی کا کیک تالیوں کی گونج میں کاٹا۔ تقریب میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور پی ٹی آئی کے رہنما لیاقت جتوئی، پی ٹی آئی سندھ کے صدر رکن قومی اسمبلی عارف علوی، منارٹی ونگ سندھ کے صدر دیوان سچل، رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی، پی پی کی سابق رکن سندھ اسیمبلی نزہت پٹھان، علیم عادل شیخ، صداقت جتوئی، مبین جتوئی، ملک پہاڑ خان،پی پی کے سابق مشیر منصور شیخ، منارٹی ونگ بلوچستان کے صدرسنجے سنجوانی،عمران اسماعیل، علی زیدی، افتخار سومرو، فردوس شمیم چیلا رام، راجہ آسر داس اور دیگر رہنماﺅں کے علاوہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے دیوالی کی تقریب میں شرکت کی اور پہلی بار کراچی شہر میںمذہبی رواداری دیکھنے میں آئی۔عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں لیڈر صرف قائد اعظم محمد علی جناح کو مانتا ہوں جس نے قیام پاکستان کے بعد پہلی دستور ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہندو،سکھ، عیسائی اور دیگر تمام اقلیتیں پاکستانی ہیں اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنی عبادتگاہوں میں عبادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے اقلیتوں کے ساتھ برابری کا وعدہ کیا ہے اور ہم اس وعدے کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی نہ تو قائد اعظم کا ویژن تھا اور ہی اسلام سمیت کسی بھی مذہب میں اس بات کی اجازت ہے کہ زبردستی مذہت تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتاہے کہ کبھی اس خطے میں مذہب جبری طور پر تبدیل کرایا گیا ہو، تاہم برصغیر میں اسلام صوفی بزرگان دین اور اولیائے کرام جن میں حضرت بابا بلہے شاہؒ، حجرت داتا گنج بخشؒ، حضرت لال شہباز قلندرؒ،حضرت بابا فرید ؒ اور دیگرصوفی بزرگان نے پھیلایا۔ جن کے مزارات پر ہندو اور مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ آج بھی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند زبردستی مذہب تبدیل کراکے سمجھتے ہیں کہ بڑا ثواب ملے گا یا انہوں نے کوئی بڑا معرکہ سر کرلیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور حضور ﷺ کی ہدایات کے منافی ہے۔ جب حضور ﷺ کے چچا ان پر ایمان نہ لائے تب بھی انہوں نے دعا مانگی تھی کوئی جبر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اسلام عرب تاجروں نے پھیلایا، وہاں تو لشکر کشی نہیں ہوئی۔ انہوں نے ہندو برادری کو یقین دلایا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشو دین کا نہیں یہ قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے۔ قانون میں سب برابر ہیں اور کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے ساتھ ہیں اور ہندو تو ڈبل کمزور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں وڈیرے اقلیتوں پر ظلم کرتے ہیں اور پولیس اور غنڈے بھی وڈیرے کے ساتھ ہیں، ہم اقتدار میں آکر کمزور طبقات کو اس ظلم سے نجات دلائیں گے۔ انہوں نے کہا سندھ کی قیادت نے آج تک صوبے میں بنیادی حقوق جس میں تعلیم، صحت، سماجی بہبود، امن و امان اور انصاف شامل ہیں دلانے کی کوشش نہیں کی۔ سندھ کے کمزور طبقے کو اپنے ساتھ ملاکر اس مافیا کو شکست دیں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain