تازہ تر ین

پانی بحران شدید، نہریں منگلا سے ترسیل بند، گندم کی کاشت میں کمی کا خطرہ

لاہور (ملک مبارک سے) پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا پانی کی کمی کی وجہ سے پنجاب بھر کی نہریں بند کردی گئیں ۔ 50سالہ تاریخ میں دوسری دفعہ منگلا ڈیم کا پانی روکا گیا پانی کے ذخیرہ کےلئے موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے 9ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوگیا ۔گندم کی کاشت میں شدید کمی کا خطرہ متوقع کسانوں کو پریشانی کا سامنا ارسا اور محکمہ آبپاشی نے پانی بحران سے نمٹنے کےلئے آپس میں سر جوڑلئے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے بڑے پانی کے ذخیرے منگلا ڈیم میں پانی کی شدید کمی کی وجہ سے پانی کی رسائی کو فوری طور پر بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے بجلی کی پیدا وار میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارتی (ارسا) کا کہنا ہے کہ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے مطابق پانی کی کمی کیوجہ سے منگلاپاور ہاوس میں بجلی کی پیدوار کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے جس کا مقصد پانی کے بہاو¾ کو کنٹرول کر کے نئی فصل کو بچانا ہے ۔ منگلا ڈیم کی 50سالہ تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پانی کو روکا گیا ہے جبکہ اس سے قبل جنوری 2010 میں پانی پانی کی قلت کی وجہ سے اس کو بند کیا گیا تھا۔ ارسا ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں واٹر ریگولیٹر کے مشورے پر پانی کے بہاو¾ کو 50ہزار کیوسک تک کردیا گیا ہے کیونکہ پانی کی آمد بہت کم ہے تاکہ پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے ۔ پنجاب حکومت نے بھی موسم ربیع کی فصل کو پانی پورا کرنے کےلئے اپنے حصے کا پانی لینے سے انکار کردیا ہے صوبائی حکومت نے اپنی دائمی اور غیر دائمی کینال کو بھی بند کردیا ہے اگلے دس پندرہ دن تک اپنے حصے کا پانی نہیں لیں گے ۔ سندھ حکومت نے بھی پنجاب کی پیروی کرتے ہوئے آنے والے وقتوں میں پانی کمی کی وجہ سے اپنے حصے کا پانی 55 ہزار کیوسک سے کم کر کے 40ہزار کیوسک کر دیا ہے تاکہ شدید قلت کے وقت اپنے پانی کے بقایا حصے کا تقاضہ کر سکے حالانکہ اس وقت سندھ میں گندم کی کاشت جاری ہے لیکن اپنی اجارہ داری قائم کرنے کےلئے سب کچھ کررہا ہے کیونکہ اس وقت انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں پنجاب کی ممبر کی سیٹ خالی ہے دوسری جانب انڈس ریورسسٹم اتھارٹی نے مستقبل میں ایسی صورت حال کےلئے اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ارسا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ 10سالوں میں دریاوںکا بہاو¾ اور پانی کے زخائر میں اتنی کمی نہیں دیکھی گئی اس بار پانی کا بحران انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کر گیا ہے دریا ئے کابل میں پانی کے بہاو¾میں 4ہزار کیوسک اور دریا جہلم میں 5ہزار کیوسک تک کمی دیکھی گئی ہے ۔ جبکہ رواں ماہ کے 24دنوں میں چاروں دریاو¾ں کے بہاو¾ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 25 سے 30فیصد کمی دیکھی گئی ہے ۔ میٹرولوجیکل ڈیپارنمنٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے تین سے چار ماہ تک قدرتی بارشوں کے سلسلے مین کمی کے باعث محکمہ آبپاشی کو دریاو¾ں میں پانی کی کمی کا سامنا ہے اگر سردیوں میں قدرتی بارشیں نہ ہوئیں تو پانی کی کمی میں مزید بحران پیدا ہوگا ملک کو آنے والے ربیع کے موسم میں پانی کی کمی شدید بحران پیدا کرسکتی ہے کیونکہ خریف کے موسم میں ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے 9ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہوگیا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain